جموں و کشمیر میں پولیس اور جنگجو ایک دوسرے کے اہل خانہ پر نشانہ خطرناک رجحان

جنوبی کشمیر میں بالخصوص پچھلے دو سال سے جاری پر تشدد حالات نے اب بھیانک شکل اختیار کرنا شروع کردیئے ہیں۔گزشتہ ہفتے وادی کے اس خطے میں سرگرم جنگجوئوں اور پولیس نے ایک دوسرے کے افراد خانہ کو نشانہ بنایا۔ جنگجوئوں اور پولیس کے نہتے رشتہ داروں کو ہدف بنانے کے تازہ واقعات پر سنجیدہ فکررکھنے والے طبقے مضطرب ہوگئے ہیں جبکہ مبصرین اسے ایک خطرناک صورتحال سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگجوئوں اور پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ اور دیگر رشتہ داروں کو اس جنگ سے دور نہیں رکھا گیا ، یعنی انہیں انتقام گیری کا نشانہ بنانا جاری رکھا گیا تو اس معاشرے کو خانہ جنگی میں مبتلا ہوجانے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔
29اگست کو فورسز اور پولیس نے ایک مشترکہ کارروائی میں جنوبی ضلع پلوامہ میں ایک معروف ملی ٹینٹ کمانڈر ریاض نائیکو کے گھر پر چھاپہ مار کر اسکے بزرگ والداسداللہ نائیکو کو گرفتار کرلیا ۔ 29اور30اگست کی درمیانی شب فورسز نے جنوبی ضلع شوپیاں کے اشمجھی پورہ اور نازنین پورہ نامی علاقوں میں بالترتیب شاہجہاں اور سید نوید نامی ملی ٹینٹوں کے گھروں کو نذر آتش کردیا۔ اس واقعہ کے ایک دن بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے چھوٹے بیٹے سید شکیل ، جو سرینگر کے سب سے بڑے طبی ادارے سکمز میں بحیثیت لیب ٹیکنشن کام کررہا ہے،کو گرفتار کرلیا ۔ این آئی اے گزشتہ سال سید صلاح الدین کے بڑے بیٹے سید شاہد یوسف کو بھی گرفتار کرچکی ہے ۔ شاہد سرینگر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں ملازم تھا اور اب وہ پچھلے ایک سال سے تہاڑ جیل میں ہے۔ دراصل این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں حالات خراب کرانے کے لئے فنڈنگ کی جاتی رہی ہے ۔ اس ضمن میں این آئی اے نے ایک کیس درج کرکے7 حریت لیڈروں سمیت کم از کم10 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ سبھی لوگ پچھلے ایک سال سے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی نے اس کیس سے متعلق عدالت میں چارج شیٹ پیش کیا گیا ہے تاہم ابھی تک اس کیس میں کوئی قابل ذکر شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ کشمیر ی مزاحتمی قائدین کا الزام ہے کہ حکومت ہند این آئی اے کو سیاسی انتقام گیری کے لئے استعمال کررہی ہے اور جنہیں گرفتار کیا گیا ہے ، وہ بے قصور ہیں ۔

 

 

 

اغوا کرنے کے واقعات
اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں۔29، 30اور31اگست کو جنوبی کشمیر کے کولگام اور پلوامہ اضلاع میں جنگجوئوں نے کم از کم گیارہ افراد کو اغوا کرلیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا کوئی نہ کوئی نزدیکی رشتہ دار پولیس میں کام کرتا ہے۔ مثال کے طور ہر 30اگست کی شام کو کولگام کے آرونی علاقے میں ایک پولیس اہلکار کے بیٹے زبیر احمد کو اغوا کرلیا ۔ آرونی میں ہی ایک اور پولیس اہلکارکے بھائی عارف احمد کوجنگجو اسکے گھر سے اٹھا کر لے گئے ہیں۔کھار پورہ کولگام میں ایک اور پولیس اہلکار کے بیٹے فیضان احمد کو اغوا کیا گیا۔یاری پورہ کولگام میں ایک پولیس اہلکار کے بیٹے سمیر احمد راتھر کو جنگجوئوں نے اپنی تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر پہنچا دیا ہے۔کتہ پورہ کولگام میں ایک ڈی ایس پی کے بھائی گوہر احمد کواٹھا لیا گیا ۔ پلوامہ کے ترال قصبے میں ایک پولیس اہلکار کے بیٹے نثار احمد کو جنگجو اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ ترال قصبے میں ایک اور پولیس اہلکار کے بیٹے عاصف احمد کو اغوا کیا گیا ۔ جنوبی ضلع اننت ناگ کے زِرپورہ بجبہاڑہ میں 31اگست کی شام کو جنگجوئوں کا ایک گروپ سی آر پی ایف کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص فاروق احمد بٹ کے گھر میں گھس گئے اور اسکے بیٹے شبیر احمد بٹ کو اٹھا کر لے گئے ۔اس طرح سے کم از کم 11افراد کو جنگجو چند دنوں میں اغوا کرچکے ہیں ۔
صاف ظاہر ہے کہ وادی میں ایک دوسرے سے بر سر پیکارپولیس اور جنگجوئوں نے ایک دوسرے کے افراد خانہ اور رشتہ داروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔حالانکہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔1990ء میں وادی میں مسلح تحریک بپا ہوجانے کے بعد پولیس افسران کی جانب سے جنگجوئوں کے افراد خانہ اور قریبی رشتہ داروں کو ہراساں کرنے اور پولیس تھانوں پر بلانے کا سلسلہ شروع ہوا۔پولیس آئے دن جنگجوئوں کے قریبی رشتہ داروں کو تھانوں پر بلا کر انہیں ہراساں کرتی تھی ، ان کی مار پیٹ کرتی تھی اور بسا اوقات انہیں ہفتوں اور مہینوں قید کرلیا جاتا تھا۔
اس کے ردعمل میں جنگجوئوں پولیس افسران کے گھروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا ۔ لیکن بہت جلد ایسا لگا کہ فریقین نے ایک دوسرے سے ملے بغیر اور کچھ کہے سنے بغیر ایک دوسرے کے کنبوں اور رشتہ داروں کے خلاف کارروائیاں روک دیں ۔ تاہم حکومتی سطح پر وادی میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوششیں چند سال بعد ہی اس وقت منظم طریقے سے شروع کی گئیں ، جب ’’اخوان ‘‘ نام سے ایک مسلح گروپ قائم کیا گیا ، جس میں زیادہ تر سرینڈرڈ جنگجوئوں کو شامل کیا گیا ۔ اس گروپ کو فوج کی چتھر چھایا میں پنپنے کا موقعہ دیا گیا اور بالاخر اسی گروپ نے جنگجوئوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں انجام دیں ۔
اس گروپ میں شامل افراد کو مقامی اصطلاح میں اخوانی پکارا جانے لگا۔ اخوانیوں نے وادی بھر میں جبر و تشدد کا ایک دور شروع کیا۔ انہوں نے سینکڑوں معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ان سرکاری بندوق برداروں کو نہ صرف فوج ، پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوںکا تعاون اور پرٹیکشن تھا بلکہ انہیں ریاست اور مرکزی سرکار کی بھرپور پست پناہی بھی حاصل تھی ۔ اس ضمن میں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ ان سرکار نواز بندوق برداروں کے ایک سرکردہ لیڈر غلام محمد میر عرف ’’ممہ کنہ ‘‘ کو سال 2010میں پدم شری کا ایوارڈ دیا گیا ۔ حد یہ ہے کہ ’’ممہ کنہ ‘‘کو ’’خدمات ‘‘ کے عوض یہ ایوارڈ دینے کی سفارش فاروق عبداللہ نے کی تھی ۔
اخوانیوں کا دور تو کشمیر میں ختم ہوگیا ہے۔ لیکن آج بھی اس نام سے ہی لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب مودی سرکار کے قیام کے بعد ( اُس وقت کے )وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کشمیر میں انسداد ملی ٹنسی کے لئے کشمیریوں کو ہی استعمال کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ’’کانٹے سے کانٹا‘‘ نکالا جائے گا، تو وادی میںاس پر خوف و دہشت کی لہر پھیل گئی ۔ ایسا لگنے لگا کہ شاید حکومت ایک بار پھرکشمیر میں ملی ٹنسی سے نمٹنے کے لئے مقامی لوگوں کو استعمال کرنے کے لئے ’اخوان‘ جیسا کوئی گروپ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جو فوج اور فورسز کی چھتر چھایا میں کام کرے گی ۔

 

 

 

آج جنوبی کشمیر میں پولیس اور جنگجوئو ں کی جانب سے ایک دوسرے کے کنبوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ نہیں ہوگا لیکن اسکے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔ اگر اس طرح کی کارروائیوں کو فروغ ملا تو وادی میں خانہ جنگی جیسی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
جموں وکشمیر میں فی الوقت پانچ لاکھ سے زائد فوج اور پیرا ملٹری فورسز تعینات ہیں۔ یہ سیکورٹی ادارے پچھلے 30 سال سے ریاست میں بالخصوص وادی میں ملی ٹنسی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اس عرصے میں کبھی فورسز کے خلاف جنگجوئوں کا دبائو بھاری لگا اور کبھی جنگجوئوں کے خلاف فورسز کا پلڑابھاری رہا ۔ طرفین گزشتہ 30 سال سے ایک دوسرے کو ہدف بنارہے ہیں اور ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اب اس جنگ زدہ خطے میں فریقین نے ایک دوسرے کے نہتے رشتہ داروں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ، جو ایک خطرناک طریقۂ کار ہے اور اسکے بھیانک نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس سلسلے کو روکنا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔ بلکہ حکومت ہی اس سلسلے کو روکنے کے اقدامات کرسکتی ہے۔ بلکہ حکومت کو سیکورٹی ایجنسیوں کو اس بات کا پابند بنانا چاہیے کہ وہ جنگجوئوں کے گھروالوں کو نشانہ نہ بنائیں تاکہ انہیں بھی پولیس میں کام کرنے والے لوگوں کے افراد خانہ کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کا جواز نہیں ملے۔ کشمیری معاشرہ ویسے ہی تین دہائیوں میں لٹتا پٹتا رہا ہے ۔ یہ معاشرہ خانہ جنگی جیسے ماحول کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *