اسمبلی انتخابات جمہوریت مخالف ہے فرضی ووٹروں کا بڑھتا رجحان

سرکار مخالف لہر کا سامنا کررہی بی جے پی اب مدھیہ پردیش اور راجستھان میں فرضی ووٹروں میں ہی اپنی جیت کا مستقبل دیکھ رہی ہے۔ دونوں ریاستوں میں پارٹی کی کھسکتی عوامی مقبولیت کی وجہ سے پارٹی فریب کا ٹیڑھا جال بن رہی ہے۔ سرکار کی حمایت یافتہ سازش کی یہ آنچ دھیرے دھیرے سینٹرل الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ تک پہنچ چکی ہے جس سے ان دونوں ریاستوں میں انتخابات کے پہلے ہی سیاسی گھمسان تیز ہونے کے آثار پید اہو گئے ہیں۔
کانگریس کا الزام ہے کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان ، ان دونوں ریاستوں میں گزشتہ ساڑھے چار سال میں ایک کروڑ سے زیادہ فرضی ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ میں منصوبہ بند طریقے سے درج کئے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 60 لاکھ فرضی ووٹر مدھیہ پردیش میں اور 40 لاکھ سے زیادہ ووٹر راجستھان کی ووٹر لسٹ میں جوڑے گئے ہیں۔ یہ فرضی ووٹر خاص طور سے ان اسمبلی حلقوں میں بڑھائے گئے ہیں جہاں فی الوقت کانگریس مضبوط حالت میں ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ فرضی ووٹر بی جے پی کی ایک سوچی سمجھی چال کے تحت لسٹوں میں جوڑے گئے ہیں۔ بی جے پی دراصل انہی فرضی ووٹروں کے سہارے دونوں ریاستوں میں انتخابی مراحل پار کرنا چاہتی ہے۔
پچھلے 3 جون کو مدھیہ پردیش کانگریس کے ایک وفد نے چیف الیکشن کمشنر او پی راوت سے مل کر شکایت کی کہ ریاست کے 230 اسمبلی حلقوں کی ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر گڑبڑیاں کی گئی ہیں۔ اس وفد میں شامل کمل ناتھ اور جیوتی رادتیہ سندھیا نے الزام لگایا کہ ان ووٹر لسٹوں میں 60-65 لاکھ ووٹروں کے نام غلط طریقے سے جوڑے گئے ہیں۔ زیادہ تر نام لسٹ کے الگ الگ حصوں میں بار بار درج کئے گئے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ بھنڈ کی ووٹر لسٹ میں درج 15 ہزار ووٹر فرضی ہیں۔ اس الزام کے ثبوت کی شکل میں کانگریس نے 250 ووٹروں کے نام کی ایک لسٹ بھی الیکشن کمیشن کو سونپی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے ریاست کے 53 اسمبلی حلقوں میں 17 لاکھ سے زیادہ ایک جیسے نام کی شناختی کارڈ ہونے کی شکایت بھی الیکشن کمیشن سے کی ہے۔
کانگریس کے فرضی ووٹروں کے بارے میں کی گئی شکایت ہوا ہوائی نہیں ہے۔ بتاتے ہیں کہ کارکنوں کی شکایت کے بعد کانگریس نے فرضی ووٹروں کے بارے میں ایک پرائیویٹ ایجنسی ’دی پالٹیکس ڈاٹ اِن‘ سے باقاعدہ اس معاملے کی جانچ کرائی۔ اس ایجنسی کی رپورٹ آنے کے بعد تو جیسے کانگریس کے پائوں تلے سے زمین ہی کھسک گئی۔ جانچ ایجنسی کے نتیجوں سے یہ سامنے آیا کہ ایک ہی نام، فوٹو اور شناختی کارڈ نمبر والے ووٹر کا نام، لسٹ میں درجنون بار درج ہے۔ مثلاً ریاست کے بھوج پور اسمبلی حلقہ سے حلقہ نمبر 245 میں ووٹر آئی ڈی کارڈ نمبر 329740 پر درج دیو چندر اسی بوتھ پر شناختی کارڈ نمبر 321724 کے مکیش کمار ہو گئے ہیں۔ اسی حلقہ کے بوتھ نمبر 199 کے ووٹر آئی ڈی نمبر 3488426 کے ووٹر کا نام کہیں فوزیہ تو کہیں پرمیلا سمیت 36 ناموں سے درج ہے۔ کانگریس نے ریاست کی ووٹر لسٹ میں کئے گئے اس منصوبہ بند ہیر پھیر کے ثبوت کے طور پر الیکشن کمیشن کو دستاویزوں کا پلندہ بھی سونپا ہے۔ کانگریس لیڈروں نے اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میںریاست کی آبادی تو 24فیصد بڑھی ہے لیکن ووٹروں کی تعداد میں تقریباً 40 فیصد کا اضافہ ہو گیاہے، جو یکدم غیر متوقع اور غیر فطری ہے۔

 

 

 

 

بہر حال کانگریس کی اس شکایت کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی تیزی دکھاتے ہوئے کمیشن کی دو رکنی چار ٹیمیں 8جون کو ریاست کے نریلا، بھوجپور، شیونی اور ہوشنگ آباد اضلاع میں بھیجی۔ فوری طور پر جانچ کے بعد الیکشن کمیشن نے یہ تو کہہ دیا کہ کانگریس کے الزامات میں کچھ خاص سچائی نہیں ہے لیکن الیکشن کمیشن یہ بھانپنے میں کامیاب رہا کہ ریاست کی سطح پر سرکاری مشینری کی سانٹھ گانٹھ سے ووٹر لسٹوں میں کچھ دھاندلی ضرور ہوئی ہے۔ شاید اسی لئے الیکشن کمیشن نے ریاست کے 91 اسمبلی حلقوں میں ووٹر لسٹوں کا گھر گھر جاکر ویریفکیشن کرانے کا حکم ریاستی سرکار کو دیاہے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران ریاست میں ہوئے ووٹر لسٹوں کی ریویزن میں ہی 24 لاکھ سے زیادہ فرضی ووٹر پائے گئے ہیں۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے ذریعہ جاری لسٹ کے مطابق جنوری 2018 میں ریاست میں کل 5.07ووٹر رجسٹرڈ تھے جو 31جولائی کو جاری ریوائزڈ لسٹ میں گھٹ کر 4.94 کروڑ رہ گئے ہیں۔ یہ صورت حال تب ہے جب ریویزن کے دوران 10.69 لاکھ نئے ووٹروں کے نام بھی لسٹوں میں جوڑے گئے ہیں۔
چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ جن پانچ اسمبلی حلقوں میں سب سے زیادہ فرضی ووٹر پائے گئے ہیں، وہ سبھی سیٹیں بی جے پی کے قبضے والی ہیں۔ان میں سے ہجور (بھوپال ) میں سب سے زیادہ 36205، اندور 1 میں 33073، اندور 5 میں 31789، نریلا میں 29606 اور بھوپال جنوب مشرق میں 25820 ووٹرس فرضی پاے گئے ہیں۔ دوسری طرف فرضی ووٹروں کے معاملے کو لے کر بچائو کے موڈ میں آئے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کا کہناہے کہ ووٹر لسٹوں کا ریویزن ایک پروسیس ہے ۔ دراصل ووٹر لسٹوں سے ہٹائے گئے نام مرنے والے، نقل مکانی کرنے والے اور ڈوپلی کیٹ ووٹروں کے ہیں اور انہیں فرضی بتانا مناسب نہیں ہے۔
سیاسی حساب سے دیکھیں تو پچھلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی 230 میں سے 165 سیٹوں پر کامیاب رہی تھی۔ باقی میں سے 58 سیٹیں کانگریس اور 4سیٹیں بہو جن سماج پارٹی کے کھاتے میں آئی تھی۔ ان میں سے 50سیٹیں ایسی ہیں جہاں ہار جیت کا فرق پانچ ہزار سے کم ووٹوں کا رہا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا قیاس ہے کہ بی جے پی فرضی ووٹروں کے سہارے انہی 50سیٹوں پر دائوں کھیلنا چاہتی ہے۔

 

 

 

فرضی ووٹروں کی لمبی ہوتی فہرست کا سلسلہ مدھیہ پردیش تک ہی محدود نہیں ہے۔ گزشتہ 14 اگست کو راجستھان کے سابق وزیرعلیٰ اشوک گہلوت، راجستھان کانگریس کے صدر سچن پائلٹ اور سابق مرکزی وزیر سی پی جوشی نے چیف الیکشن کمشنر سے شکایت کی کہ ریاست کے 4.75 کروڑ ووٹروں میں سے 42 لاکھ ووٹر فرضی یا ڈپلی کیٹ ہیں۔ ووٹر لسٹوں کی ایک پرائیویٹ ایجنسی سے جانچ کرانے سے چونکانے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ کانگریس کے راجستھان میں نائب انچارج ویویک بنسل نے خلاصہ کیا کہ ریاست کی 200 اسمبلی سیٹوں کی ووٹر لسٹوں میں 10.44لاکھ ووٹروں کے نام، پتے اور عمر ایک جیسے ہیں۔ اسی طرح 91261 ووٹروں کا ایپک نمبر اور اسمبلی حلقے مساوی ہے۔یہی نہیں، سیکر ضلع کی دنت رام گڑھ سیٹ کے بوتھ نمبر 75 میں مکان نمبر 1312 پر 646 ووٹر درج ہیں۔ لاقانونیت کی ایک اور علامت دیکھئے۔ ریاست کے شری گنگا نگر ضلع کی شاردول شہر سیٹ کی ووٹنگ لسٹ میں 84 ایسے نام درج ہیں، جن سبھی کا نام انگریز ہے، اجمیر شمالی سیٹ کے 109 اور اجمیر جنوب اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ کے 144 ایسے ووٹر ہیں جن کے شناختی کارڈ نمبر ایک جیسے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان ووٹروں کے نام لسٹ میں کئی کئی بار ارادتاً جوڑے گئے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار سال میں ریاست کی 200 سیٹوں کی ووٹر لسٹوں میں 70 لاکھ ووٹر بڑھے ہیں۔ پانچ سال میں 15فیصد ووٹروں کا اضافہ غیر متوقع ہونے کے ساتھ ہی کسی سنگین گڑبڑی کی طرف اشارہ کرتاہے۔
بہر حال راجستھان اور مدھیہ پردیش میں فرضی ووٹروں کے ایشو پر کانگریس نے سپریم کورٹ میں بھی دستک دے دی ہے۔ کمل ناتھ اور سچن پائلٹ کی طرف سے دائر عرضی پر جسٹس اے کے سیکری اور اشوک بھوشن کی بینچ نے دونوں ریاستوں کے الیکشن یوٹیلیٹز کو 31 اگست تک جواب دینے کو کہا ہے۔ اس بیچ الیکشن کمیشن نے بھی ووٹر لسٹوں میں گڑبڑی کی جانچ کرانے کی ہدایت جاری کر دیئے ہیں۔قیاس یہ لگایا جارہا ہے کہ اگر دونوں ریاستوں کی کی ووٹر لسٹوں کا ٹھیک ڈھنگ سے ریویزن کرلیا گیاتو بی جے پی سرکار کا نیا ووٹر گھوٹالہ سامنے آجائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *