اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کے مطالبہ کو لے کر دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل

Asaduddin_Owaisi
رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین(اے آئی ایم آئی ایم)کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کی مانگ کولیکر ایک عرضی دہلی ہائی کورٹ میں دائرکی گئی ہے۔دائر عرضی میں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کا ایک سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کے مسئلہ کو اٹھاتی ہے اور مذہب کے نام پر ووٹ مانگتی ہے۔ہائی کورٹ اس معاملے پراگلے ہفتے سماعت کرے گی۔
شیوسینا کی تلنگانہ یونٹ کے صدر کی طرف سے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کے 19 جون 2014 کے حکم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو تلنگانہ کی ریاستی سطح کی پارٹی کی منظوری دی گئی تھی۔
درخواست گزار تروپتی نرسنگھ مراری نے دعوی کیا کہ اے آئی ایم آئی ایم کا آئین اور کام سپریم کورٹ کے طے کردہ رہنما خطوط کے خلاف ہے اور پارٹی کو نااہل ٹھہرایا جانا چاہیے کیونکہ اس کا مقصد سیکولرازم کے تصور کے خلاف ہے۔ یہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی ضروریات میں سے ایک ہے۔
درخواست تلنگانہ کے شیوسینا کے رہنما ٹی این مراری کے ذریعہ دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم سیکولرزم اور سوشلزم کے اصولوں کو نہیں مانتی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم سیکولرزم کے خلاف ہے۔ لہٰذا ان کی سیاسی جماعت کی منظوری کورد کیا جانا چاہئے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی پارٹی کا رجسٹریشن کرتے وقت الیکشن کمیشن اس کے عہدیداروں سے اس بات کا حلف نامہ لیتا ہے کہ وہ ملک کے آئینی اقدار پر عمل کریں گے۔ درخواست میں کہا گیا ہے اے آئی ایم آئی ایم کسی مخصوص مذہب کے فروغ کے لئے کام کرتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *