کشمیر بالکل سیاسی مسئلہ ہے

شیخ چلّی کی باتیںہندوستان جیسے ملک میںنہیںچلتی ہیں۔ کسان جانتا ہے کہ میری اتنی زمین ہے، نہ میںاس کی پیداوار ڈبل کرسکتا ہوں او رنہ ہی اس کی منیمم سپورٹ پرائس سرکار ڈبل کردے گی۔ اگر بہت اچھی سرکار آگئی، میری بہت مدد کرے گی تو دس فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ ہندوستان میں ہر کسان کے پاس جانور ہوتے ہیں۔ وہ بھی آمدنی کا ذریعہ ہیں لیکن سرکار ان کو گائے کے نام پر ڈرا رہی ہے۔ ایسا ماحول بنادیا ہے کہ کوئی سنگھ کا آدمی بھگوا کپڑے پہن کر یا اپنے آپ کو کوئی بجرنگ دل بول کر کسی پر بھی ہاتھ ڈال دے گا اور پولیس ان سے ڈرتی ہے۔ یہ ماحول بہت خراب ہے۔ ملک کا تو اس سے بھلا نہیںہوگا۔
میں سمجھتا ہوں کہ واجپئی جی کا انتقال ایک موقع ہے جب سرکا رکو اس بات کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ غلطی کہاںہوئی۔ کہاںسے شروع ہوئے تھے اور کہاںچلے گئے۔ پارلیمنٹ میںراہل گاندھی مودی جی سے گلے ملنے آگئے تو مودی جی گھبرا گئے کہ میںکیا جواب دوں۔ اٹل جی ہوتے تو کھڑے ہوکر گلے ملتے اور بولتے راہل جی آج آپ نے بڑا اچھا بھاشن دیا ۔ اس میںکیا چلاجاتا بی جے پی کا؟ لیکن مودی جی اور بی جے پی میںیہ دم نہیںہے۔ الٹے کانگریس مکت بھارت، پپّو، اٹالین وغیرہ بول کر تعصب پیدا کردیا ہے۔ کل ملاکر مودی جی نے اس واقعہ سے وزیر اعظم کے عہدے کے وقار کو گرا دیا۔ جواہر لعل نہرو جس کرسی پر بیٹھے تھے، اس پر آپ بیٹھے ہیں ۔ اس کے بیچ میںبارہ اور آگئے۔ کسی کی تقلید کیجئے۔ اٹل جی کی ہی کریے۔ کانگریس کو چھوڑیے، نہرو کو چھوڑیے۔ اٹل جی جو کرتے تھے، اس کا 50 فیصد بھی آپ کر دیںگے تو آپ کی پارٹی کا بھلا ہو جائے گا۔ ابھی بھی کچھ بگڑا نہیںہے۔ ہار جیت چھوڑ دیجئے۔ کوئی الیکشن آخری الیکشن نہیںہوتا۔

 

اب سوشل میڈیا ہمارا چاریہ بن گیا ہے

 

راجیہ سبھا کا ڈپٹی چیئرمین بی جے پی والوںنے ہری ونش کو بنایا۔ ہری ونش بہت اچھے آدمی ہیں لیکن مبارکباد میںمودی جی نے ایسے الفاظ کہہ دیے جنھیں ریکارڈ سے ہٹانا پڑا۔ یہ کیا بات ہے؟ شرافت کی ایک منیمم لائن کھینچئے کہ اس سے نیچے آپ نہیںجائیںگے۔ وینکیا نائیڈو میںاتنی طاقت نہیںتھی کہ وہ مودی کے خطاب کے بعد الفاظ کو ریکارڈ سے ہٹا سکیں۔ امیت شاہ اور ارون جیٹلی سمجھ گئے کہ جس بات کو ریکارڈ سے ہٹا دیا جاتا ہے،اس کی رپورٹنگ نہیںہوتی۔ امت شاہ اور ارون جیٹلی سمجھ گئے کہ یہ تو الٹا پڑ جائے گا۔آج کل تو ٹویٹر ، ٹی وی ہے۔ ہم نے پڑھ لیا کہ کیا بولے تھے وزیر اعظم۔ اس سے پارلیمنٹ کا وقار کم ہوا تھا۔
معیشت کو جونقصان ہونا تھا،وہ ہو گیا ہے نوٹ بندی ،جی ایس ٹی سے۔ اب عوام فیصلہ لیںگے کہ یہ قدم صحیح تھے یا غلط ۔ ہرآدمی اپنا من بنا چکا ہے کہ کسے ووٹ دے گا۔ لیکن کم سے کم مودی جی اپنا طرزعمل تو ٹھیک کریے اور اٹل جی کے انتقال سے اچھا موقع کوئی نہیںہے یہ کہنے کے لیے کہ ہم ان کے طرز عمل کی تقلید کریںگے۔
مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ستیہ پال ملک کو کشمیر کا گورنر بنا دیا گیا۔ یہ تو مجھے کبھی امید نہیںتھی۔ میںنے سنا تھا کہ ڈوبھال صاحب کو وہاںبھیج رہے ہیںیا کوئی اور پولیس افسر کو بھیج رہے ہیں۔ ستیہ پال ملک سوشلسٹ ہیں۔ چودھری چرن سنگھ کے ساتھ کام کیے ہوئے ہیں۔ میرٹھ کے کسان ہیں۔ ان کو کشمیر کا گورنر بنانا کیا اشارہ ہے، میری سمجھ میںنہیںآیا۔ خوشی مجھے بہت ہے۔ اس لیے کہ وہ سلجھے ہوئے آدمی ہیں۔ کیا کر پائیںگے، نہیںکرپائیں گے، اسے لے کر میرا خدشہ اس لیے ہے کہ کشمیر کی سب سے بڑی طاقت ، سب سے بڑی پہچان آرٹیکل 370 ہے۔ اب ستیہ پال ملک تبھی کچھ کر پائیں گے جب مودی جی انھیںکچھ کرنے دیں۔ قاعدے سے کشمیر اسمبلی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کا خود کا الیکشن کمیشن ہو، اس سے بی جے پی کو کیا نقصان ہے؟ ملک کا کیا نقصان ہے؟ یونین آف انڈیا میںکشمیر یہ تجویز تو پاس نہیںکر سکتا ہے کہ اسے پاکستان کے ساتھ جانا ہے یا شام کے ساتھ جانا ہے۔ لیکن یہ کرنے سے کشمیریوں کو لگے گا کہ ہماری ’سیلف رسپیکٹ‘ ہمیںواپس مل گئی ہے۔

 

 

 

 

چدمبرم صاحب نے ایک دن کہہ دیا کہ کشمیر کے بچے آزادی بولتے ہیں،ان کا مطلب آزادی نہیںہے، آٹونومی ہے۔ اس بیان میںکیا قابل اعتراض ہے؟ کشیر کو اگر واپس آٹونومی مل جائے تو اس میںکیا دقت ہے؟ وزیر اعظم نے پچھلے سال لال قلعہ سے کہا تھا کہ نہ گالی سے نہ گولی سے، کشمیر اپنا ہوگا گلے ملنے سے۔ تو پھر اسی نظریہ کو لاگو کریے۔ ستیہ پال ملک کو ہدایت دیجئے کہ کشمیریوںکو گلے لگائیے اور کہیے کہ تمہارے حقوق کو کوئی نہیںچھینے گا اور ایک ایک پوائنٹ پر 370 کو ڈسکس کریے کہ 370کا کون سا حصہ کشمیریوںکے لیے کمزور ہوا ہے۔ سارے کشمیری اگر سرکار کے ساتھ بات نہیں کرتے ہیںتو اس کا کوئی مطلب نہیںہے۔ آپ نے جو وعدے کیے ہیں، وہ پورے کرنے ہی ہوںگے نا پھر دیکھئے کہ راتوںرات کیسے کشمیر کی حالت بدلتی ہے۔ دو سال قبل سنتوش بھارتیہ، جو ہمارے دوست ہیں، ان کے ساتھ ہم کشمیر گئے تھے۔ گیلانی صاحب سے، مولوی فاروق سے، شبیر شاہ سے، تاریگامی سے ملے تھے۔ کل ملاکر بات یہ نکلی تھی کہ بدامنی کوئی آج کا مسئلہ نہیںہے۔ رفتہ رفتہ یہاںکی حالت اتنی خراب کردی کہ وہ بیچارے کیا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ہندوستان کے حق میںکچھ بولیںتو مشکل اور دوسری طرف بولیںتو پاکستانی ہیں۔
بی جے پی نے چار سال میں ایک نیا کام کیا ہے۔آج عام جنتا کے ذہن میںپاکستان ایک ملک نہیںہے۔ پاکستان ایک گالی ہے۔ کوئی بھی بات کرے تو توپاکستان۔ پاکستان سے ہمارا کیا لینا دینا ہے؟ ہمارا آدرش پاکستان ہے کیا؟ ہمارا آدرش ہندوستان ہے، ہمارا آدرش چار ہزار سال کی ہندوستانی ثقافت ہے۔ اس کو تو گالی مت دیجئے۔ اس میںوعدہ خلافی، جھوٹ بولنا، چھل کپٹ کرنا نہیںہے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ کے بعد پہلا سیاسی شخص آپنے وہاںاپوائنٹ کیاہے۔ اس کے لیے میںآپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ کانگریس نے نہیںکیا۔ کانگریس نے ذہین بیوروکریٹ بھیجے تھے، بی کے نہرو وغیرہ کو۔ لیکن آپ نے جو کام کیا ہے، وہ بہت عقل مندی کا کام ہے۔ آپ نے ایک سیاسی آدمی کو بھیجا ہے، شاید یہ سوچ کر کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ کشمیر میںمحبوبہ سرکار کے فنانس منسٹر نے ایک بار کہا کہ کشمیر سیاسی نہیں سماجی مسئلہ ہے۔ محبوبہ مفتی نے اسے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ بالکل صحیح کیا تھا۔ کشمیر بالکل سیاسی مسئلہ ہے۔ مودی جی وہاںجاتے ہیں تو کہتے ہیںکہ نوکری دوںگا۔ آپ کوئی خیرات بانٹ رہے ہیںکیا؟ کشمیریوں کا دل واپس جیتئے اور اس کے لیے پوری اتھارٹی دیجئے ستیہ پال ملک کو۔ ان سے کہیے کہ کشمیریوں کا دل جیتیں۔ پولیس اپنا کام کررہی ہے، آرمی اپنا کام کررہی ہے اور وہ تو کرے گی ہی۔ کشمیریوںکا دل جیتنے کی ضرورت ہے۔ ستیہ پال ملک میںیہ سب ہنر ہیں۔ وہ یہ کام کرسکتے ہیں۔ کشمیر میںایک نیا باب پھر سے شروع ہوسکتا ہے۔ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ سب کو بٹھائیے اور گورنر صاحب سے کہیے کہ سب سے صلاح کریں۔ مودی جی صرف اتنا وعدہ کردیںکہ ہندوستان نے جس ایگریمنٹ پر دستخط کیے ہیں،اس سے ہم مکریںگے نہیں۔آپ دیکھئے کشمیر کا حل کیسے نکل آتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *