آرڈیننس ملکی آئین کے خلاف،دستور ہند اپنے ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی دیتا ہے: جماعت اسلامی ہند

maulana-jalaluddin-umri
تین طلاق پر آرڈیننس کو کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد میڈیا کو جاری ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی ہند اور نائب صدر مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ یہ آرڈیننس ملکی آئین کے خلاف ہے ، کیونکہ دستور ہند اپنے ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی دیتا ہے۔ حکومت اس آرڈیننس کے ذریعہ ایسا قانون نافذ کرنا چاہتی ہے جو مسلمانوں کے مذہبی قوانین سے ٹکراتا ہے۔ اسلام کے عائلی قوانین میں یہ بات متفقہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے گا تو وہ نافذ ہوگی۔ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ بہ ایک وقت تین طلاق تین مانی جائیں گی یا ایک۔ مسلمانوں کا کوئی گروہ یا طبقہ یہ نہیں کہتا کہ بہ ایک تین طلاق سرے سے واقع ہی نہیں ہوگی ۔ جبکہ آرڈیننس کے مطابق تین طلاق قابل تعزیر جرم ہے اور کوئی شخص اس کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے لیے تین سال کی سزا ہوگی اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سراسر اسلامی شریعت میں مداخلت ہے۔
محترم امیر جماعت نے سوال کیا کہ جب یہ معاملہ راجیہ سبھا میں زیر غور ہے تو اس پر الگ سے آرڈیننس لا کر پارلیمانی طریقہ کار کو کیوں نہیں پورا ہونے دیا گیا اور مسلمانوں پر ایسا قانوں مسلط کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ پھر یہ آرڈیننس کہتا ہے کہ اگر کوئی تین طلاق دے گا تو طلاق ہی واقع نہیں ہوگی، لیکن اس کی سزا کے طور پر اسے تین برس جیل میں رہنا ہوگا اور اس عرصے میں اسے بیوی بچوں کا گزارہ بھی دینا ہوگا۔ یہ دنیا کا شاید واحد قانون ہے جس میں کسی عمل کا کوئی اثر نہ ہو، لیکن اس عمل کو انجام دینے والے کو اس کی سزا بھگتنی پڑے۔بہ ایک وقت تین طلاق کے معاملہ میں اگر کوئی بے احتیاطی ہو رہی ہے تو اس کا حل یہ نہیں ہے کہ مرد کو مجرم بنا کر اسے سزا دی جائے۔ طلاق شوہر اور بیوی کے رشتہ کو ختم کرنے اور نئی زندگی گذارنے کا ایک معقول طریقہ ہے۔اگر اس پر غیر ضروری بندشیں لگائی جائیں تو مرد طلاق ہی نہیں دے گا اور عورت کو مستقل تنگ کرتا رہے گا۔ ضرورت ہے کہ اس مسئلے پر مسلمان علماء اور ان کے نمائندہ افراد سے تبادلہ خیال ہو اور اس کے موقف کو بہتر طریقہ سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ وز یر قانون کے مطابق ایسا صنفی عدل، تشخص اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حالانکہ اسلام سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا حامی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اس آرڈیننس کے ذریعہ مسلمانوں کے تشخص کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے جسے مسلمانا ن ہند کسی بھی طور پر قبول نہیں کریں گے۔ صاف بات یہ ہے کہ یہ آرڈیننس آئندہ لوک سبھا الیکشن کے پیش نظر لایا گیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *