سول سروسیز جیسے مقابلہ جاتی امتحان کیلئے طلبہ کو کم عمری میں ہی منتخب کیا جانا چاہئے: پروفیسر طارق منصور

amu-vc
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی (آر سی اے) میں گذشتہ روز سول سروسیز مقابلہ جاتی امتحان کی کوچنگ کے مینٹرس کے مذاکراتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ سول سروسیز مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کے لئے طلبہ طالبات کو نوعمری میں ہی منتخب کیا جانا چاہئے اور ان کے اندر جوش و جذبہ اور لگن پیدا کرنا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ معلومات عامہ میں اضافہ کے لئے طلبہ کو اخبارات پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ وائس چانسلر نے اجلاس میں موجود مینٹرس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ گریجویشن(بی اے ، بی ایس سی، بی کام، ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، بی ٹیک وغیرہ) کے پہلے سال میں ہی ایسے طلبہ طالبات کی شناخت کرلینی چاہئے جو سول سروسیز کی تیاری کرنا چاہتے ہوں تاکہ کم عمری میں ہی وہ ملک کے اس ممتاز مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب ہوسکیں۔
پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اور آرسی اے میں سبھی بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ انھوں نے اساتذہ اور ایلومنائی سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں آپس میں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ملک و قوم کے لئے یونیورسٹی زیادہ سے زیادہ مفید بن سکے اور پالیسی سازی میں یہاں کے طلبہ اعلیٰ خدمات تک رسائی حاصل کرسکیں۔ وائس چانسلر نے کہاکہ سول سروس کے حکام ہی ملک و قوم کے لئے پالیسی تیار کرتے ہیں ، اس میں ہمارا نمایاں رول ہونا چاہئے۔ پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ تبدیلی رفتہ رفتہ آتی ہے اور اگر ہم آپس میں مل کر اور متحد ہوکر کام کریں گے تو آر سی اے کا نتیجہ آنے والے سالوں میں بہتر ہوجائے گا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ آر سی اے صرف اے ایم یو کے طلبہ کے لئے نہیں ہے بلکہ یہاں باہر کے طلبہ بھی داخلہ لیتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ آج کے دور میں طلبہ کو اپنی معلومات عامہ کو بہتر کرنے کے لئے اخبار پڑھنے کی عادت ضرور ڈالنی چاہئے اور اے ایم یو کے اسکولوں کے طلبہ طالبات کے اندر بھی اساتذہ یہ کلچر پیدا کریں۔
اس سے قبل ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر صغیر احمد انصاری نے وائس چانسلر سمیت دیگر مہمانوں اور حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے تعارفی کلمات میں کہاکہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ کو طلبہ کے مینٹر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے جس کا مقصد طلبہ کو سول سروسیز جیسے مشکل ترین مقابلہ جاتی امتحان کے لئے فکری و علمی اعتبار سے تیار کرنا اور ان کے اندر درکار جوش و جذبہ پیدا کرنا ہے۔ انھوں نے بتایاکہ سال 2017-18میں مختلف ریاستوں کی جوڈیشیل سروسیز میں آر سی اے کے 90؍طلبہ منتخب ہوئے ہیں۔
پروفیسر صغیر احمد انصاری نے کہا کہ طلبہ طالبات میں صلاحیت موجود ہے ، تاہم انھیں متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیریئر کی معقول منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ بھٹکاؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ انھوں نے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آرسی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ان کی ایماء پر ایڈوائزری کمیٹی قائم کی گئی ، جس نے طلبہ کے لئے مینٹرس نامزد کرنے کی سفارش کی۔ یہ مینٹرس سول سروسیز کے لئے انڈرگریجویٹ سطح پر طلبہ کی شناخت کرتے ہیں، ان کی ہمت افزائی کرتے ہیں، رہنمائی کرتے ہیں اور ان کی پیش رفت کی نگرانی کرتے ہیں۔ اجلاس کے آخر میں مختلف اساتذہ اور مینٹرس نے اپنے تجربات بیان کئے اور ضروری مشورے دئے ۔ آر سی اے کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر عرفان اللہ فاروقی نے نظامت کے فرائض انجام دئے اور سبھی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر آر سی اے کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد اعظم خاں سمیت مختلف شعبوں کے سینئر اساتذہ موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *