مگدھ بہار اقلیتی ووٹ کی پھر سے فکر ہوئی جے ڈی یو کو

تمام سیاسی پارٹیاں اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی تیاری میں لگ گئی ہیں۔ بہار میں فی الحال جو سیاسی اتحاد ہے، وہ این ڈی اے بنام مہاگٹھ بندھن کاہے۔ این ڈی اے میں بی جے پی،جنتا دل یو، لوجپا، رالوسپا ہے تو مہا گٹھ بندھن میں راشٹریہ جنتا دل، کانگریس، راشٹر وادی کانگریس بنیادی طور سے شامل ہیں۔ لیفٹ پارٹی بھی آس پاس میں تامل میل کر کے مورچہ بنا سکتے ہیں۔ بہار میں سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کا کیا رخ ہوگا، واضح نہیں ہے۔ انتخابات کے قریب آتے آتے سیاسی اتحاد میں الٹ پلٹ ہو جائے تو اس میں بھی کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔
بہر حال سبھی پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے الیکشن کی تیاری میں لگ گئی ہے۔ بہار میں این ڈی اے کی سب سے بڑی حصہ دار جنتا دل یو بھی ریاست کی سبھی 40 لوک سبھاحلقوں میں الیکشن کی تیاری میں اپنے کارکنوں کو لگ جانے کا حکم دیا ہے۔ مگدھ میں جنتا دل یو کے کارکنان بھی لوک سبھا انتخابات کو لے کر متحرک ہیں۔ لیکن جنتا دل یو کی ایک بھی سیٹ نہیں ہونے کی وجہ سے کارکنوں کے جوش میں تھوڑی کمی نظر آتی ہے۔ ویسے مگدھ میں جنتا دل یو کے اقلیتی طبقہ سے آنے والے لیجسلیٹو کونسلر اور لیڈر اپنے قومی صدر اور ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ہاتھ کو مضبوط کرنے میں تن من سے لگے ہیں۔ اقلیتی ووٹروں کے درمیان وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ مسلمانوں کے لئے لئے بنائی گئی اسکیموں اور ان کی ترقی کے لئے کئے جارہے کاموں کیجم کر تشہیر کررہے ہیں جس کافائدہ این ڈی اے کو مل سکتا ہے۔ ایسے تو بہار نہیں پورے ملک میں مسلمان ووٹر کو این ڈی اے کا خاص کر بی جے پی کا مخالف مانا جاتاہے ۔بہار میں مسلم ووٹ راشٹریہ جنتا دل کا ووٹ بینک مانا جاتاہے تو دوسری ریاستوں میں بی جے پی مخالف پارٹیوں کا ووٹ بینک مانا جاتا ہے ۔لیکن مگدھ میں جنتا دل یو کے ایک درجن سے زیادہ با اثر اقلیتی لیڈر مسلم ووٹروں کو جنتا دل یو اور نتیش کمار کے حق میں گول بند کرنے میں لگے ہیں۔ اس میں سب سے بڑا کردار نوادہ کے لیجسلیٹیو کونسلر سلمان راغب کا ہے۔

 

 

 

سلمان راغب مگدھ میں جنتاد ل یو سے جڑے سبھی اقلیتی لیڈروں و کارکنوں سے مل کر آئندہ الیکشن میں جنتا دل یو کے صدر اور اور ریاستی وزیر علیٰ نتیش کمار کو مضبوط کرنے کی بات کہہ رہے ہیں ۔ان کا کہناہے کہ اس سے لوگوں کا بھرم بھی ٹوٹے گا کہ این ڈی اے میں رہنے سے نتیش کمار کو مسلم ووٹ نہیں مل سکتاہے۔ سلمان راغب کا کہنا ہے کہ والے الیکشن میں اقلیتوں کے زیادہ تر ووٹ جنتا دل یو اور اسکے اتحادی کو ملے، اس کے لئے ہم سبھی کام کررہے ہیں۔ سلمان راغب مگدھ کے پہلے ایسے اقلیتی لیڈر ہیں جو ایک ہی حلقہ نوادہ سے لگاتار تین ٹرم سے کونسلر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مگدھ میں اقلیتوں کے درمیان ان کی پکڑ کافی مضبوط مانی جاتی ہے۔ ان کے ایک بڑے معاون ہیں میجر اقبال حیدر ۔ یہ جنتا دل یو کے سینئر لیڈر ہیں اور سنی وقف بورڈ کے ایک عہدیدار ہونے کے ناطے اقلیتوں میں ان کی اچھی پکڑ ہے۔ اقبال حیدر کانگریس میں لمبے وقت تک رہے اور 2000 میں نوادہ اسمبلی حلقے سے پارٹی کے امیدوار بن کر الیکشن بھی لڑے۔ نتیش کمار کے ذریعہ اقلیتوں کے لئے کئے جارہے فلاحی اسکمیوں اور ٹریپل ’ سی ‘ کاسٹ کرائم اور کمیولزم سے سمجھوتہ نہیں کرنے کی بات سے متاثر ہو کر پچھلے ایک دہائی سے جنتا دل یو سے جڑے ہیں۔ مگدھ میں اقلیتوں کے درمیان نتیش کمار کی جڑ مضبوط کرنے میں اقبال حیدر بھی لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتوں کے لئے نتیش کمار نے جو کیا ہے اور کر رہے ہیں ، وہ کام آزاد ہندوستان کی تاریخ میں اب تک کسی لیڈر نے نہیں کیا۔ 1989 میں بھاگلپور فسادکے بعد مسلم – یادو سمیکرن سے اقتدار حاصل کرنے والے لالو پرساد نے بھی اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک کی شکل میں استعمال کیا، دیا کچھ نہیں۔ بھاگلپور فساد متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے بی جے پی کے ساتھ سرکار بنانے والے نتیش کمار نے دوبارہ جانچ کمیشن کی تشکیل کی اور متاثرین کو معاوضہ ، پنشن دلانے کا کام کیا۔ تعلیمی مرکز، ہنر یوجنا، مکھ منتری الپ سنکھیک ودھارتھی پروتساہن یوجنا، مسلم پرتیکت سہائتا یوجنا ، الپ سنکھیک چھاتر واس، مکھ منتری الپ سنکھیک روزگار شرن یوجنا، الپ سنکھیک شکشا شرن یوجنائیں نیتش کمار نے اقلیتوں کے لئے شروع کئے۔ ساتھ ہی بہار ریاستی سنی وقف بورڈ کا سالانہ گرانٹ 20 لاکھ سے بڑھا کر 2 کروڑ اور شیعہ وقف بورڈ کا 7.50 لاکھ سے بڑھا کر 80 لاکھ روپے کر دیا۔ پٹنہ کی تاریخی انجمن اسلامیہ ہال کی از سر نو تعمیر کے لئے 35.18 کروڑ روپے کی منظوری دی جبکہ بہار حج کمیٹی کا سالانہ گرانٹ 10 لاکھ سے بڑھا کر 80 لاکھ کر دیا ہے۔ مدرسہ کے ماڈرنائزیشن اور تعلیمی اسٹاف کے لئے بھی نتیش کمار نے کروڑوں روپے کی منظوری دی ہے۔ میجر اقبال حیدر مگدھ ہی نہیں پورے بہار میں جہاں بھی جاتے ہیں، اقلیتوں کے لئے نتیش کمار کے ذریعہ کئے گئے مذکورہ کاموں کی باتیں کرتے ہیں۔ میجر اقبال حیدر کے علاوہ قریب درجن بھر جنتا دل یو کے اقلیتی لیڈر ہیں جو نتیش کمار کے لئے اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے بیچ ان کی جڑیںمضبوط کرنے میں لگے ہیں جن میں جہان آباد کے ابرار احمد کا نام اہم ہے۔یہ جنتا دل یو کے سینئر لیڈر ہیں۔ جہان آباد ضلع جنتا دل یو اقلیتی سیل کے صدر شاہد اقبال ، اورنگ آباد ضلع جنتا دل اقلیتی سیل کے صدر ضیا ء المصطفیٰ خان وغیرہ لیڈر ہیں جو مگدھ میں اقلیتوں کے بیچ نتیش کمار کے لئے کام کررہے ہیں۔جنتا دل یو کے ان اقلیتی لیڈروں کے دعوے تو بہت زیادہ ہیں، لیکن مگدھ میں پانچ سے دس فیصد اقلیتوں کا ووٹ بھی جنتا دل یو یا این ڈی اے کو ملا تو بری بات ہوگی۔ لوک سبھاانتخابات میں یہ ووٹ بھلے بہت معنی نہیں رکھتے ہوں لیکن اسمبلی انتخابات میں یہ ووٹ فیصد کئی نتیجوں کو بدل سکتاہے ۔ اب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ مگدھ میں آنے والے انتخابات میں اقلیتوں کا کیا رخ ہوگا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *