رافیل سودے ملکی مفاد قربان

کانگریس نے رافیل طیارے کے سودے پر بی جے پی کو کٹہرے میںکھڑ ا تو کر دیا لیکن 2019 کے پار لیمانی انتخابات میںاسے مدعا بنانے کی اس کی کوششیں اب تک کارگر نہیںہو پائی ہیں۔ یو پی اے میںشامل پارٹیوں نے بھی اسے مہم کی طرح نہیںلیا، بس رسمی طور پر بیان بازیوں او رمانگوں میںہی کانگریس کے ساتھ شامل رہیں۔ دوسری پارٹیاںجو یو پی اے میںشامل نہیں ہوتے ہوئے بھی کانگریس کے ساتھ ہیں، ان کی بھی بولی کم نکلی، خاموشی زیادہ چھائی رہی۔
رافیل پر چہارسو خموشی
اتر پردیش میںکانگریس کے ساتھ اتحاد بنا کراسمبلی انتخابات لڑنے والی سماج وادی پارٹی نے رافیل طیارے کے سودے کے مسئلے پر ایسا ہی رخ رکھاکہ جیسے اس کا اس سودے سے کوئی لینا دینا نہیں اور کرناٹک اسمبلی انتخابات میں سونیا گاندھی سے گلبہیاں لینے والی بی ایس پی لیڈر مایاوتی ایسے چپ رہیںکہ جیسے وہ رافیل طیارے کے سودے کے بارے میںکچھ جانتی ہی نہیں ہیں۔بائیںبازو کے رویے سے بھی ایسا لگا کہ یہ تو کانگریس کا مسئلہ ہے، لہٰذا تھوڑا بہت بول کر کنارے کا راستہ پکڑ لیا۔ رافیل سودے پر جوائنٹ پار لیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) تشکیل کرنے کی کانگریس کی مانگ ان ہی وجوہات سے متوقع مضبوطی نہیں دکھا پائی۔ اپوزیشن کا یہ بکھراؤ یا بھٹکاؤ بی جے پی کے لیے فائدے مند ثابت ہورہا ہے۔ ملک کے میڈیا کا رول بھی صحت مند غیر جانب دار سپروائزر کی طرح نہیں ہے۔کوئی سخت مخالفت میںہے تو کوئی سخت حمایت میں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے سارے ضروری مسئلے ادھورے چھوٹے جارہے ہیں۔
آپ یاد کریں، ابھی حال ہی میںلکھنؤ میںہوئے اسمارٹ سٹی مہوتسو اور انویسٹرز سمٹ میںوزیر اعلیٰ نریندر مودی نے یہ بات بار بار کہی کہ صنعت کاروںکے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میںحرج کیا ہے۔ مشکل سے دو مہینے پہلے لکھنؤ کے پبلک فورم سے مودی نے جو صفائی پیش کی، اس پر آپ پھر سے دھیان دیتے چلیں۔ مودی نے کہا تھا، ’اگر نیت صاف ہوتو صنعت کاروںکے ساتھ کھڑے ہونے سے داغ نہیںلگتا۔ ہم ان لوگوں میںسے نہیں ہیں جو صنعت کاروں کے ساتھ کھڑ ے ہونے یا تصویر کھنچوانے سے ڈرتے ہیں۔ باپو کو بڑلا کے یہاں رہنے میںکبھی جھجک نہیں ہوئی کیونکہ ان کی نیت صاف تھی۔ جس طرح ملک کو بنانے میںکسان، مزدور، کاریگر، سر کاری ملازمین، بینکر کی محنت ہوتی ہے، ویسے ہی ملک کو بنانے میںصنعت کاروںکی بھی محنت ہے۔ ہم انھیںچور ، لٹیرا کہیںگے ، ان کی توہین کریںگے؟ یہ کون سا طریقہ ہے؟ کچھ لوگ ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔ جو لوگ میرے خلاف معاملے ڈھونڈ رہے ہیں، ان کے خلاف سب سے زیادہ معاملے نکلیںگے۔ میرے کھاتے میںتو بس چار سال ہیں جبکہ ان کے کھاتے میں 70 سال ہیں۔ فرانس کے اہم اخبار ’فرانس24-‘ نے جو خبر چھاپی ہے، اسے دیکھیں تو آپ کو جولائی مہینے میںمودی کے ذریعہ دی جانے والی صفائی کے معنی سمجھ میں آئیں گے۔ ’فرانس 24-‘ اخبار نے لکھا ہے کہ ’رافیل قرار‘ کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ صنعت کار انل امبانی بھی موجود تھے۔ اس فرینچ اخبار نے حکومت ہند کے دفاعی ادارے ہندوستان ایئروناٹکس لمٹیڈ (ایچ اے ایل) کو قرارسے الگ کرکے اس میںانل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کو شامل کیے جانے پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔’ فرانس 24-‘ لکھتا ہے کہ ’رافیل قرار‘ میںہوئی یہ اہم تبدیلی حیران کرنے والی ہے۔ ہندوستان میںہندوستان ایئروناٹکس لمٹیڈ کے پاس فوجی طیارے بنانے کا پرانا تجربہ ہے۔ لیکن ’دسلاٹ‘ نے ایچ اے ایل سے قرار توڑ کر فوجی شعبے میںناتجربہ کار نجی کمپنی ریلائنس ڈیفنس سے قرار کر لیا۔’فرانس 24-‘ اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ رافیل طیارے بنانے ولی کمپنی ’دسلاٹ‘ نے ایچ اے ایل کو چھوڑ کر جس نجی کمپنی کو ترجیح دی، وہ کمپنی رافیل قرار سے محض 15دن پہلے ہی قائم کی گئی تھی۔ کمپنی کے قیام کی تاریخ وزیر اعظم نریندر مودی کے فرانس دورے سے محض 13 دن پہلے کی ہے۔

 

 

 

 

’چوتھی دنیا‘ نے 2016 میںہی رافیل پر لکھا
فرانسیسی اخبار ’فرانس 24-‘ جو آج لکھ رہا ہے، ’چوتھی دنیا‘ اسے 2016 میںلکھ چکا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کے 21 سے 27 نومبر 2016 کے شمارے میںرافیل قرار پر شک ظاہر کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ نریندر مودی کی سرکار رافیل طیارے کو اس کی طے شدہ قیمت سے دوگنے دام دے کر خرید ر ہی ہے۔ اس قرار میںانل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس لمٹیڈ کو حصہ دار بنا دیا گیا ہے، جس سے ریلائنس کمپنی ہزاروں کروڑکا منافع کمائے گی۔ رافیل قرار میں گھپلے بازی کے اندیشے کو لے کر سب سے پہلے بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے آواز اٹھائی تھی۔’ سوراج ابھیان‘ کے یوگیندر یادو اور وکیل پرشانت بھوشن نے بھی رافیل قرارپرسوال اٹھائے۔ ان کا الزام ہے کہ جس غیر ملکی کمپنی کو’ بلیک لسٹ‘ میںڈالنا چا ہیے تھا، اسی کے ساتھ مرکزی سرکار نے رافیل طیارے کا سمجھوتہ کیا ہے۔
رافیل ڈیل
قابل ذکر ہے کہ پہلی بار جب فرانس کے ساتھ رافیل لڑاکو طیاروں کی خرید کا قرار ہوا تھا، تب 126 طیاروںکو 10.2 بلین ڈالر میںخریدنا طے ہوا تھا۔ اس حساب سے ہر ایک طیارے کی قیمت 81 ملین ڈالر تھی۔ پرانی ڈیل میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی بھی شرط شامل تھی۔ مودی سرکار نے رافیل طیارے خریدنے کے لیے جو قرار کیا، اس میںصرف 36 طیاروں کو 8.74 بلین ڈالر میںخریدا جانا طے ہوا ہے۔ یعنی ایک طیارے کی قیمت 243 ملین ڈالر ہوگی، وہ بھی ٹیکنا لوجی ٹرانسفر کے بغیر۔ رافیل طیاروںکی خرید کا عمل کانگریس سرکار نے 2010 میںشروع کیا تھا۔ 2012 سے لے کر 2015 تک اس قرار پر بات چیت کا دور چلتا رہا۔ 126 طیاروں کی خرید اری کی بات چل رہی تھی اور شرط یہ تھی کہ 18 طیارے ہندوستان خریدے گااور 108 طیارے حکومت ہند کی کمپنی ہندوستان ایئروناٹکس لمٹیڈ اسے ہندوستان میںاسمبل کرے گی۔ طیارے بنانے کے لیے ہندوستان کو ٹیکنا لوجی بھی ملنے والی تھی۔ اپریل 2015 میںمودی نے پیرس میں اعلان کیا کہ حکومت ہند 16 طیاروں کے سودے کو رد کر رہی ہے۔ اس کے بدلے 36 طیارے فرانس سے سیدھے خریدے جائیں گے اور ایک بھی رافیل طیارہ ہندوستان میںنہیںبنے گا۔
یہ بات نشاندہی کرنے والی ہے کہ رافیل طیارے بنانے والی کمپنی ’دسالٹ‘بند ہونے کی کگار پر تھی۔ اس طیارے کو خریدنے والے خریدار نہیںمل رہے تھے کیونکہ اتنی قیمت پر دنیا کے کئی دیگر بہتر لڑاکو طیارے دستیاب ہیں۔ شک یہ ہے کہ ’دسالٹ‘ کو بند ہونے سے بچانے کے لیے حکومت ہند نے طیارے خریدنے کا قرار کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان کے ساتھ ڈیل ہوتے ہی ’دسالٹ‘ کمپنی کے شیئر آسمان میںاچھلنے لگے تھے۔ دفاعی خرید معاملوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ انل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس لمٹیڈ اور دسالٹ کمپنی کا جوائنٹ وینچر دسالٹ کو بند ہونے سے بچانے اور ریلائنس کو فائدہ پہنچانے کے ارادے سے ہوا۔ دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ 36 رافیل لڑاکو طیارے خریدنے سے قبل سرکار کے پاس اس سے سستے اور اچھے طیارے کا متبادل بھی تھا۔ وہ متبادل ’یورو فائٹر ٹائیفون‘ لڑاکو طیارے کا تھا، جسے 453 کروڑ روپے میں خریدا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ برطانیہ، اٹلی اور جرمنی کی سرکار نے یہ وعدہ کیاتھا کہ وہ طیارے کے ساتھ پوری ٹیکنا لوجی بھی دیںگے۔ سال 2012 میںرافیل اور یورو فائٹر دونوں لڑاکو طیاروںکو ہندوستانی فضائیہ کی ضرورتوںکے مطابق پایا گیا تھا۔ اس دور کی یو پی اے سرکار نے فرانس کے ساتھ رافیل طیارے کی خرید کو لے کر جو قرار کیا تھا، اس میںتاخیر ہورہی تھی۔ مودی سرکار نے آتے ہی اسے رد کردیا۔ جب برطانیہ، جرمنی اور اٹلی کو پتہ چلا تو انھوںنے 20 فیصد کم دام پر لڑاکو طیارے دینے کی پیشکش کی مگر سرکار نے اس کو نظرانداز کردیا۔ سرکار کے پاس ان ملکوں کا آفر جولائی 2014 سے لے کر 2015 کے آخر تک پڑا رہا۔
شک و شبہ کی وجہ
شک و شبہ کی ان ہی وجوہات کے سبب کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیاںیہ مانگ کر رہی ہیںکہ مودی سرکار رافیل قرار کی جانکاریوں کو عام کرے لیکن مرکزی سرکار دفاعی رازداری کو بنیا د بنا کر اس سے بچ رہی ہے۔ کانگریس رافیل قرار کی جانکاریاں تو مانگ رہی ہے لیکن جب مرکز میں خود کانگریس کی سرکار تھی تو کانگریس سرکار نے دفاعی سودوں کی جانکاری عام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مودی سرکار نے کہا بھی کہ وہ 2008 میںہندوستان اور فرانس کے بیچ دستخط کیے گئے سمجھوتے کے تحت رازداری کے پروویژنس پر عمل کررہی ہے۔ وزارت دفاع نے کہا رافیل طیارے کے پرزے پرزے کی قیمت بتانا، طیارے بنانے اور ’کسٹمائزیشن اینڈ ویپن سسٹم‘ کے بارے میںاطلاع دینا ملک کی فوجی تیاریوں اور دفاعی حساسیت کے مدنظر مناسب نہیںہے۔ یو پی اے سرکار نے بھی اپنے دور میںیہی رازداری برتی تھی۔ راجیہ سبھا کی دستاویز بتاتی ہیں کہ رازداری کا مودی سرکا ر کا اسٹینڈ کوئی پہلی بار نہیںہوا ہے۔ ماضی میںکانگریس کی سرکار بھی دفاعی سودوںکی جانکاری عام کرنے سے انکار کرتی رہی ہے۔ کانگریس سرکار میںوزیر دفاع رہے پرنب مکھرجی اور اے کے انٹونی نے بالترتیب 2005 اور 2008 میں دفاعی سودوں سے جڑی جانکاریاں عام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ 2005 میںپرنب مکھرجی وزیر دفاع تھے، تب کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جناردن پجاری نے دفاعی خرید سے متعلق اطلاعیںمانگی تھیںلیکن نیشنل سیکورٹی کا حوالہ دے کر پرنب مکھرجی نے مانگ ٹھکرادی تھی۔ تین سال بعد 2008 میںجب اے کے انٹونی وزیر دفاع بنے تو سی پی ایم کے دو اراکین پارلیمنٹ پرسنتا چٹرجی اور محمد آمین نے بڑے دفاعی سودوں کے سپلائر ملک اور ان سے ہوئی خرید کی جانکاری مانگی تھی لیکن انٹونی نے سپلائر ز ملکوں کا نام بتانے کے علاوہ اور کچھ نہیںبتایا تھا۔انٹونی نے اس سے زیادہ جانکاری دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ سال 2007 میںسیتار ام یچوری نے بھی اسرائیل سے میزائل خرید کی جانکاری مانگی تھی تو انھیںبھی جواب میںانکار ہی ملا تھا۔ اس دور کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے کہا تھا کہ اس خرید کا بیورا ایوان میںرکھنا قومی سلامتی کے مفاد میںنہیں ہے۔ اسی کانگریس پارٹی کے موجودہ صدر راہل گاندھی رافیل قرار کی تفصیل عام کرنے کی لگاتار مانگ کر رہے ہیں۔
رافیل لڑ اکو طیارے کو لے کر کانگریس اور بی جے پی کے بیچ جم کر تکرار ہو رہی ہے۔ اس تکرار میں بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا اور سابق مرکزی وزیر ارون شوری بھی شامل ہوکر رافیل قرار کی جانکاریاں عام کرنے کی مانگ کرنے لگے ہیں۔ رافیل طیارے خریدنے کی ڈیل 23 ستمبر 2016 کو راجدھانی دہلی میںفرانس کے وزیر دفاع جیاں ایو دریاں اور ہندوستان کے اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کے دستخط سے ہوئی تھی۔ ڈیل کے مطابق حکومت ہند 36 رافیل فائٹر جیٹ طیارے خریدے گی۔ پہلا طیارہ ستمبر 2019 تک ملے گا۔ باقی طیارے بیچ بیچ میں2022 تک ملیںگے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کا الزام ہے کہ مودی سرکار نے فرانس کی کمپنی سے 58,000 کروڑ (7.8 ارب یورو) میں36 رافیل خریدنے کا سمجھوتہ کیا جبکہ 2012 میںیوپی اے سرکار نے یہ طیارے تین گنا کم قیمت پر خریدنے کا قرار کیا تھا۔ یو پی اے سر کا رنے یہ سودا 10.2 ارب ڈالر میںطے کیاتھاجبکہ مودی سرکار اسی سودے کے لیے 30.45 ارب ڈالردے رہی ہے۔ راہل کہتے ہیںکہ سر کار نے ریلائنس ڈیفنس لمٹیڈ کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ قرار کیا۔ راہل کے ان الزاموںکے جواب میں بی جے پی کا کہنا ہے کہ اگستا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر گھوٹالے میںپوچھ تاچھ کے ڈر سے کانگریس لوگوںکا دھیان بھٹکانا چاہتی ہے۔فرانس نے کانگریس کے الزاموں کو خارج کیا ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ پورے عمل میںشفافیت برتی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میںبھی کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ یوپی اے سرکار کے دور میںرافیل لڑاکو طیارے کے لیے جو سودا کیا گیا تھا، اس وقت ہر ایک طیارے کی قیمت 520 کروڑروپے تھی لیکن وزیر اعظم مودی کے فرانس جانے پر اسی طیارے کی قیمت 1600 کروڑروپے فی طیارہہو گئی۔ راہل نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کی ملاقات فرانس کے صدر سے ہوئی تھی۔ بقول راہل، فرانس کے صدر نے ان سے کہا کہ رافیل سودے کو لے کر ہندوستان اور فر انس کے بیچ راز داری کی کوئی شرط نہیںہے۔
فرانس کا موقف
راہل گاندھی کے اس بیان کے برعکس ’انڈیا ٹوڈے‘ میںشائع اور نیوز چینل پر نشر فرانس کے صدر کا انٹرویو قابل ذکر ہے۔ اس انٹرویو میںفرانس کے صدر ایمینوئل میکروں صاف صاف کہتے ہیںکہ دونوںملکوں کے بیچ جب کسی معاملے پر بے حد ’سینسٹو بزنس انٹریسٹ‘ منسلک ہو تو اس کا خلاصہ کرنا مناسب نہیںرہتا۔ اس ڈیل میں’کامرشیل ایگریمنٹ ‘کے تحت مسابقتی کمپنیوں کو ڈیل کی باریکیوں کی جانکاری نہیںہونی چاہیے۔ لہٰذا ان پر رازداری برتنا جائز ہے۔ ڈیل کی کن باتوں کو اپوزیشن پارٹیوں کے سامنے یا پارلیمنٹ میںلانا ہے، یہ وہاںکی سرکار طے کرے۔جہاںتک قرار کا سوال ہے تو ڈیل کے تحت رافیل کے کئی کل پرزے اب ہندوستان میں ہی بنیںگے۔ رافیل طیارے سیکورٹی زمرے کے بے حد اعلیٰ درجے کے طیارے ہیں۔ موجودہ وقت میںاس کا کوئی مقابلہ نہیںہے۔ فرانس کے نظریہ سے دیکھیںتو یہ سودا ہمارے لیے بھی بہت خاص ہے۔

 

 

 

 

 

امبانی مفاد رہا غالب
سال 2001 کے بعد سے ہندوستانی فضائیہ کو تقریباً 200میڈیم ملٹی رول لڑاکو (ایم ایم آر سی اے) طیاروںکی سخت ضرورت تھی۔ اس وقت کی یو پی اے سرکار نے 2007 میںہندوستانی فضائیہ کی اس مانگ کو منظوری دے دی اور مختلف کمپنیوں سے ٹینڈر کا عمل شروع ہوا۔ ہندوستانی فضائیہ نے مختلف میڈیم ملٹی رول کامبیٹ ایئرکرافٹ بنانے والوں کے مختلف پروڈکٹس کا بڑا پیمانے پر ٹیسٹ کیا۔ اس میںامریکی ایف 16- اور ایف 18-، روس کے مگ 35-، سویڈن کے ساب گریپن سمیت یوروفائٹر ٹائیفون اور فرانسیسی دسالٹ ایوی ایشن کمپنی کے رافیل طیاروں کا ٹیسٹ کیاگیا۔ حتمی فیصلہ لینے سے پہلے چار سال تک الگ الگ آب و ہوا اور جغرافیائی حالات میںطیاروںکی معتبریت اور چلانے سے متعلق صلاحیت اور معیار جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیا گیا۔ ان ٹیسٹوں کے بعد یورو فائٹر اور رافیل کو حتمی طور پرچنا گیا۔ یوروفائٹر اور رافیل کے بیچ سخت مسابقت میںرافیل نے سب سے کم بولی لگاکر سودا جیتا۔ دسالٹ 10.2 ارب ڈالر میں126 رافیل طیارے دینے والی تھی، جس میں18 طیاروںکو ’ریڈی ٹو فلائی‘ حالت میںدیا جانا تھا اور ہندوستان ایئروناٹکس لمٹیڈ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعہ باقی کے 108 طیارے ہندوستان میںبناتی۔ دسالٹ کے ساتھ سمجھوتے میں ہندوستان میں50 فیصد ریونیو کی سرمایہ کاری کرنے کی بھی شرط تھی۔
یو پی اے سرکار کے بعد مرکز میںاقتدار میںآئی این ڈی اے سرکار کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اصل سودے کو ہی بدل ڈالا۔ مودی نے اعلان کردیا کہ ان کی سرکار 36 رافیل لڑاکو طیارے اصل سودے کی قیمت سے تقریباً تین گنا زیادہ قیمت پر خریدے گی۔ ٹیکنا لوجی ٹرانسفر اور ہندوستان میںایچ اے ایل کے ذریعہ 108 طیارے بنانا اصل سودے کا سب سے اہم پہلو تھالیکن اسے مودی نے ختم کردیا۔ ہندوستان نے جیسے ہی دسالٹ کے ساتھ قرار پر دستخط کیے، ریلائنس دسالٹ جوائنٹ وینچر نے فوری طور پر آفسیٹ کنٹریکٹ حاصل کر لیا جو حکومت ہند کی کمپنی ہندوستان ایئروناٹکس لمٹیڈ کو ملنا چاہیے تھا ۔ ریلائنس اور دسالٹ کا جوائنٹ وینچر پہلے مرحلے میںطیارے کے اسپیئر پارٹس بنائے گا اور دوسرے مرحلے میںدسالٹ ایئرکرافٹ بنانا شروع کرے گا۔
ماہرین بتاتے ہیںکہ ریلائنس کو 30,000کروڑ روپے میںسے 21,000 ہزار کروڑ روپے ملیںگے۔ خرچ الگ کرنے کے بعد ریلائنس اس سودے سے تقریباً 1.9 ارب یورو (تقریباً 1,42,97,50,00,000 ہندوستانی روپے) کا خالص منافع کمائے گا۔ دسالٹ امبانی کی حصہ داری نے سارا منظرنامہ ہی بدل ڈالا۔ دسالٹ 126 رافیل طیارے 10 سے 12ارب امریکی ڈالر یںدینے کو تیار تھا، جس میں18 طیارے ’ریڈی ٹو فلائٹ کنڈیشن‘ میںہوتے اور باقی 108 طیارے ایچ اے ایل کے ذریعہ ہندوستان میں تیار کیے جاتے۔ مودی نے اس قرار کا بنٹا دھار کردیا۔
اسی دسالٹ کمپنی نے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور ہتھیار سسٹم کے لیے اضافی پیسے کی مانگ کی اور سودا 18-22 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ دسالٹ نے ایچ اے ایل کو تکنیک دینے سے بھی انکار کردیا۔مرکزی حکومت کے گلیارے کے ماہرین کہتے ہیںکہ مودی کے اس رویے سے اس وقت کے وزیر دفاع ارون جیٹلی سے لے کر منوہر پاریکر تک ناراض تھے بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے تو وزیر اعظم کو خط لکھ کر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا اور مفاد عامہ کی عرضی دائرکرنے تک کی دھمکی دی تھی لیکن مودی نے سب کو چپ کرادیا۔ سوامی راجیہ سبھا میںنامزد ہوگئے اور ارون جیٹلی پھر منوہر پاریکر وزارت دفاع سے وداع کردیے گئے۔
بی جے پی کا کانگریس پر جوابی حملہ
رافیل قرار پر کانگریس کے الزاموںپر جوابی حملے کی بی جے پی تیاری کر رہی ہے۔ ا س تیاری میںبی جے پی سرکار کے وزیروںکو مناسب اطلاعات کے ساتھ تیار کیا جارہا ہے۔ بی جے پی سرکار کے وزیر رافیل قرار پر کانگریس کے الزاموں کی سچائی عوام کے بیچ رکھیںگے۔ مودی سرکار کے سبھی وزیروںکو گزشتہ دنوںباقاعدہ ایک پریزینٹیشن کے ذریعہ رافیل قرار سے جڑے حقائق کی تفصیل کے ساتھ جانکاری دی گئی۔ وزیر اعظم کے سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال نے خاص طور سے وزیروںکو الگ سے بریفنگ دی۔ پانچ ستمبرکی شام کو بلائی گئی منسٹر آف کونسل کی میٹنگ میںتقریباً سبھی کابینی اور وزیر مملکت موجود تھے۔ رافیل طیارے کی خریداری کو لے کر دیے گئے پریزینٹیشن میںوزیروں کو بتایا گیا کہ یہ ڈیل کس طرح سے ہندوستان کے مفاد میںہے اور رافیل طیارے آنے سے ہندوستان کی سیکورٹی سسٹم کتنا پختہ ہوگا۔
رافیل ڈیل پر اپوزیشن کے حملے کا جواب دینے کے لیے وزیروں کیے گروپ کو سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال اور ڈیفنس سکریٹری سنجے مترا نے بھی خطاب کیا۔ سیکورٹی سے جڑے دوسرے کچھ سینئر افسروںنے بھی وزیروںکے گروپ کو رافیل فائٹر جیٹ طیارے کی ڈیل کے بارے میںمعلومات دیں۔ میٹنگ ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی۔ وزیر وںکو بتایا گیا کہ رافیل قرار ہندوستان اور فرانس کی دو سرکاروں کے بیچ کی ڈیل ہے۔ اس میںکوئی پرائیویٹ پارٹی شامل نہیںہے۔ وزیروںکو بتایا گیا کہ ڈیل میںبدعنوانی کی رتی بھر بھی جگہ نہیںہے۔
رافیل کا مسئلہ سپریم کورٹ پہنچا
رافیل قرار کا مسئلہ بھی اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس اے ایم کھانولکراور جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ کی بینچ نے اس معاملے میںداخل عرضی پر سماعت کرنے کی منظوری دے دی۔ عرضی میں ڈیل کو رد کرنے اور قانونی کارروائی کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ ڈیل میںبدعنوانی کی شکایت کی گئی ہے اور کہا گیاہے کہ یہ قرار آرٹیکل 253 کے تحت پارلیمنٹ کے ذریعہ نہیںکیاگیا ہے۔ اسی طرح کی ایک دیگر عرضی میںبھی رافیل سودے کی آزادانہ طور پر جانچ کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔

 

 

 

 

 

اندیشے ہیں رافیل خرید کے طریقہ کار پر
رافیل لڑاکو طیاروں کے معیار پر کسی کو بھی کوئی شبہ نہیںہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا اندیشہ اور الزام خرید کو لے کر اپنائے گئے عمل پر ہے۔ خرید کے قرار سے پہلے رافیل طیاروںکا معیار پرکھنے فرا نس گئے لڑاکو طیاروں کے ماہر افسروں کی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ رافیل طیارہ دو انجن والا لڑاکو طیارہ ہے۔ ا س طیارے کی لمبائی 15.27 میٹر ہے اور اس میںایک یادو پائلٹ ساتھ ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔ رافیل طیارے کو اونچائی والے علاقوںمیںلڑنے میںمہارت حاصل ہے۔ یہ ایک منٹ میں 60 ہزار فٹ کی اونچائی تک جاسکتا ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ ساڑھے 24 ہزار کلوگرام وزن اٹھاکر اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رافیل طیارے کی ایندھن کی صلاحیت 4700 کلوگرا م ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 2500 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور اس کی فائرنگ رینج 3700 کلومیٹر ہے۔ اس طیارے میں1.30 کلومیٹر کی ایک گن لگی ہوتی ہے جو ایک منٹ میں125 راؤنڈ گولیاںفائر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس طیارے میںکئی دیگرمہلک قسم کی میزائل بھی لگی ہوتی ہیں۔ رافیل طیارے جدید ترین قسم کے رڈار سسٹم (تھالے آر بی ای 2-رڈار) اور جنگی نظام (تھالے اسپیکٹرا وارفیئر سسٹم) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میںآپٹرانک سکیور فرنٹل انفر ا ریڈ سرچ اور ٹریک سسٹم بھی لگا ہوتا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کے ڈپٹی چیفایئر مارشل ایس بی دیو نے بھی کہا ہے کہ رافیل ایک طاقتور طیارہ ہے اور اس سے ملک کی ہوائی سیکورٹی میںزبردست اضافہ ہوگا۔ فضائیہ کے نائب سربراہ نے یہ بھی کہا کہ سال 2030-35 تک جگوار اور میراج 2000 لڑاکو طیاروںکو بھی اَپگریڈ کر دیا جائے گا۔
رافیل جیٹ طیارے کا ہنددورہ بھی ہوگیا
رافیل سودے پر مچے سیاسی گھمسان کے بیچ ہی پہلی بار فرانس کے تین رافیل لڑاکو طیارے ہندوستان پہنچے۔ یہ تینوںرافیل لڑاکو طیارے گوالیار ایئر بیس پر تین دن رہے اور ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹوں نے اسے جانا اور اس پر اڑان بھری۔ ایسے وقت میںجب کانگریس رافیل کو لے کر ملک بھر میںہائے توبہ مچارہی ہے، فرانس کے تین رافیل لڑاکو طیارے مدھیہ پردیش کے گوالیار ایئر بیس پر پہنچے۔ فرانس فضائیہ کے تین رافیل لڑاکو طیارے آسٹریلیا میںایک بین الاقوامی جنگی مشق میں شامل ہونے گئے تھے اور واپسی میںگوالیار رکے۔ تین رافیل لڑاکو طیاروں کے علاوہ فرانس فضائیہ کا ایک ایٹلس 400- ایم ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ، ایک سی 135-ریفیولر طیارہ اور ایک ایئربس کارگو طیارہ بھی آسٹریلیا سے لوٹتے ہوئے گوالیار ایئر بیس پہنچا۔ 2015 میںبنگلورو میںہوئے ایئرو شو میںبھی رافیل لڑاکو طیاروں نے حصہ لیا تھا اور وزیر اعظم نریند ر مودی نے رافیل طیاروں کی ہوا میںقلابازیاں لینے کی بے مثال صلاحیت کا معائنہ کیا تھا۔
آسٹریلیا میںہوئی جنگی مشق میںہندوستانی فضائیہ نے بھی حصہ لیا تھا۔ اسی ساجھا مہم کے تحت ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹوںنے گوالیار میںرافیل طیارے اڑائے اور طیارے کونزدیک سے جانا۔ فرانس فضائیہ کے پائلٹوںنے ہندوستان کے میراج 2000- لڑاکو طیاروں پر ہاتھ آزمایا۔ آسٹریلیا میںہوئے ’پچ بلیک‘ جنگی مشق میںہندوستانی فضائیہ کے ٹرانسپورٹ اور سکھوئی 30- طیاروں نے حصہ لیا تھا۔ فضائیہ کیے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ رافیل طیاروںکی پہلی کھیپ 36 طیاروںکی ہوگی جو ستمبر 2019 سے ہندوستان میںآنا شروع ہوںگے۔ 36 رافیل لڑاکو طیاروں کو ہندوستانی فضائیہ کے دو اسکواڈرنوں میںبانٹا جائے گا۔ ایک اسکواڈرن پاکستان سے مقابلے کے لیے ہریانہ کے انبالہ میںتعینات ہوگا جبکہ چین کا جواب دینے کے لیے دوسری اسکواڈرن مغربی بنگال کے ہاشم آرا ایئربیس میںتعینات کیا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *