آسام شہریت معاملہ :عدالت کا فیصلہ متاثرین کے وسیع تر مفادمیں ہوگا : مولانا ارشدمدنی

Maulana-Arshad-file-pic
آج آسام شہریت کے تعلق سے پانچ الگ الگ معاملوں میں سپریم کورٹ میں جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس ایف نریمن کی دورکنی بینچ میں جب سماعت کا آغاز ہوا تو جمعیۃعلماء ہند اور آمسو کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل ، سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید اور وکیل آن ریکارڈ فضل ایوبی پیروی کے پیش ہوئے مسٹر کپل سبل نے سماعت کے دوران بینچ کو مخاطب کرکے کہا کہ عدالت نے طریقہ کار(SOP)پر جمعیۃعلماء ہند ، آمسواور پٹیشنر کو تحریری طورپر اپنی رائے پیش کرنے کی ہدایت کی تھی چنانچہ ہم نے گزشتہ 25؍اگست کو ہی عدالت کے سامنے تحریری طورپر اپنی رائے پیش کردی تھی مسٹر سبل نے وضاحت کی کہ اس میں ضروری نکتوں کی وضاحت کردی گئی ہے جن پر ہم آج عدالت سے کچھ کہنا چاہتے ہیں ، اس پر فاضل ججوں نے کہا کہ آپ کی بات آئندہ 19؍ستمبر کی سماعت میں ہم ضرورسنیں گے اور آپ کی پیش کردہ رائے پر بھی غورکیا جائے گا سردست آپ لوگ ہماری اس تجویزپر اپنی رائے دیں کہ کیوں نہ ان لوگوں کے لئے کہ جو اپنی شہریت ثابت نہیں کرسکے ہیں دوبارہ شہریت کے دعویٰ کے وقت لیگیسی ڈاکومنٹ (شہریت کا دستاویزی ثبوت)کی تعداد15 سے کم کرکے 10کردی جائے اور اس شرط کے ساتھ کے یہ دستاویزات پہلے کلیم کے ساتھ جمع نہ کئے گئے ہوں ؟
قابل ذکر ہے کہ حکومت کی طرف عدالت میں پیش کردہ طریقہ کار میں شہریت ثابت نہیں کرپانے والوں کو دوبارہ موقع دینے کی بات کہی گئی ہے اور ثبوت کے طورپر اب اپنے باپ ،دادا وغیرہ کا نام پیش کرنے کی سہولت دینے کی بات بھی کہی گئی ہے ، مثال کے طورپر اگر کسی نے اپنے کلیم میں ثبوت کے طورپر باپ کانام پیش کیا تھا اور اس تعلق سے معاون دستاویز بھی پیش کئے تھے مگر اس کانام این آرسی میں نہیں آسکاہے تو اب وہ دوبارہ کلیم کرسکتا ہے اور ثبوت کے طورپر اپنے دادا وغیرہ کا نام بھی پیش کرسکتاہے ، گزشتہ سماعت کے موقع پر عدالت نے اس نکتہ پر سوال اٹھایا تھا اور حکومت کے نمائندے سالسٹرجنرل سے پوچھاتھا کہ کیا ایسا کرکے آپ لوگوں کو شہریت ثابت کرنے کا دوسراموقع فراہم کرنے نہیں جارہے ہیں ؟ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ایسا ہونے کی صورت میں بہت سے نئے مسائل پیداہوسکتے ہیں چنانچہ اس پر اس نے حکومت سے وضاحت طلب کی تھی مگر آج کی پیش رفت سے صاف محسوس ہوا کہ اس مسئلہ پر عدالت کے رخ میں نرمی آگئی ہے اور اسی لئے اس نے فریقین سے اس تعلق سے استفسارکیا ہے اسی درمیان فریق مخالف کے وکیل کے این چودھری نے جب عدالت سے یہ کہا کہ یہ جو سہولت دی جارہی ہے کہ پندرہ میں سے دس دستاویز قابل قبول ہوں گے تو اس پر ہمیں اپنا موقف رکھنے کا موقع دیا جائے اس پر عدالت نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے سے آڈر میں یہ لکھا ہے کہ تمام فریقین کو اس تجویز پر اپنی بات رکھنے کا موقع اگلی سماعت پر دیا جائے گا ، فاضل ججوں نے یہ بھی کہا کہ ہم تمام لوگوں کو یکساں طورپر اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس عمل میں توازن کو قائم رکھا جاسکے ، عدالت نے آج اس بات کی بھی وضاحت کردی کہ جب تک SOPپر عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں آجاتا آسام میں کلیم اورآبجکشن کا نہ تو عمل شروع ہوگا اور نہ ہی اس کے فارم تقسیم ہوں گے ۔
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بہت امید افزابات یہ ہوئی ہے کہ فاضل عدالت این آرسی سے متعلق طریقہ کار پر تمام فریقین کو اپنی بات رکھنے اور رائے کا اظہارکرنے کا موقع فراہم کررہی ہے انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آسام شہریت کے معاملہ کو لیکر عدالت بے حد سنجیدہ ہے مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے وکلاء طریقہ کار کے مسودہ کا گہرائی سے مطالعہ کرکے اپنی تجاویز عدالت میں جمع کرچکے ہیں انشاء اللہ 19؍ستمبرکو عدالت کے سامنے اپناموقف مضبوطی سے رکھیں گے انہوں نے آخر میں کہا کہ آسام شہریت کامعاملہ کسی مذہب سے نہیں بلکہ انسانیت کے ساتھ جڑاہوا ہے اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ عدالت حالات اور تمام شواہد کو دیکھتے ہوئے ایسا فیصلہ دیگی جو متاثرین کے وسیع تر مفاد میں ہوگا،
جمعیۃعلماء آسام کے صدرمولانامشتاق عنفر اپنے وکلاء کی ٹیم کے ساتھ آسام میں مسلک ومذہب سے اوپر اٹھ کر لوگوں کو قانونی امدادفراہم کررہے ہیں اور دوسرے شہریت کے تعلق سے آسام میں آبجکشن اورکلیم کا جب دوبارہ عمل شروع ہوگا تو وکلاء کی ٹیم کے لوگ تمام مراکز پر لوگوں کو قانونی امدادفراہم کرنے کے لئے موجودرہیں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *