جموں و کشمیر کے نئے گورنر مذاکرات کی نئی کوشش شروع ہو سکتی ہے

30اگست کو سوشل میڈیا پر ایک مختصر ویڈیو کلپ وائرل ہوگئی ، جس میں جموں وکشمیر میں بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر رینا کو یہ کہتے ہوئے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ ریاست کے نئے گورنر ستیہ پال ملک ’ہمارے ‘ یعنی بی جے پی کے آدمی ہیں۔ رویندر رینا نے کہا ہے ، ’’جو نیا گورنر آیا ہے ، وہ ہمارا آدمی ہے۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ( سابق گورنر) ووہرا ( اپنے عہدے پر برقرار ) رہیں۔‘‘
مودی سرکار نے ستیہ پال ملک کو جموں کشمیر جیسی حساس ریاست میںگورنر بناکر ان پر اپنے بھرپور اعتمادکا اظہار کیا ہے کیونکہ اُنہیں ایک ایسے وقت میں گورنر بنایا گیا ہے ، جب اس ریاست میں کوئی جمہوری حکومت موجود نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے جنرل سیکرٹری اور کشمیر کے معاملات کو ہینڈل کرنے والے لیڈر رام مادھو نے حال ہی میں گورنر کے سیاسی تجربے سے استفادہ حاصل کرنے اوران سے جموں کشمیر میں ایک مذاکرات کار کی حیثیت سے بھی کام لینے کا عندیہ دیا ہے۔
ستیہ پال ملک کو جموں کشمیر کا نیا گورنر بنائے جانے کے محض 6 دن بعد یعنی 27اگست کو رام مادھو نے نئی دلی سے شائع ہونے والے ایک انگریزی قومی اخبار میں شائع اپنے مضمون میں لکھا، ’’چونکہ نیا گورنرایک سیاستداں ہے ، اسلئے وہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لئے ایک با اثر مذاکرات کار ہوسکتے ہیں۔‘‘ ظاہر ہے کہ یہ بی جے پی کی جانب سے ستیہ پال ملک سے جموں کشمیر میں سیاسی کام لینے کا ایک عندیہ ہے۔ اس صورتحال میں بی جے پے کے ریاستی صدر کا یہ کہنا کہ ’’نیا گورنر ہمارا آدمی ہے ‘‘، کوئی اچھی بات نہیں ہوسکتی ہے۔حالانکہ محض ایک بی جے پی لیڈر کے اس بیان سے جموں کشمیر کے نئے گورنر کی امیچ متاثر نہیں ہوسکتی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر مرکزی سرکار واقعی ستیہ پال ملک کو جموں کشمیر میں مذاکراتی عمل شروع کرانے کے لئے اُن سے بطور مذاکرات کارکام لینے کا ارادہ رکھتی ہو، تو یہ ضروری ہے کہ اُنہیں کسی مخصوص سیاسی پارٹی کے ساتھ نتھی نہیں کیا جانا چاہیے۔

 

 

 

 

ویسے بھی بیشتر سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ جموں وکشمیر اور نئی دہلی کے درمیان پہلے ہی عدم اعتماد کی خلیج اس قدر گہری ہے کہ اسے پاٹنا بہت مشکل کام ہے۔ ایسے حالات میں مستقبل کا مذاکرات کار جو بھی ہو، اسکی امیج صاف و شفاف ہونی چاہیے۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگاراور روزنامہ چٹان کے ایڈیٹر طاہر محی الدین نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا،’’ مجھے نہیں لگتا ہے کہ نئے گورنر ایک اچھے مذاکرات کار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ کشمیریوں اور نئی دلی کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بہت گہری ہے۔ اسے پاٹنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ویسے بھی ماضی میں نئی دہلی کی جانب سے تعینات کئے گئے مذکرات کاروں کے کام اور انکی رپورٹوں کا نئی دلی نے جو حشر کیا ہے ، اسکی وجہ سے اب یہ بہت مشکل ہے کہ لوگ کسی نئے مذاکرات کار پر بھروسہ کرسکیں۔‘‘
تاہم طاہر محی الدین کا کہنا ہے کہ بحیثیت گورنر ستیہ پال ملک اپنی عوام دوست پالیسیوں سے لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، ’’ نئے گورنر کے پاس یہ موقعہ ہے کہ وہ ماضی کی سخت گیر پالیسیوں کو بدل کر عوام دوست پالیساں متعارف کرائیں۔ علاحدگی پسندوں کو انکے گھروں تک محدود کرنے کی پالیسی کو بدل کر انہیں انکی سپیس دیں اور فوجی قوت کے بجائے سیاسی طور طریقوں سے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کریں تو اسکے نتیجے وہ عوام کا اعتماد جیت سکتے ہیں۔‘‘ ریاست کے سیاسی حالات کو اچھی طرح سمجھنے والے بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ چونکہ بی جے پی کی کشمیر پالیسی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے ، اسلئے اگر وہ مذاکراتی عمل شروع کراتی بھی ہے تو اسے عوامی اعتبار حاصل ہوجانا ایک مشکل بات ہے۔
شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ، ’’ رام مادھو کا کہنا کہ نئے گورنر ایک با اثر مذاکرات کار ثابت ہوسکتے ہیں ، میرے لئے ایک ناقابل فہم بات ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ بی جے پی کشمیر میں کس بات کے لئے مذاکرات کرانا چاہتی ہے ۔ بی جے پی تو کھلے عام دفعہ 370اور35Aکو ختم کرکے اس ریاست کو باقی ملک میں ضم کرنے کی بات کررہی ہے اور اسکے لئے کام بھی کررہی ہے تو پھر مذاکرات کس کے ساتھ اور کیوں ؟‘‘ انجینئر رشید کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا شوشہ چھوڑ کر در اصل بی جے پی ایک کنفوژن پید ا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جموں کشمیر کے بارے میں بی جے پی کی نیت پر شک ظاہر کرنے والوں میں انجینئر رشید اکیلے نہیں ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وادی میں بی جے پی نہ ہی عام لوگوں کا اور نہ ہی سیاسی حلقوں میں اپنی اعتباریت پیدا کرسکی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور فاروق عبداللہ کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال کہتے ہیں کہ اگر مودی سرکار نے نئے گورنر کو کشمیر میں مذاکرات کاری کا کام سونپا تو اس کامقصد اس ریاست میں بی جے پی کے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنا ہوگا۔
انہوں نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ، ’’ نئے گورنر کے بارے میں تو سب کو معلوم ہے کہ وہ جموں کشمیر میں بی جے پی کے آدمی ہیں۔ اگر وہ مذاکرات کار بنائے بھی گئے تو اُن پر کون بھروسہ کرے گا؟ ویسے بھی اگر بی جے پی سنجیدہ ہے تو اسے نئے مذاکرات کار کی تقرری عمل میں لانے کے بجائے پرانے مذاکرات کاروں کی رپورٹوں اور سفارشات کو ہی عملا نا چاہیے۔‘‘

 

 

 

 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مودی سرکار نے گزشتہ سال انٹیلی جنس بیرو(آئی بی) کے ایک سابق ڈائریکٹر دنیشور شرما کو مرکزی سرکار کے نمائندے کی حیثیت سے سرینگر بھیجا تھا تاکہ وہ یہاں ہر مکتب فکرسے وابستہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرسکیں۔ دنیشور شرما ریاست بھر میں لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے اور بات چیت کرنے کا سلسلہ شروع کیا لیکن اب تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود اُن کی کوششوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ باور کیا جاتا ہے کہ مودی سرکار نے در اصل محض یہ تاثر دینے کے لئے دنیشور شرمار کومرکزی سرکار نے اس لئے کا مذاکرات کا ر مقرر کیا تھا، کہ وہ کشمیرکے حالات کو بات چیت کے ذریعے ٹھیک کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہ اگر مرکزی سرکار واقعی مذاکراتی عملی میں یقین رکھتی ہوتی تو دنیشور شرما کی اب تک کی کوششوں کو کوئی نتیجہ برآمد ہوگیا ہوتا۔ سوز نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ،’’ میں نے حال ہی میں دلی میں سنا کہ جب سے دنیشور شرما کو بات چیت کے لئے کشمیر بھیجا گیا ہے ، وہ مسلسل قومی سلامتی مشیر اجیت ڈویل سے ملاقات کی کوششیں کررہا ہے لیکن اسے ملاقات کے لئے وقت نہیں دیا جارہا ہے۔اگر مودی سرکار کی نظر میںکشمیر میں مذاکرات کی کوئی اہمیت ہوتی تو یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ ایک مذاکرات کار کو قومی سلامتی مشیر سے ملنے کے لئے دس پندرہ منٹ کا وقت بھی نہیں دیا جاتا۔‘‘ سوز کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں اگر نئے گورنر کو کشمیر میں مذاکرات کرنے کا کام بھی سونپا جاتا ہے تو اسے عوامی عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یہ یقین کرنا بڑا مشکل ہوگا کہ بی جے پی جموں کشمیر میں واقعی کوئی مذاکراتی عمل شروع کرنے میں سنجیدہ ہے۔
سال2014 ء یعنی جب سے بی جے پی کے ہاتھوں میں مرکزی سرکار کی لگام آگئی ہے ، اس نے جموں کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے سخت گیر پالیسی ہی اپنائی ہے۔ اب جبکہ نئے انتخابات قریب ہیں اور یہ پتہ نہیں کہ بی جے پی دوبارہ بر سر اقتدار آتی ہے یا نہیں ، وادی میں اگر کوئی مذاکراتی عمل شروع کرایا بھی جاتا ہے ، تو اسے عوامی سطح پر اعتباریت حاصل ہونا ایک مشکل بات ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *