بھارت بند:عوام اوراپوزیشن مل کر2019میں مودی کوہرائیں گے:راہل گاندھی

rahul-gandhi
پٹرولیم اور صارفین کی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف کانگریس کے بھارت بندکا اثرآج صبح سے ہی دیکھاجارہاہے۔ جگہ جگہ اپوز یشن پارٹیوں کے لیڈرا ن اورکارکنان مودی سرکار کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔کانگریس نے پٹرولیم اور عام صارفین کی اشیا کی آسمان چھوتی قیمتوں اور امریکی ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی ریکارڈ کمی کے خلاف بھارت بندکا اعلان کیا ہے۔ بند کو 21 سیاسی پارٹیوں نے اپنی حمایت دی ہے۔کانگریس صدرگاندھی دہلی میں راج گھاٹ سے رام لیلا میدان تک اپوزیشن پارٹیوں کی ریلی کی قیادت کر رہے ہیں۔وہ کیلاش مانسروور کی یاتراسے آج صبح ہی لوٹے ہیں اورسیدھے ریلی میں شریک ہوئے۔
اس موقع پرراہل گاندھی نے کہاکہ عوام اوراپوزیشن مل کر2019میں مودی سرکارکوہرانے جارہے ہیں۔راہل گاندھی نے دھرنے پرکہاکہ مودی جی سوچھ بھارت کی بات کرتے ہیں۔ٹوائلٹ بنادےئے ہیں ملک میں، مگر ان ٹوائلٹوں میں پانی نہیں ہیں۔جانے کس دنیامیں ہیں مودی جی ، بس صرف مودی جی بیان دیتے رہتے ہیں۔راہل گاندھی نے مودی سرکارپر حملہ بولتے ہوئے کہاکہ تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، خواتین کے جرائم بڑھ رہے ہیں، کسان پریشان ہیں لیکن پی ایم مودی کے منہ سے ایک لفظ نکلتاہے۔انہو ں نے کہاکہ 70سالوں میں روپیہ اتناکمزورکبھی نہیں ہوا، پٹرول -ڈیزل اورایل پی جی کے دام بڑھ رہے ہیں لیکن نریندرمودی ایک لفظ نہیں بولتے ۔لوگ جوسنناچاہتے ہیں اس پرپی ایم مودی نہیں بولتے ہیں۔
راہل گاندھی نے مودی سرکارکوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ 45کروڑروپے اپنے دوست کوتحفے میں دے دےئے۔ یہ عوام کا پیسہ تھا جوتحفے میں دے دیا۔ مودی سرکارکولوگوں کی نہیں بلکہ کارپوریٹ کی فکرہے۔انہو ں نے کہاکہ گیس کے دام 400روپے فی سلنڈر تھا اب 700روپے سے زیادہ ہے۔ لیکن مودی جی خاموش ہیں۔پیٹرول 80روپے سے زیادہ، ڈیزل 80سے کچھ کم۔ پی ایم مودی پہلے ملک بھر میں گھومتے تھے پٹرول -ڈیزل کے داموں پر،لیکن آج کل کچھ نہیں کہتے ۔انہو ں نے کہاکہ لوگ نریندرمودی سے تنگ آچکے ہیں۔یہی اس متحدہ اپوزیشن کا پیغام ہے۔انہو ں نے کہاکہ مودی کہتے تھے 70سالوں میں جونہیں ہواہم چارسالوں میں کرکے دکھائیں گے، سچ میں چارسالوں میں جوہوا وہ 70سالوں میں نہیں ہوا۔اخیرمیں راہل گاندھی نے کہاکہ صحافیوں سے کہاکہ آپ کھل کرلکھیں، ڈرکرنہ لکھیں۔ہم اورآپوزیشن پارٹیاں آپ کے ساتھ ہیں۔
بہر کیف پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف کانگریس کے اعلان پر اپوزیشن پارٹیوں کے بھارت بند کے دوران کئی مقامات پر بند حامیوں نے توڑ پھوڑ کی۔بھارت بند میں دہلی ،بہار، اوڈیشہ، کرناٹک، مغربی بنگال، گوا، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، تمل ناڈو، ہریانہ، کیرالہ اور تلنگانہ ودیگرریاستیں شامل ہیں۔کرناٹک سمیت کچھ ریاستوں میں اسکولوں، کالجوں اوردفتروں میں چھٹی کردی گئی ہے۔ دوادکانوں، اسپتال اورایمبولینس کوبندسے باہر رکھا گیاہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *