کلدیپ نیر سماج کے سلگتے ایشوز سے کبھی نہیں ہٹے

کلدیپ نیر اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ بہت سارے لوگوں نے کلدیپ نیر کو یاد کیا اور انہیں نم آنکھوں سے وداع کیا۔کلدیپ نیر کا جانا تاریخ کے ایک ایسے باب کا بند ہونا ہے، جو باب زندگی کی جدو جہد کو، نظریات کو، عوامی صحافت کو اور صحافت کی شان کو زندہ دِکھنے والا باب رہا ہے۔کلدیپ نیر پوری زندگی اپنے بل بوتے جدو جہد کرتے ہوئے پورے ہندوستان میں صحافت کی بلندی پر پہنچے اور بلندی پر پہنچنے کے بعد بھی لگاتار ان لوگوں کے ساتھ جڑے رہے، جنہوں نے انہیں بلندی پر پہنچایا ہے۔ یہ خوبی آج کے دور میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اسی لئے کلدیپ نیر کا جانا ، شان سے جیتے ہوئے ایک ایسے عظیم الشان شخص کا جانا ہے ، جس نے زندگی میں بہت سارے لوگوں کو بنایا، بہت سارے لوگوں کو تحریک دی اور صحافت کی دنیا میں ہر ایک کے دل پر اپنی لازوال چھاپ چھوڑ دی۔
پاکستان سے پناہ گزیں بن کر آیا ہوا خاندان، اس خاندان کا ایک نوجوان اردو اخبار سے اپنی زندگی شروع کرتا ہے اور اپنی جوانی کے آخری پڑائو میں وہ ملک کے سب سے بڑے انگریزی اخبار کا ایڈیٹر بن جاتا ہے۔ اس بیچ اس نے بہت سارے تجربات کئے۔ لیکن جب وہ ایڈیٹر بنے تو انہوں نے ہمت کی، ایسی کہانی لکھی، جس کہانی کی مثال آج کہیں نہیں ملتی۔ ایمرجینسی لگی۔ 1975 کا سال تھا اور کلدیپ نیر نے ایمرجینسی کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ اخبار میں ایڈیٹوریل صفحہ خالی چھوڑ دیئے اور اپنے ساتھی اجیت بھٹہ چاریہ جی اور پربھاش جوشی کی بھی ایسا کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ کلدیپ نیر کے مضامین سرکار کی آنکھوں میں ہمیشہ چبھتے تھے۔ اسی لئے جب سرکار نے آزاد نظریات والے افراد کو جیل کے اندر ڈالنے کی لسٹ بنائی، اس میں کلدیپ نیر کا نام سب سے اوپر تھا۔ کلدیپ نیر ملک کے ان چنندہ صحافیوں میں تھے، جنہیں سرکار نے 19 مہینے کے لئے جیل میں ڈال دیا تھا۔ کلدیپ نیر چاہتے تو بہتوں کی طرح سے ایک عام سا معافی نامہ لکھ کر گھر آسکتے تھے لیکن کلدیپ نیر نے ایسا نہیں کیا۔ کلدیپ نیر نے صحافت کو عام لوگوں کے شعور کو جھنجھوڑنے کا ذریعہ بنایا ۔ ان کے مضامین دل کو متاثر کرتے تھے، اس سے زیادہ ان کے ادارتی قیادت میں نکلنے والی خبروں کا انتخاب لوگوں کو راستہ دکھاتا تھا۔ کلدیپ نیر شاندار ایڈیٹر تھے۔

 

 

 

کلدیپ نیر نے صحافت میں ایک نیا کام شروع کیا اور وہ کام تھا بامعنی صحافت کرنا، فعال صحافت کرنا۔ کلدیپ نیر فعال صحافت کے بعد بھی گھر میں بیٹھ کر کالم لکھتے تھے لیکن وہ سماج کے سلگتے ایشوز سے کبھی نہیں ہٹے۔ انہوں نے ان ایشوز کی حمایت صرف لکھ کر نہیں کی بلکہ انہوں نے لوگوں کی روح کو بھی جگانے کا کام کیا۔ کلدیپ نیر ملک میں ہر جگہ جاتے تھے اور سماجی، سیاسی چیلنجوں ، اقتصادی سوالوں اور گرتی ہوئی سیاسی حالات پر لوگوں کے ساتھ بیباک بات چیت کرتے تھے۔ایسے ایڈیٹروں کے نام تلاشیں تو بہت کم ایڈیٹر نظر آتے ہیں جو قارئین سے اپنی تحریر کے ذریعہ بھی بات چیت کرتے ہوں۔کلدیپ نیر کی زندگی عمر کے خلاف کھڑے شخص کی زندگی ہے۔ انہوں نے کبھی عمر کو، اپنی بیماری کو اپنے عزائم کے آگے کھڑا نہیں رہنے دیا۔
کلدیپ نیرنے 95 سال تک ملک کے عام لوگوں کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کرتے رہے۔یہ سفر جو 20سال کی عمر میں شروع ہوا تھا،وہ سفر 22 اور 23اگست کی درمیانی شب میں جاکر رکا۔ زندگی کے آخری لمحوں تک کلدیپ نیرسرگرم عمل رہے۔ انہوں نے ہندوستان-پاکستان رشتوں کو نارمل کرنے کیلئے ہندوستان -پاکستان کی سرحد پر تقریباً ہر سال ایک ایک تقریب کا انعقاد کیا۔اس میں وہ خود جاتے تھے اور دونوں ملکوں میں امن ہو، اس کے لئے موم بتیاں جلاتے تھے۔ پاکستان کی طرف سے ان کے دوست آتے تھے اور دونوں امن کے لئے، عوام میں بات چیت ہو ،اسکے لئے،عوامی بیداری کا عہد لیتے تھے۔ اب وہ عہد ان کے بعد کون پورا کرے گا، ابھی کہا نہیں جاسکتا۔
ایشیا کے صحافیوں کا سمینار ہو یاغیر ملکوں میں صحافت کو لے کر بحث ہو یا ’چوتھی دنیا ‘ جیسے اخبار کی روزہ افطار پارٹی ہو، سب جگہ کلدیپ نیر جاتے تھے اور آخر تک بیٹھتے تھے۔ مجھے یاد ہے ، جب ’چوتھی دنیا ‘ کا اردو ورژن شروع ہوا، آشرواد دینے کلدیپ نیر سب سے پہلے آئے اور پوری تقریب میں آخر تک بیٹھے۔ اس کے بعد ہر سال اردو ’چوتھی دنیا ‘ کی طرف سے روزہ افطار کا انعقاد ہوا اور اس میں کلدیپ نیر آتے رہے۔ پچھلے پروگرام میں وہ بہت ڈگمگاتے قدموں سے آئے لیکن آئے اور بیٹھے۔ یہ کلدیپ نیر کا ان لوگوں کے تئیں پیار تھا جو لوگ صحیح صحافت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں اس معاملے میں خوش قسمت ہوں کہ وہ جب بھی مجھے ملے، میں نے ان کے پیر چھوئے اور ان کا ہاتھ میری پیٹھ یا میرے سر پر گیا۔ اب اس تھرتھراتے لیکن مضبوط ہاتھ کی کپکپاہٹ مجھے زندگی میں کبھی محسوس کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ لیکن میں کلدیپ نیر کی موت کا غم نہیں منا رہا ہوں۔ میں کلدیپ نیرکی اس زندگی کے سفر کو ایک ایسے راستے پر دیکھتا ہوں ،جس پر چلنے کی ہمت کم سے کم وہ لوگ نہیں کر پائیںگے، جنہوں نے صحافت کو بھرشٹ کردیا۔

 

 

 

کلدیپ نیر کا خواب تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے صحافی آپس میں بات چیت کریں۔ ہندوستان اور پاکستان کے عوام آپس میں بات چیت کریں۔ اس کے لئے انہوں نے اپنی پوری زندگی کوشش کی۔ انہوں نے کبھی کسی کو دشمن نہیں مانا۔ وہ ہر ایک میں خوبی تلاش کرتے تھے اور یہی کلدیپ نیر کی خاصیت تھی۔
آنے والی نسل کلدیپ نیر کو اگر پڑھے گی تو سمجھ پائے گی کہ ایک صحافی کے معنی کیا ہوتے ہیں۔ ایک صحافی کی جدو جہد کیا ہوتی ہے اور ایسا صحافی جو کبھی اقتدار سے سمجھوتہ نہیں کرتا ہے، وہ اقتدار چاہے اندرا گاندھی کا رہا ہو یا وہ اقتدار نریندر مودی جی کا رہا ہو۔ انہوں نے پاور اسٹبلشمنٹ کو ہمیشہ چیلنج دیا۔ چیلنج اپنے لئے نہیں دیا۔وہ چیلنج اس ملک کے عوام کے لئے دیا۔ انہوں نے جس طرح کی صحافت کی، ویسی صحافت کرنے کا دم خم بہت کم لوگوں میں ہے اور تب سنت کبیر کی دو لائنیں یاد آتی ہیں: کبیر کھڑا بازار میں لئے لوکاٹھی ہاتھ، جو گھر پھونکے اپنا چلے ہمارے ساتھ۔ کلدیپ نیر ہمارے زمانے کے کبیر تھے۔ آج ہمارا کبیر ہم سے دور چلا گیا۔ انہیں خراج عقیدت ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *