کمزور ہوتا جارہا ہے انفارمیشن کمیشن

حق اطلاعات قانون جو آرٹی آئی (رائٹ ٹو انفارمیشن ) کے نام سے زیادہ جانا جاتاہے، جمہوری ہندوستان میں ایک بڑا جمہوری ہتھیار بن چکا ہے۔ مگر یہ اصحاب اقتدار کو نہیں بھاتا ہے کیونکہ جن حقائق کو عوام کے جاننے سے ان کی کمزوری جگ ظاہر ہو جائے گی، اسے وہ عام کیوں ہونے دیں؟اس معاملے میں جو اصحاب آج اپوزیشن میں ہیں مگر کل جب اقتدار میں تھے، انہیں بھی اس وقت یہ پسند نہیں تھا۔
تبھی تو اولین چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ کہتے ہیں کہ 2006 میں یو پی اے کے دور حکومت میں اسے کمزور کرنے کی کوشش ہوئی اور تب ایک فائل کی نوٹنگ ایک بڑا ایشو بن گیا، بعدازاں اصحاب اقتدار کو اسے واپس لینا پڑا اور اس نے اس کے لئے پھر دبائو نہیں ڈالا۔اس وقت وزیرا عظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو یہ کہناپڑا کہ مستقبل میں جب کبھی بل میں ہم کوئی ترمیم کرنا چاہیں گے توایسا عوام کی رائے سے ہی کیا جائے گا۔ وجاہت حبیب اللہ کا یہ بھی کہناہے کہ وہ وزیر اعظم ہند کا عہد تھا، ڈاکٹر منموہن سنگھ کا عہد نہیں تھا۔ لہٰذا حکومت ہند کو اسے ایک پالیسی کے فیصلہ کے طور پر لینا چاہئے۔
گزشتہ دنوں این ڈی اے کے دور حکومت میں بھی آر ٹی آئی (ترمیمی) بل 2018 بھی آر ٹی آئی کو کمزور کرنے کی اسی منشا کا اظہار تھا مگر اس کے خلاف اٹھی آواز کے سبب یہ فی الوقت ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔ وجاہت حبیب اللہ اس سلسلے میں بھی یہی کہتے ہیں کہ این ڈی اے جو کہ ایمانداری اور انٹیگریٹی کے وعدہ سے اقتدار میں آئی، نے عوام سے رائے کئے بغیر اس طرح کی ترمیم کے لئے قدم آگے بڑھایا۔ ان کے خیال میں اگر یہ بل پاس ہوا تو یہ انفارمیشن کمیشن کو کمزور کردے گا اور اس کی آزادی کو ڈائیلیوٹ کرے گا،حکومت کی سرپرستی کو بڑھائے گا اور عہدوں کے لئے لابنگ کرنے کو فروغ دے گا۔ المختصر ان کا ماننا ہے کہ مجوزہ آر ٹی آئی ترمیم کا براہ راست اثر انفارمیشن کمیشن کو کمزور کرنا اور بالواسطہ کمیشن کی آزادی میں مداخلت کرنا ہوگا۔
ویسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہ بل فی الحال ٹھنڈے بستے میں کر بھی دیا گیا ہے تو بصورت دیگر یہ قانون کمزور ہوتا ہی جارہا ہے، سنٹرل انفارمیشن کمیشن ہو یا ریاستی، ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں یا اپیلیں یہاں رکی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف یہاں وافر اسٹاف نہیں ہے یا انفارمیشن کمشنر اور دیگر اسٹاف کی جگہیں خالی پڑی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ریاست مہاراشٹر ہی کو لیں تو یہاں 8فنکشنل اسٹیٹ انفارمیشن کمیشنز ہیں جن میں سے ایک کے سربراہ ممبئی میں خود چیف اسٹیٹ انفارمیشن کمشنر ہیں جہاں 6 ہزار سے زیادہ سیکنڈ اپیلیں رکی ہوئی ہیں۔
دیگر انفارمیشن کمیشنوں کا تو اور بھی برا حال ہے۔پونے کا نمبر سرفہرست ہے۔ ریاست مہاراشٹر کے پونے میں 8ہزار سے بھی زیادہ آر ٹی آئی سیکنڈ اپیلیں جولائی کے اواخر تک جمع ہوچکی تھیں۔ کل 8 ہزار 746 اپیلوں میں سے 600 تو 2016 سے توجہ کی طالب ہیں اور انہیں ابھی نمٹایا جانا باقی ہے۔

 

 

 

 

ریاست مہاراشٹر میں کل رکی ہوئی سیکنڈ اپیلوں کی تعداد 35 ہزار 397 ہے جبکہ ناسک اور امراوتی میں یہ تعداد 8 ہزار 93 اور 7 ہزار 505بالترتیب ہیں۔ امراوتی میں 40 سے زائد اپیلیں 2015 سے پڑی ہوئی ہیں۔ عیاں رہے کہ سیکنڈ اپیلیں تب فائل کی جاتی ہیں جب آر ٹی آئی درخواست دہندگان اپنے سوالات کے جوابات سے مطمئن نہیں ہوپاتے ہیں۔ سیکنڈ اپیلیں ریاستی انفارمیشن کمشنروں کو بھیجی جاتی ہیں جو کہ اس تعلق سے حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔ کہا جاتاہے کہ دوسری اپیلوں کی تعداد اسلئے بڑھ جاتی ہے کہ متعدد بپلک انفارمیشن ایجنسیاں درخواست دہندگان کے دریافت کئے گئے سوالات کے تعلق سے اطلاعات شیئر کرنے سے انکار رکردیتی ہیں۔
ریاست مہاراشٹر کی یہ تشویشناک صورت حال ریاستی انفارمیشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2017 سے سامنے آئی ہے اور اس میں پونے کے ساتھ مزید 3 بینچوں کی تشکیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ ناقابل تردید تلخ حقیقت ہے کہ لمبے عرصے سے اپیلوں کو لٹکائے جانے سے آر ٹی آئی قانون کے مؤثر نفاذ کا کاز متاثر ہوتاہے۔ سابق سنیٹرل انفارمیشن کمشنر شیلیش گاندھی کا کہنا ہے کہ آر ٹی آئی کے تحت اطلاع کو فراہم کرنے میں تاخیر سے پورے عمل میں عام آدمی کا اعتماد اور بھروسہ متزلزل ہوتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ کمیشنوں میں ایکسٹرایا مزید بینچوں کی تشکیل سے رکی ہوئی درخواستوں اور سیکنڈ اپیلوں کی تعداد کم ہوگی۔ اس لئے شیلیش گاندھی کا مطالبہ ہے کہ بینچوں کی تعداد کو فوری طور پر بڑھایا جانا چاہئے۔
اس ضمن میں دو این جی اوز ’سترک ناگریک سنگٹھن ‘ اور ’ سینٹر فار اکیوٹی اسٹڈیز ‘ کی چند ماہ قبل ریلیز ہوئی رپورٹ سے اس ایشو کی سنگینی پر روشنی پڑتی ہے۔ اس سے انفارمیشن کمیشنون کی کارکردگی بشمول اپیلوں اور رجسٹرڈ شکایتوں کی تعداد اور نمٹائے گئے معاملوں کا بھی اندازہ ہوتاہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ رکی ہوئی اپیلیں اور شکایتیں کتنی ہیں اور پینالٹی کتنی ہوئیں اور ایک اپیل کو نمٹانے میں کتنا وقت لگا؟نیز انفارمیشن کمیشنوں کے ذریعے سزائوں کی خلاف ورزیاں کتنی ہوئیں؟اس سے ان کمیشنوں کی کارکردگی میں شفافیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان تمام سوالوں کے جوابات مایوس کن ہیں۔یہ رپورٹ 29 ریاستی انفارمیشن کمیشنوں اور سینٹرل انفارمیشن کمیشن کی 169 آرٹی آئی درخواستوں پر مبنی ہے۔
چونکانے والی یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمام معاملوں میں محض 4.1 فیصد معاملوں میں واقعی پینالٹیز ہوئیں۔ اس سے ایک اور افسوسناک انکشاف یہ ہوا ہے کہ انفارمیشن کمیشنوں کے ذریعے بڑی تعداد میں اپیلیں اور شکایتں واپس کی جارہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ایک نیا رجحان ہے۔ جنوری 2016 سے لے کر اکتوبر 2017 تک سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے 27 ہزار 558 اپیلوں اور شکایتوں کو واپس کیا۔ اسی طرح ریاست گجرات کے ریاستی کمیشن نے 9 ہزار 854 اپیلوں اور شکایتوں کو جنوری 2016 سے اکتوبر 2017 تک واپس بھیجا۔ آسام اور اتراکھنڈ واپس بھیجی گئی اپیلوں اور شکایتوں کی تعداد ایک ہزار 580 اور ایک ہزار 121 بالترتیب ہیں۔ اس رپورٹ کی روشنی میں یہ تلخ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ 23 انفارمیشن کمیشنوں میں 31دسمبر 2016 کو رکی ہوئی اپیلیں اور شکایتیں ایک لاکھ 81 ہزار 852 تھیں جو کہ اکتوبر 2017 کے اواخر میں ایک لاکھ 99 ہزار 186 تک جاپہنچی۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہ تمام تلخ حقائق آر ٹی آئی کے مقصد کو کمزور کرتے ہیں جو کہ عوام کو قوت فراہم کرنے والا ایک قانون ہے۔ اگر یہ قانون کمزور ہوتا ہے تو جمہوریت کے لئے یہ اچھی خبر نہیں ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *