اب سوشل میڈیا ہمارا چاریہ بن گیا ہے

اگر سوشل میڈیا ملک کا دماغ سمجھنے کا پیمانہ ہے تو مان لینا چاہئے کہ ملک کا دماغ بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا سے مطلب فیس بک، ٹویٹر اور وہاٹس اپ پر چلنے والے پیغامات ہیں۔پہلے ملک میں مانا جاتا تھا کہ جو محروم ہیں، جو غریب ہیں، جو ستائے ہوئے ہیں،جو پسماندہ ہیں، جو ترقی کی اسٹریم سے باہر ہیں، ان کے حق میں بات کرنا، کام کرناہی سماجی خدمت ہے۔ ان کی زندگی کو بدلنا، آنسوئوں کو پوچھنا، امید کے سپنے جگانا، ان کے ذہن میں بھروسہ پیدا کرنا نہ صرف سماج تبدیلی کا کام ہے ، بلکہ اجر کا بھی کام ہے۔
ہمارے سماج میں، چاہے وہ سادھو سنتوں کی روایت ہو، چاہے وہ سماجی کارکنوں کی روایت ہو، عزت انہیں ہی ملی ہے جنہوں نے عوام کے لئے کام کیا ہے۔ ہمارے ملک میں جتنی بھی شخصیات ہوئی ہیں، انہی کو عزت ملی ہے جنہوں نے پسماندہ ، دبے ،کچلے ، غریب ،پچھڑے، کمزور کے لئے کام کیا، ترقی کی روشنی ان تک پہنچانے کی کوشش کی ہیں یہاں تک کہ اچاریہ ونوبا بھاوے کو ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے سرکاری سنت کہہ دیا تھا۔ کیونکہ اچاریہ وینووا بھاوے نے غریبوں کے لئے، بے زمین لوگوں کے لئے زمین تو مانگی تھی، لیکن انہوں نے ان لوگوںکو کبھی ایشو نہیں بنایا، جو زمین سے محروموں کے دُکھ کے ذمہ دار تھے۔
2014 کے بعد ملک میں سماج کو دیکھنے کا چشمہ بدل گیا ہے۔ خود وزیراعظم نے یہ پوری کوشش کی کہ ڈیجیٹل انڈیا بنے اور اس میں بھی ملک کو سمجھنے کا پیمانہ سوشل میڈیا بنے۔ یہ الگ بات ہے کہ سوشل میڈیا تک کتنے لوگوں کی پہنچ ہے، کس طبقے کے لوگوں کی پہنچ ہے، کس طرح کے لوگوں کی پہنچ ہے اور کیا وہ سچ مچ سماج کا آئینہ مانا جاسکتا ہے؟ابھی تک اقتدار نے، وزیر اعظم نے ملک کو صلاح نہیں دی ہے کہ سوشل میڈیا پر نظریاتی بحث کے ایشوز کا استقبال ہونا چاہئے یا نظریاتی بحث کو دبانے والے، نظریاتی بحث کرنے والے کو دھمکانے والے کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے یا پھر سماج میں برائیوں کو پھیلانے والی چرچائوں کو بڑھاوا دینا چاہئے یا نہیں دینا چاہئے۔

 

 

 

نتیجہ کے طور پر اگر آج سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ہمیں اس میں کہیں بھی 80فیصد ملک دکھائی نہیں دیتا ہے۔ چونکہ اس کے اوپر کبھی دھیان نہیں دیا گیا، تو یہ 80 فیصد ملک، جو ناخواندہ ہے، غریب ہے، پچھڑا ہے، وسائل سے محروم ہے، اس کے بارے میں بات کرنا دھیرے دھیرے غداری جیسا جرم بن گیا ہے۔ اگر کوئی بھی ان 80 فیصد کی بات کرتاہے تو اس کے لئے ایک نیا لفظ گڑھا گیاہے’ اربن نکسل ‘ یعنی شہری نکسلی ۔ جن لوگوں نے یہ لفظ گڑھا ،انہیں تو یہ بھی پتہ نہیں کہ نکسلواد ہے کیا؟نکسلواد کا نظریہ کیا ہے؟نکسلواد کیوں پیدا ہوتا ہے؟نکسلواد کیوں بڑھتا ہے ؟اور نکسلواد اتنا خطرناک کیسے ہو گیا کہ ریاستی سرکاروں سے بڑھ کر اب وہ مرکزی سرکار کی تشویش کا موضوع ہوگیا۔
سرکار نام کا ادارہ تو شروع سے ہے۔ اس کے چہرے بدل جاتے ہیں، بلکہ مکھوٹے بدل جاتے ہیں، چہرہ ایک ہی رہتا ہے اور وہ سرکار ہے۔ سرکار کا مطلب مکھیا سے لے کر چوکیدار، وزیر اعظم سے لے کر وزیر داخلہ تک ہوتا ہے۔ عدالتیں بھی اس سرکار کی ڈیفینیشن میں آجاتی ہیں۔کسی نے اس کی وجہ تلاش نہیں کی کہ اتنی فکر نکسلواد کو لے کر اب کیوں پیدا ہو گئی ہے؟ اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ نکسلواد کے مسئلے کو لاء اینڈ آرڈر کا سوال ماننا چاہئے یا سماجی عدم مساوات سے پیدا ہوئے بغض کا سوال ماننا چاہئے تو شاید سیاسی پارٹی جواب دینے میں آنا کانی کرے۔لیکن یہ سوال تو پوچھا جانا ہی چاہئے ۔
اب ایسی چرچا کے لئے سوشل میڈیا تو صحیح جگہ نہیں ہے۔ آخر کشمیر میںرہنے والے ہر آدمی کو ہمارے ٹیلی ویژن چینل غدار وطن کیسے بتا رہے ہیں۔ کشمیر میں رہنے والے ہر آدمی کو دہشت گرد کا حامی کیسے بتایا جارہا ہے۔ یہ ماحول کیسے بن گیاکہ ملک میںکشمیر کے حالات بھی لوگ نہیں جاننا چاہتے ہیں۔ کشمیر کا کوئی بھی مسئلہ ہے، اس سے ملک کو اب کوئی مطلب نہیں ۔اگر سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ساری دنیا کو یہ تاثر ہوگا کہ سوشل میڈیا پر رہنے والے ہندوستان کے ہر آدمی نے لوگوں کو گولی مارنے کے لئے اپنے کو ذہنی طور سے تیار کر لیا ہے اور وہ سرکار کے اوپر دبائو ڈال رہے ہیں کہ کشمیر کو طاقت سے ڈیل کرے۔ کشمیر کی آواز کو غداری کا نام دے کر اسے سنگینی سے کچل دو، گولیاں برسا دو۔
اسی ملک میں کشمیر کو لے کر سیاسی لیڈر آپس میں بات کرتے تھے، بحث کرتے تھے۔ اس ملک کے غریبوں کو لے کر بات کرتے تھے، بحث کرتے تھے، سمینار ہوتے تھے ، چرچائیں ہوتی تھیں، اخباروں میں مضامین لکھے جاتے تھے لیکن کیا اب ایسا کچھ ہو رہا ہے، نہیں ہو رہا ہے؟ اسی لئے میں نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا ایک پیمانہ ہے تو ہمارا ملک سچ مچ بدل گیا ہے۔

 

 

 

 

اب ایسے میں سپریم کورٹ کا یہ کہنا ہے کہ جمہوریت میں ڈی سینٹ سیفٹی والوو ہے اور اگر اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو بسفورٹ ہوگا۔ یہ معاملہ تو ابھی حال کے وقوع پذیر واقعات کو لے کر ہے، لیکن اس کی سیدھی مثال دیکھنا ہو تو کشمیر ہمارے سامنے ہے۔ ملک کے لوگوں کے دماغ میں فکر کیوں نہیں پیدا ہوتی ؟ کیا اس ملک کے سوچنے سمجھنے والوں کے دماغ سے احساس ختم ہو رہے ہیں، ہم بے حس ہورہے ہیں، ہم غیر روادار ہورہے ہیں اور سناتن دھرم کی ان بنیادی عقائد سے اپنے کو الگ کررہے ہیںجس میں ہم نے کبھی کہا تھا کہ وسودھیو کوٹومبکم ۔آج ہم کوٹومبکم کا ڈیفی نیشن بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہی ملک میں رہنے والے ایک تہائی لوگوں کے، چاہے وہ شمال مشرق کے ہوں،جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، جنوبی مہاراشٹر، آندھرا ، کرناٹک، کیرل کے رہنے والے ہوں، ان کی جدو جہد ہمارے دماغ میں کوئی فکر پیدا نہیں کرتی۔ہم ان ساری جدو جہد کو اور ان سارے لوگوں کو ایک لفظ میں نکسلوادی بتا دیتے ہیں اور پھر انہیں غدار قرار دیتے ہیں۔ یہ عظیم معلومات سوشل میڈیا کے ذریعہ ہمارے اس عظیم ملک کو ملی ہیں۔
اگر کسی بھی 18 سے 35 سال کے نوجوان سے پوچھا جائے کہ پونجی واد کیا ہے، سماج واد کیا ہے، وِکاس کا اصول کیا ہے، تضاد کسے کہتے ہیں، سماج کن چیزوںسے بنتا ہے، کن چیزوں سے بگڑتا ہے اور کن چیزوں سے بدلتا ہے، تو وہ شاید ان سوالوں کو بے مطلب کا سوال کہہ دے۔ کیونکہ اب معلومات ان کتابوں میں نہیں ہے جو کتابیں اس ملک کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ہم وشو گرو بننا چاہتے ہیں، لیکن فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعہ۔ ہم بیان کے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ ہم اطلاعات کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
اس لئے یہ ملک 80 فیصد کو چھوڑ کر، 20 فیصد کے آرام و راحت ، دُکھ اور خوابوں کے ارد گرد سمٹ رہا ہے۔ اگر ان 20 فیصد لوگوں کی بات کریں تو آپ دیش بھکت ہیں، لیکن اگر آپ ان 20 فیصد کی سرحد سے آگے بڑھ کر 80 فیصد کی سرحد میں داخل ہونا چاہیں گے تو آپ غدار ہیں۔ یہ صورت حال اصلی صورت حال نہیں ہے ۔یہ نقلی صورت حال ہے لیکن یہ نقلی صورت حال ہی اس وقت ہندوستان کی پہچان بنی ہوئی ہے اور یہ پہچان کہیں ایک دن ملک میں ایسی صورت نہ پیدا کر دے کہ ہم اپنے کو اس جگہ کھڑا پائیں ،جہاں سے آگے ہمیں راستہ ہی نہ دکھائی دے ۔پہلے اچاریہ ہوا کرتے تھے۔ اچاریہ راستہ دکھاتے تھے لیکن اب اچاریہ نہیں ہوتے۔ اب سوشل میڈیا ہمارااچاریہ بن گیا ہے اور ہمیں ایک دھند بھرے راستے کی طرف دھکیل رہا ہے اور جس راستے پر سانپ ، بچھو جیسے جاندار ہندوستان کی سا لمیت،فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،بھائی چارے کو نگل جانا چاہتے ہیں۔ ان کے خلاف سماج میں کبھی نہ کبھی تو کوئی کھڑا ہی ہوگا اور شاید جلد ہی کھڑا ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *