سنسنی خیزانکشاف:وہاٹس ایپ سے ہوتی تھی لڑکیوں کی بکنگ،کئی مقامی لیڈرپھنس سکتے ہیں

prostitution
نوئیڈا میں اسکولی طالبات سے بدکاری کرانے والے گروہ کا پولیس نے پردہ فاش کیا ہے۔نوئیڈا کے سیکٹر8میں چل رہے جسم فروشی کے معاملے میں ریمانڈ پرلئے گئے ملزموں نے خلاصہ کیاہے کہ وہ وہاٹس ایپ گروپ بناکر نابالغ لڑکیوں کی بولی لگاتے تھے۔وہ دیہات کی نابالغ لڑکیوں کوشارٹ اسکرٹ(ڈریس) اورٹاپ پہناکر انہیں شہری اورطالبات کے طورپر گراہک(کسٹمر) کے سامنے پیش کرتے تھے۔اونچی بولی کے حساب سے 10سے35ہزاررپے میں ایک رات کیلئے لڑکیوں کوبھیجا جاتاتھا۔اس دھندے میں مقامی لیڈروں کے نام سامنے آئے ہیں۔
سیکٹر20پولس نے سیکٹر8اور15میں رہنے والے ڈاکٹرسنتوش، محمدحامد عرف ماما، شوربھ اورپریتی کونابالغ لڑکیوں سے جسم فروشی کرانے کے الزام میں گرفتارکیاتھا۔یہ لوگ سیکٹر 15میٹرو اسٹیشن پرنابالغ لڑکی سے بدکاری کرانے کیلئے اسے کہیں لے جارہے تھے۔سنتوش اس نے نابالغ لڑکی کوایک لاکھ روپے میں بیچ دیاتھا۔ پولس ہفتہ کوگرفتارکرنے کے بعد چاروں ملزموں کوکورٹ میں پیش کیا اورکورٹ ان کے 60گھنٹے کی ریمانڈ پرلینے کیلئے کہا۔عدالت نے ریمانڈ منظورکرلیا۔پولس ملزموں سے ریمانڈ پرلیکر پوچھتاچھ کررہی ہے۔
پولس ذرائع کے مطابق، ملزموں نے پیرکوکئے چونکانے والے خلاصے کئے ہیں۔ ملزموں نے بتایاکہ وہ نیپال، بنگال، پروانچل، بہارکے دیہاتوں سے لڑکیوں کوطرح طرح کے لالچ دیکر اورنوکری کا جھانسا دیکر لاتے تھے۔دیہات کی ان پڑھ(جاہل) نابالغ لڑکیوں کوشارٹ اسکرٹ پہناکر گراہکوں کے سامنے شہری اورلالج کی طالبہ کے طورپر پیش کیا جاتاتھا۔اس سے گراہک ان کے اونچے دام طے کرتے تھے۔ملزموں کا نیٹ ورک پورے دہلی این سی آر میں پھیلا ہواہے۔
پولیس نے گرفتاری کے بعد چوکانے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گروہ وہاٹس ایپ سے کسٹمرس کو فوٹو بھیج کر لڑکیوں کو پسند کرواتا تھا۔ بکنگ کنفرم ہونے پر پے ٹی ایم کے ذریعے پیمنٹ بھی ہوتی تھی۔
نوئیڈا سیکٹر 8 میں رہنے والے ایک شخص نے اپنی نابالغ بچی کی گمشدگی کی رپورٹ سیکٹر ۔20 تھانے میں درج کرائی۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے جب پولیس نے پورے معامے کی جانچ کی تو انکشاف ہوا کہ نوئیڈا کے ہی رہنے والے ایک گروہ نے اس بچی کو اغوا کیا تھا اور اسے بدکاری کرانے کے نام پر کہیں اور بھیج دیا تھا۔ جب پولیس نے اس گروہ کو دھر دبوچا تو پتہ چلا کہ اس نابالغ بچی کا سودہ ایک لاکھ روپئے میں ہوا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کی نشادہی پر اس نابالغ بچی کو بی بر آمد کر لیا۔
پوچھ گچھ میں پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ کافی طویل وقت سے اس دھندے میں شامل ہیں۔ پکڑے گئے چار مجرموں میں ایک خاتون بھی شامل ہے اور یہ لوگ معصوم نا بالغ بچیوں کو بہلا۔ پھسلا کر اغوا کر لیتے تھے۔ اس کے بعد انہیں موٹی رقم میں بیچ دیا کرتے تھے۔
ملزمین گروہ جسم فروشی کیلئے 15سے 50سال کی خواتین رکھتے تھے۔ لیکن ان میں نابالغ لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی۔پولس نے ملزموں کے چنگل میں پھنسی لڑکیوں کوباہرنکال کران کے اہل خانہ تک پہنچانے کا کام شروع کردیاہے۔سیکٹر15واقع جس گیسٹ ہاؤس میں لڑکیوں کوبھیجاجاتاتھا، پولس نے اس کے مالک کوحراست میں لے لیا ہے۔پولس نے گیسٹ ہاؤس سے سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت کئی قابل اعتراض سامان برآمدکیاہے۔
ذرائع کے مطابق، اس دھندے میں کئی مقامی لیڈرپولس کی رڈار پرآگئے ہیں۔پولس پیرکوکئی لیڈروں سے پوچھتاچھ کی۔ لیکن ابھی پولس لیڈروں کے نام بتانے سے بچ رہی ہے۔ملزمین لڑکیو ں کے فحش ویڈیوبنا لیتے تھے۔ ویڈیووائرل کرنے کی دھمکی دے کر ان جبراً بدکاری کرایاجاتاتھا۔ملزمین گراہکوں کے ساتھ فحش فوٹو بھی بھیجتے تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *