وشو ہندو کانگریس سمیلن:موہن بھاگوت نے کہا’ہندوؤں کا متحدہوناضروری‘

mohan-bhagwat
راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے جمعہ کو ہندو کمیونٹی سے متحد ہوکرانسانی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کی اپیل کی ہے۔شکاگو میں منعقدہ عالمی مذاہب اجلاس میں سوامی وویکا نند کے 11 ستمبر 1893 کو کئے گئے تقریر کے 125 سال پورے ہونے پر عالمی ہندو کانگریس کا انعقاد کیا گیا ہے۔
امریکہ کے شکاگو میں وشو ہندو سمیلن میں تقریباً 2500 لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ہندوکمیونٹی میں باصلاحیت لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔سنگھ سربراہ بھاگوت نے کہاکہ’’ ہندوکسی کی مخالفت کرنے کیلئے نہیں جیتے ہیں، لیکن کچھ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جوہم ہندوؤں کی مخالفت کرتے ہیں، اسلئے وہ ہمیں نقصان نہ پہنچاپائیں، اسکے لئے ہمیں خود کوتیار کرناہوگا‘‘۔ہندو نظریات سے ترغیب لینے والے اپنے خطاب میں موہن بھاگوت نے کہا ’لیکن وہ کبھی ساتھ نہیں آتے ہیں۔ ہندووں کا ساتھ آنا اپنے آپ میں مشکل ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ہزاروں سالوں سے پریشان ہورہے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے بنیادی اصولوں پرعمل کرنا اور روحانیت کو بھول گئے ہیں۔سبھی لوگوں کے ساتھ آنے پر زور دیتے ہوئے بھاگوت نے کہا ’ہمیں ساتھ آنا ہوگا‘۔انہو ں نے کہاکہ ہندوسماج تبھی ترقی کرسکے گا، جب وہ سماج کی شکل میں کام کرے گا۔

اس پروگرام میں مودی سرکارمیں نیتی آیوگ کے سابق وائس چےئرمین اروند پنگڑھیا بھی موجود رہے۔اروندپنگڑھیا کولمبیا یونیورسٹی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں انہو ں نے مودی سرکارسے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیاتھاکہ وہ اپنے نجی وجوہات اکیڈمک کاموں کے باعث عہدہ سے ہٹ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *