حج 2018 میں بھی پریشان ہوئے ہندوستانی حجاج

حج 2018 پورا ہو چکا ہے ۔ہندوستان کے ایک لاکھ 75 ہزار25 حجاج اپنے وطن لو ٹ رہے ہیں۔ان حاجیوں میں ایک لاکھ 28 ہزار 702 حج کمیٹی کے تحت اور بقیہ پرائیویٹ ٹور آپریٹر کے توسط سے حج پر گئے تھے۔یہ پہلا موقع ہے جب حج کے اس سفر میں 47 فیصد سے زیادہ خواتین تھیں اور 1300 ایسی خواتین شامل تھیں جن کے ساتھ کوئی محرم نہیں تھا ۔ حاجیوں کو بہتر سہولتیں پہنچانے کا دعویٰ حج کمیٹی ہر سال کرتی ہے۔اس کے لئے مکہ و مدینہ کے دورے پر وفود بھیجے جاتے ہیں مگر جب حجاج وہاں پہنچنے ہیں توتمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوجاتے ہیں۔ امسال عزیزیہ اور منیٰ میں قیام کے دوران حاجیوں کو جو پریشانیاں ہوئیں ،ان کا ذکر کرتے ہوئے کچھ حاجی انتہائی افسردہ ہوجاتے ہیں ۔ حج کمیٹی مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور منی کے خیموں میں قیام کرنے کی پوری قیمت وصول کرتی ہے اور قیمت وصولی کے وقت دعویٰ کرتی ہے کہ انہیں تمام لازمی سہولیات پہنچائی جا ئیںگی مگر عملی طور پرایسا ہوتا نہیں ہے۔

 

 

 

رہائش میں دشواریاں
امسال جن حاجیوں کو عزیزیہ میں ٹھہرایا گیا ،انہیں کئی طرح کی دقتیں پیش آئیں۔ جن عمارتوں میں انہیں رکھا گیاتھا ،اس کا منٹننس کتنی نچلی سطح کاتھا ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بلڈنگ نمبر 168 جو کہ کثیر منزلہ عمارت ہے ۔وہاں حاجیوں کے لئے جو لفٹ لگی ہوئی تھی ،انتہائی خستہ حال تھی۔منی روانگی سے قبل والے جمعہ کے دن جب حجاج نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے لفٹ سے اتر رہے تھے تو اچانک لفٹ پھنس گئی۔ اس وقت لفٹ میں کئی خاتون حاجیہ بھی موجود تھیں۔اسی عمارت میں ٹھہرائے گئے ایک حاجی جن کا کور نمبر ایم ایچ ایف 3316 ہے ،نے بتایا کہ جب حاجیوں کو اس عمارت میں لایا گیا تھا تو کہا گیا تھا کہ انہیں پینے کے لئے زمزم کا پانی مہیا کرایا جائے گالیکن زمزم کے بجائے انہیں بیسلری کا پانی دیا گیا ۔ افسوس تو اس با ت کا ہے کہ عمارت کی بعض کھڑکیوں سے شیشے غائب تھے اور شیشے کی جگہ شٹر لگادیا گیاتھا۔اتنا ہی نہیں عزیزیہ کی کچھ ایسی عمارتوں میں حاجیوں کو ٹھہرایا گیا تھا جو زیر تعمیر تھے۔ظاہر ہے ، زیر تعمیر ہونے کی وجہ سے حاجیوں کو کئی مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔حالانکہ ان عمارتوں کے انتخاب کے لئے ہندوستان سے باقاعدہ وفد روانہ کیا جاتاہے اور اس میں حج کمیٹی آف انڈیا کے اراکین بھی شامل ہوتے ہیں،اس کے باوجود ایسی زیر تعمیر عمارتوں کو عازمین کی رہائش کے لئے کیسے منتخب کیا گیا ؟اس سوال کا جواب حج کمیٹی آف انڈیا کو دینا چاہئے۔
جہاں تک حاجیوں کو حرم شریف سے دور ٹھہرانے کی بات ہے تو مدینہ منورہ میں انہیں جس عمارت میں ٹھہرایا گیا ، وہ مسجد نبوی سے دو کلو میٹر سے زیادہ کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ گرین کٹیگری کے حاجیوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں حرم کے قریب رہائش دی جائے گی۔ جو حاجی جوان ہیں پیدل چل کر پنج وقتہ نماز کے لئے آسکتے ہیں ،ان کے لئے تو بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن پریشانی بیمار، معذور اور بوڑھوںکے لئے ہے ۔وہ اتنا لمبا راستہ پیدل چل کر نہیں آسکتے تھے۔کچھ تو ذاتی ٹیکسی سے مسجد نبوی آجاتے مگر کچھ پیدل چلنے پر ہی مجبور ہوتے اور کسی طرح 40 نماز کی ادائیگی کے لئے ایک ہفتہ تک پیدل چل کر مسجد نبوی تک آتے رہے۔مکہ میں تو یہ رہائش گاہیں تقریبا 15 کلو میٹر دورہیں۔ظاہر ہے اتنی لمبی مسافت کو پیدل طے کرنا وہ بھی پانچ وقتوں میں انتہائی مشکل کام ہے ۔اسی لئے ہندوستانی قونصلیت عزیزیہ سے حاجیوں کو حرم شریف لانے اور لے جانے کے لئے بسوں کا انتظام کرتی ہے اور اس کے اخراجات ہندوستان میں ہی ان سے وصول کر لیا جاتا ہے ۔لیکن مدینہ میں ایسا کوئی انتظام نہیں رکھا گیا ہے۔
حج کمیٹی آفٖ انڈیاکی گائڈ لائنس کے مطابق کمیٹی ہر عازم حج سے مقامی سطح پر آمدو رفت کے لئے 594 سعودی ریال (لاگ بھگ 10 ہزار 640 روپے) اور 250 سعودی ریال (لگ بھگ 4 ہزار 480روپے ) ٹرین کے کرائے کے طور پر لیتی ہے۔ لیکن اس بار اس میں تھوڑی تخفیف کی گئی تھی اور بس کرایہ 391.18 سعودی ریال ( تقریبا7 ہزار روپے ) اور ٹرین کا کرایہ 400 (تقریبا 7 ہزار دو سو روپے ) لیا گیا۔ عازمین یہ تمام اخراجات اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ انہیں اس نئے شہر میں کسی طرح کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ اپنی عبادت یکسوئی سے ادا کرسکیں۔ مگر عزیزہ میں 15 کلو میٹر کی دوری پر عمارت کا ہونا دشواری پیدا کرتا ہے۔حالانکہ حکومت ابتدائی دنوں میں بسوں کی سروس بہت اچھی دیتی ہے مگر جوں جوں حج کے ایام قریب آتے جاتے ہیں، شہر میں بھیڑ بھار میں اضافہ ہونا شروع ہوتا ہے، اس وقت بسوں کی آمدو رفت کم ہونے لگتی ہے ۔

 

 

 

 

منیٰ میں تنگ جگہ
حاجی مکہ میں تین ہفتوںسے کچھ زائد دن قیام کرتے ہیں۔ اس دوران انہیںمنی ،پھر عرفہ اوروہاں سے مزدلفہ ہوتے ہوئے واپس منی آنا ہوتا ہے اور پھر مکہ سے طواف کی تکمیل کے بعد وطن لوٹ جاتے ہیں۔ عرفہ میں عارضی کیمپ لگائے جاتے ہیں جہاں ایک دن وقوف کرنا ہوتا ہے جبکہ منی میں کم سے کم تین دن رکنا ہوتا ہے ۔وہاں مستقل کیمپ بنے ہوئے ہیں جن میں الگ الگ ممالک کے حاجیوں کو الگ الگ کیمپوں میںرکھا جاتا ہے۔ یہاں پہنچنے کے بعد ہندوستانی حاجیوں کو اس مرتبہ کئی دشواریوں کا سامان کرنا پڑا۔ ان تمام دشواریوں کو خود حاجیوں نے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو فون کرکے بتایا ۔ حج کمیٹی نے کہا تھا کہ منی کے کیمپوں میں ہر حاجی کو بیڈ فراہم کیا جائے گا مگر وہاں جاکر انہیں پتہ چلا کہ بیڈکے بجائے ہرحاجی کو ایک گدہ دیا گیاہے۔ یہ گدے بھی اتنے چھوٹے اور پتلے کہ حاجی صرف کروٹ ہی لیٹ سکتا ہے ۔اگر پیر پھیلائے تو دوسرے گدے پر لگتے ہیں۔ ایک حاجی نے تو یہاں تک بتایا کہ میری کمر 26 انچ ہے اور گدے کی چوڑائی 20انچ کی ہے ۔جب میں لیٹتا ہوں تودوسرے حاجی کے گدے کی جگہ کم ہوجاتی ہے۔ایک حاجی نے تو کہا کہ گدہ ایسا ہے کہ سونے کی حالت میں صرف ایک ٹانگ ہی ٹھیک سے گدے پر رہ پاتی ہے ۔جبکہ حج کمیٹی نے ان حاجیوں سے 7 ہزار 500 روپے زیادہ لئے تھے اور کہا تھاکہ وہاں بیڈ ہوںگے اور کچھ اضافی جگہ ملے گی جہاں اپنا سازو سامان رکھ سکیںگے ۔مگر بیڈ تو دور، انہیں اپنا سامان یہاں تک کہ ایک بیگ تک رکھنے کی جگہ تک نہیں ملتی ہے ۔وہ اپنے گدے کے ارد گرد ہی بیگ رکھ کر رات گزار لیتے ہیں۔
بات صرف سونے کی حد تک نہیں ہے۔اگر ایسا ہوتا تو حاجی یہ سوچ کر صبر کرلیتے کہ وہ اس دیار میں عبادت کے لئے آئے ہیں ،سونے کی دقت برداشت کرلیتے لیکن جب وہ وضو کے لئے جاتے ہیں یا ٹوائلٹ کی طرف رخ کرتے ہیں تو انہیں وہاں لمبی قطاریں ملتی ہیں۔حالانکہ یہ موسم بھیڑ بھار کا ہے اور بقدر گنجائش بھیڑ برداشت بھی کی جاسکتی ہے لیکن حج کمیٹی کی کوتاہیوں کی وجہ سے کیمپوں میں جو بھیڑ رہتی ہے ،وہ ناقابل برداشت ہوجاتی ہے۔
دراصل ہندوستانی حاجیوں کو سعودی حکومت کی طرف سے جو جگہ الاٹ کی جاتی ہے ۔اس میں مزید توسیع کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے مگر نہ جانے حج کمیٹی اس طرف کس حد تک مخلصانہ کوشش کرتی ہے؟ البتہ جو موجودہ صورت حال ہے ،اسے دیکھ کر حاجیوں کی حالت زار پر افسوس ہوتا ہے۔ خیمہ میں آنے جانے کا ایک ہی راستہ ہے ۔جہاں پر 20 حاجیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، وہاں پر 100 لوگوں کو رکھاگیا ۔ اس کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ ہر طرف بھیر ہی بھیر نظر آتی ہے ، راستہ میں پر بھی ہر وقت ہجوم سا بنا رہا ہے۔ وضو اور ٹوائلٹ کی لائن میں ان کا اچھا خاصا وقت نکل جاتا ہے ۔اگر یہی وقت بچے تو وہ اپنی عبادتوں و ریاضتوں میں لگا سکتے ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ حج کمیٹی نے کسی حد تک مسائل کو حلکرنے کی کوشش کی ہے اور کئی موقعوں پر قابل تعریف کام بھی کئے ہیں مثال کے طور پر حاجیوں کی گمشدگی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ لیکن جب وزیر برائے اقلیتی امور کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حاجیوں کو امسال کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہے تو بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ پریشانیوں کا انبار ہے مگر حج کمیٹی انہیں حل کرنے کے بجائے اپنی پیٹھ تھپتھپارہی ہے۔
وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے سی جی او کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کا حج بہت کامیاب رہا ۔بچولیوں پر شکنجہ کسنے اور چیزوں کو درست کرنے کی وجہ سے سبسڈی کے بغیر بھی حج 2018 کو مہنگا نہیں ہونے دیا گیا۔نجی آپریٹروں پر سختی کی گئی تھی جس کے نتیجہ میںْ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں شفافیت دیکھنے کو ملی۔ یہ دعویٰ تووزیر موصوف کا ہے مگر حجاج کرام حج کرنے کے بعد واپس وطن آئے اور ان سے بات چیت ہوئی تو اندازہ ہوا کہ کانفرنس میں کہی گئی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
واپسی کے دوران مسائل
افسوس تو اس بات کاہے کہ سعودی عرب میں دشواریوں کا سامنا کرنے کے بعد حاجیوں کی فلائٹ جب نئی دہلی امبارکیشن پہنچی تو یہاں بھی دشواریاں ان کا تعاقب کررہی تھیں۔اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ کے ارائیول ٹرمینل 2 پر حاجیوں کو بیٹھنے کے لئے جگہ ناکافی تھی۔ لہٰذا انہیں زمین پر بیٹھنا پڑا۔ٹرمینل پر کئی طرح کی بد انتظامی کے ساتھ ٹرانزٹ کیمپ تک پہنچانے کے زمرے میں حجاج کرام کو کافی پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ وہاں نماز کے لئے جو جگہ تھی ، وہ ناکافی تھی ،جو رشتہ دار ریسیو کرنے کے لئے آئے تھے،انہوں نے بتایا کہ ٹوائلٹ کا ناقص انتظام تھا۔ خود رضاکاروں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ اتنا برا انتظام ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ انجمن فلاح حجاج کے صدر حاجی ظہور اٹیجی والے کہتے ہیں کہ 30 سالوں میں اتنے برے حالات کبھی نہیں دیکھے ۔نہ صرف حاجیوں کو زمین پر بیٹھنا پڑا ، بارش میں لوگ پانچ گھنٹے پریشان رہے ۔اگر حج کمیٹی پہلے ہی ان معاملات پر غور کرلیتی تو خدمات کو بہتر کیا جاسکتا تھا۔حاجی ظہور کہتے ہیں کہ ہم نے مختار عباس نقوی سے ملاقات کی تھی اور انہوں نے ابتد میں کہا تھا کہہمارا پہلا کام حج کمیٹی میں بدعنوانی کو دور کرناہے لیکن بد عنوانی آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ٹور سے جانے والوں کے لئے 3 نمبر ٹرمینل دیا گیا جبکہ حج کمیٹی کو 2 نمبر دیا گیا۔ آخر حج کمیٹی کے ساتھ یہ تفریق کیوں کی گئی۔ حاجیوں سے اتنی موٹی رقم لینے کے بعد بھی حاجیوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ابھی تو حاجیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔دیکھتے ہیں آگے اور کیا کیا باتیں سامنے آتی ہیں اور حج کمیٹی جو بہتر کارکردگی کا ڈھنڈورہ پیٹ رہی ہے ،اس میں کس حد تک سچائی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *