اب کامیاب ہندوپاک بات چیت کے امکانات زیادہ

پاکستانی کرکٹ کے سپراسٹار عمران خان کے ذریعہ پاکستان کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کیا ہندوستان اور پاکستان کے بیچ تناؤ کم ہوگا؟ گزشتہ دنوں پاکستان کے 22 ویںوزیر اعظم کے طور پر حلف لینے والے عمران خان، ہندوستانی کرکٹ مداحوںکے بیچ بھی بے حد مقبول ہیں ۔ لیکن گزشتہ 70 سالوںمیںتین جنگیں لڑ چکے پاکستان اور ہندوستان کے بیچ سخت تناؤ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان کے لیے دونوں ملکوںکے رشتوں کو نارمل بنانا مشکل کام ہوسکتا ہے۔
مثبت اشارے
خوش قسمتی سے ان کے اقتدار سنبھالنے کے ابتدائی ایام میںدونوں فریقوں نے مثبت اشارے دیے ہیں۔ جہاںعمران خان نے ایک طرف اپنی جیت کے خطاب میںہندوستان کے ساتھ بہتررشتوں کی خواہش ظاہر کی تھی، وہیں دوسری طرف وزیر اعظم کا چارج سنبھالنے کے بعد انھوںنے ٹیوٹر پیغام میں ہندوستان کے ساتھ کشمیر سمیت سبھی دو فریقی جھگڑوں کو حل کرنے کے لیے ایک بات چیت شروع کرنے کی بات کہی تھی۔ انھوںنے اپنے پیغام میںکہا تھا کہ ’’بر صغیر میںغریبی کم کرنے اور لوگوں کا معیار زندگی اوپر اٹھانے کاسب سے اچھا طریقہ بات چیت کے ذریعہ اپنے دو فریقی اختلافات کو دور کرنا اور تجارت شروع کرنا ہے۔‘‘ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے عمران خان کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کی مبارکباد دیتے ہوئے ان سے ملتا جلتا ردعمل جاری کیا۔ انھوں نے پاکستان کے ساتھ ’’مثبت اور تعمیری بات چیت‘‘ کا ذکر کیا۔
فی الحال عارضی تناؤ میںکمی کے بیچ عمران کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو ٹھیک کرنے میںاہم کردار نبھائیں۔ اس کے لیے وہ دو و سیلوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ پہلا، لمبے عرصے تک کرکٹ سے جڑے رہنے کی وجہ سے ہندوستان کے رائے سازوں کے بیچ عمران خان کی اچھی ساکھ ہے۔ ہندوستان کی اپوزیشن کانگریس پارٹی کی سابق لیڈر سونیا گاندھی نے انھیں ’’بھائی ‘‘ کہا ہے۔ سابق ہندوستانی کرکٹر اور موجودہ سیاست داں نوجوت سنگھ سدھو ان کی حلف برداری تقریب میںحصہ لینے کے لیے پاکستان گئے۔
دوسرا، یہ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کو پاکستان کی طاقتور فوج کی حمایت حاصل ہے جو ہندو پاک رشتوںکے بیچ ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ ان کے پیشرو نواز شریف کو فوج کی حمایت حاصل نہیں تھی۔فوج اور نواز شریف کی سرکار کے بیچ اعتماد کی کمی تھی، لہٰذا ہندوستان کی طرف سے امن کی کوئی بڑی پہل نہیںہوسکی تھی۔ اس کے برعکس ، عمران خان میں صلاحیت ہے کہ وہ فوج کی حمایت اور تعاون سے ہندوستان کے ساتھ ایک کامیاب امن کا عمل شروع کر سکیں۔ اگر اس طرح کی کسی پہل کو کامیاب ہونا ہے تو وزیر اعظم مودی کو وزیر اعظم عمران خان کا حصہ دار ہونا پڑے گا۔ مودی کے حالیہ بیانوں اور ان کے پچھلے کاموں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ پاکستان کے رشتوں میں سدھار کی دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہاںدھیان دینے والی بات یہ بھی ہے کہ مودی نے اپنی حلف برداری تقریب میںپاکستان کے اس دور کے وزیر اعظم نواز شریف کو مدعو کیا تھا اور نواز شریف کی پوتی کی شادی میںحصہ لینے کے لیے حیرت انگیزطور پر لاہور کا سفر کیا تھا۔ پاکستانی فوج کے ساتھ شریف کے خراب رشتوں کی وجہ سے یہ بات گمبھیر چرچا میں نہیںبدل سکی۔ اب اسلام آباد میںعمران خان کے ہاتھوںمیںحکومت ہے اور وہاں حکومت اور فوج کی ایکوئیشن بدل گئی ہے اور کامیاب بات چیت کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

 

 

 

 

دو بنیادی مدعے
اس کے باوجود امن کی سمت متعین کرنا اور اس حالت میںآگے بڑھانادونوں ہی وزرائے اعظم کے لیے آسان نہیںہوگا۔ پاکستان اور ہندوستان کے بیچ چل رہی جدوجہد کے مرکز میںدو بنیادی مدعے ہیں۔ پہلا کشمیر اور دوسرا مدعا دہشت گردی۔ پاکستان لگاتار کشمیر مدعے کے حل کی مانگ کرتا رہا ہے جبکہ ہندوستان سرحد پر دہشت گردی کو روکنے کے لیے پاکستان سے اور زیادہ کارروائی کی مانگ دوہراتا رہا ہے۔ ان مدعوں کے حل کے لیے سرحد کے دونوں طرف کافی عوامی حمایت اور سیکورٹی اداروں کی حمایت کی ضرور ت ہوگی۔ حالانکہ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیںہے۔
ماضی میںدونوں ملک آپسی جدوجہد کے مدعوں کو حل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے۔ 2007 کی شروعات میںپاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ ایک سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعہ تیار کیے گئے اُس سمجھوتے پر عمل نہیںہوسکا تھا۔ اس کے بعد پرویز مشرف گھریلو سیاسی تنازعوںمیںالجھ گئے تھے،جس کے نتیجے میںانھیںاپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ امریکی ایمبیسی کی 21 اپریل 2009 کے ایک لیک کیبل کے مطابق منموہن سنگھ نے ایک امریکی وفد کو بتایا تھا کہ ہندو پاک کشمیر کے ایک غیر علاقائی حل پر متفق ہوگئے تھے، جس میںکنٹرول لائن سے آزاد تجارت اور آمدورفت شامل تھا۔
اسی طرح ماضی میںبھی دونوںملکوں کے بیچ جامع مذاکرات کے ذریعہ سرحد پار کے دراندازوں پر ہندوستانی تشویشوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ نتیجتاً کشمیر سرحد پر جنگ بندی اور سری نگر و مظفر آباد کے بیچ بس سروس شروع کرنے سمیت دیگر کئی اعتماد بحالی کے اقدامات پر پیش رفت ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے 2007 میںسمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ اور 2008 میںممبئی حملوں کی وجہ سے یہ امن عمل رک گیا۔
بہرحال یہ تو پہلے کی باتیںہیں۔ اب عمران خان اور نریندر مودی کی قیادت سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ رسمی امن عمل شروع ہوگا۔ دراصل امن قائم کرنے کی خواہش دونوںطرف دکھائی دیتی ہے۔ اس میںکوئی شک نہیںکہ مسئلے کے وسیع حل کا عمل بہت ہی مشکل، پیچیدہ اور وقت طلب ہوگا۔
اس کے باوجود یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ہزار میل کا سفر بھی پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے۔ دراصل پاکستان اور ہندوستان کے بیچ تعلقات کی بحالی کے معاملے میںسمجھداری یہ ہوگی کہ چھوٹے قدموںکے ساتھ آگے بڑھاجائے۔ ان ہی چھوٹے قدموں سے مکمل امن سمجھوتے کے لیے حالات سازگار ہوں گے۔

 

 

 

دراصل مستقبل قریب میںپاکستان اور ہندوستان کے بیچ تعاون کے ڈھانچے، جس میںپیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ شاملہے، کے لیے کچھ چھوٹے قدم اٹھائے جاسکتے ہیں۔ کھیلوںکی دو فریقی سیریز، خاص طورسے کرکٹ کی سیریز کا انعقاد دونوںملکوں کے رشتوں میںاہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ دونوں ملک سارک کو بھی مضبوطی فراہم کرسکتے ہیں۔ سارک نہ صرف ہندو پاک کو قریب لا سکتا ہے بلکہ اس میںافغانستان کو اس کے موجودہ برے دور سے نکالنے کی بھی صلاحیت ہے۔ سرحد کے دونوںطرف آسانی سے سفر کرنے کے لیے ویزا کے عمل کو آسان بنانے سے بھی حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ حال میںایک ملک کے عام شہری کو دوسرے ملک کا ویزا حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ہندو پاک کے جوائنٹ وینچر میں دونوں ملکوں کے ملازمین اور کاسٹنگ کے ساتھ بالی ووڈ فلمیں بنانا بھی تعلقات کو بہتر بنانے میںمددگار ہوسکتا ہے۔ غور طلب ہے کہ پاکستان میں ہندوستانی فلمیں بہت مقبول ہیں۔ محدود سطح پر دونوںملکوں کے بیچ دو فریقی تجارت شروع کرنے، جن میں ایسی اشیاء شامل ہوں جو دونوںملکوںمیںمزدور طبقے کے لیے اہم ہوں، سے بھی دونوںپڑوسی قریب آسکتے ہیں۔
اس علاقے کے 1.5 ارب سے زیادہ شہریوں کی دہشت گردی سے حفاظت کے لیے انسداد دہشت گردی نظام کو تیار کرنا بھی بہت اہم ہے۔ مذہبی سیاحت کی حوصلہ افزائی کرنا تاکہ پاکستانی مسلمان ہندوستان میںاپنے مقدس مقامات کا سفر کرسکیں اور سکھ کمیونٹی پاکستان میںاپنے مقدس مقامات کا سفر کرسکے۔
یہ چھوٹے قدم ہیںجو پاکستان اور ہندوستان کے بیچ ایک نئے رشتے کی بنیاد ڈال سکتے ہیں۔ ان سے امن کو ایک موقع مل جائے گا۔ یہ ا قدام مودی، عمران ار ان کے نمائندوںکو اس علاقے کے مستقبل کے لیے ضروری مستقل امن اور تعاون دینے کے لیے ضروری وقت اور مقام فراہم پیدا کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *