ہندوستان دنیا میں جمہوریت کی امید ہے

میری رائے میںہندوستان کو جمہوریت کے عالمی رہنما کے کردار میںآنے کے لیے تین اہم اصلاحی نکات پر کام کرنے کی ضرورت ہوگی، جو اس طرح ہے:
پہلا، شمولیاتی سماج ،اقتصادی برابری اور یکساں مواقع کے ایجنڈے پر عمل۔ پئو ریسرچ سینٹر کے ایک مطالعے میںیہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مضبوط جمہوری نظام والے خوش حال ملکوںمیںنمائندہ جمہوریت کے تئیں زیادہ وسیع عزم نظر آتا ہے۔ ہندوستان نے اس شعبے میںکچھ پیش رفت کی ہے لیکن ابھی بھی اسے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ خاص طور سے خواتین،اقلیتوں اور کمزور طبقوں کی خواتین کے لیے۔
دوسرا، طلبہ خاص طور پر کم عمر کے طلبہ کے لیے مؤثر شہری تعلیمی نظام۔ اس سال مارچ میںامریکہ کے نیشنل کونسل آف سوشل اسٹڈیز نے ایک پوزیشن تعین کرنے والا بیان جاری کیا۔ اس بیان میںکہا گیا کہ مؤثر شہری تعلیمی نظام کا ہدف علم و ہنر کی عکاسی کرنا ہونا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ نوجوان شہری زندگی کے سرگرم اوراہل حصہ دار بن سکیں۔ سی ایم سی اے (چلڈرن موومنٹ فار سوک ایویئرنیس)، جو ہندوستان میںتعلیمی شعبے میںکام کرتی ہے، کا ہدف بھی یہی ہے۔ اس پہل کامقصد بچوں اور نوجوانوں میںسرگرم شہری زندگی کے لیے علم، ہنر اور مہارت فراہم کرنا ہے۔ آج کے نوجوان کل کے شہری ہیں، لہٰذا ہندوستان کو چاہیے کہ وہ پورے ملک کے اسکولوںمیںمناسب شہری تعلیم کا بندوبست کرے تاکہ نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوںکا احساس ہو۔
تیسرا، پریس کی آزادی کو یقینی بنانا۔ آزاد پریس جمہوریت کی بنیاد ہے۔ 2016 میں شائع پریس فریڈم رپورٹ میںفریڈم ہاؤس نے ہندوستان کی ریٹنگ جزوی طور پر آزاد رکھی ہے۔ ایسی ریٹنگ کے اسباب میںدو صحافیوںکے قتل، صحافی پر مجرمانہ ہتک عزت معاملے جاری رکھنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اور پریس کوریج پرکنٹرول اور اخبارات کا بند ہونا شامل ہے۔ دنیا میںجمہوریت کا رہنما بننے کے لیے ہندوستان کو اپنے پریس کوآزادی دینی ہوگی۔ اسے ہر وہ قدم اٹھانا ہوگا تاکہ پریس حکومت کو سچائی دکھانے کہ ہمت کرسکے اور ایسی خبریںشائع کرسکے جس سے سرکار اور جمہور یت میںسدھار آئے۔

 

 

 

ہندوستان کو لیڈنگ جمہوریت بنانے میںہندوستانی- امریکیوں کا رول بھی ہے۔ انکلوسیو ایجنڈے کو نافذ کرنے، مؤثر شہری تعلیم فراہم کر انے اور پریس کی آزادی یقینی بنانے کے لیے کافی کام کی قوت و وسائل کی ضرورت ہوگی۔ خوش قسمتی سے ہندوستان کو جمہوریت کا رہنما ملک بنانے کی چیلنج بھری ذمہ داری صرف ہندوستانی لیڈروں اورہندوستان کے لوگوں پر ہی نہیںہے، کیونکہ ا س کام کے لیے مضبوط ساتھی موجود ہیں۔ وہ ساتھی ہم اور آپ ہیں۔ اس کمرے میںبیٹھے این سی اے آئی اے کے لوگ ، دیگر ہندوستانی – امریکی ایسوسی ایشن اور امریکہ میںانڈین ڈایسپورا سے متعلق لوگ ہیں جو مذکورہ شعبوںمیںاپنی شراکت کرسکتے ہیں۔
ہندوستان خوش قسمت ہے کیونکہ ہم انڈین ڈایسپورا کے رکن اپنے وطن سے پیار کرتے ہیں۔ 2014 میںمائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ شائع ایک پیپر میںکہا گیا ہے کہ انڈین ڈایسپورا بہت اچھی طرح منظم ہے اور اس کا اپنے وطن کے ساتھ گہرا اور کثیر جہتی جڑاؤ ہے۔ اس کے اراکین اپنے ملک کے تئیںاپنی ذمہ داری نبھانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ میںخود اس معاملے میںاپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میںنے حالیہ دنوںمیںتین اہم سدھار شعبوں میںکام کیا ہے۔
انکلوسیو ایریا کے لیے پچھلے سال میںاور میری بیوی ڈیبی نے ہندوستان میں میرے مادری ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو فرینک اینڈڈیبی اسلام مینجمنٹ احاطہ وقف کیا تھا۔ ہم نے خواتین کے لیے ایک تکنیکی کالج کے قیام میں مدد کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ شہری تعلیمی شعبے میںاس سال جنوری میںمیںنے فرینک اسلام انسٹی ٹیوٹ آف ٹوینٹی فرسٹ سنچری سٹیزن شپ کا قیام کیا۔ یہ انسٹی ٹیوٹ سب سے پہلے امریکہ کے محروم طبقوں کے لیے چل رہے مڈل اسکولوں کے ٹیچروںکو سوک انگیجمنٹ چمپئن ایوارڈ سے سرفراز کرے گا۔ اس کے بعد یہ ہندوستان کی دیگر تنظیموں کے تعاون سے وہاں شہری تعلیمی شعبے میںکام کرے گا۔ آزاد پریس کے لیے ہم الفریڈ فرینڈلی پریس پارٹنرز اسکالر شپ کو تعاون دے رہے ہیں تاکہ ہندوستان سے تجربہ کار صحافیوںکو یہاںکے اخباروں میںکام کرنے اور میسوری یونیورسٹی میںمطالعہ کرنے کا موقع مل سکے ۔ تاکہ وہ اپنی دستکاری میںزیادہ ماہر ہوسکیں اور ہندوستان واپسی کے بعد وہاں تبدیلی لاسکیں۔

 

 

 

 

آگے کا راستہ
آخیر میںکچھ سوال چھوڑنا چاہتاہوں تاکہ آپ اس پر غور کرسکیں۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ صبح ہونے سے قبل اندھیرا گہرا ہوجاتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوںسے دنیا بھر کے ملکوںمیںجمہوریت تاریکی کی طرف جارہی ہے۔ جس طرح حال میںامریکہ کے صدر ، شمالی کوریا اور روس کے تانا شاہی لیڈروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکرکھڑے دیکھے گئے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمہوریت اندھیرے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہم بھی اندھیرے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہندوستان میں صلاحیت ہے کہ وہ جمہوریت کا قائد بن کر اس تاریکی کو ، امید کی روشنی سے چنوتی دے سکے۔ اگر ہندوستان نے اپنی صلاحیت کو سمجھ لیا تو وہ 21 ویںصدی میںجمہوریت کے لیے ایک نیا سویرا لاسکتا ہے۔
ہم سب مل کر ہندوستان کو دنیا میںجمہوریت کی امید بنانے میںمدد کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میںآپ سے اس یوم آزادی پر اس کام سے جڑنے کی اپیل کرتا ہوں۔ آئیے روشنی پھیلاتے ہیں۔ (دوسری اور آخری قسط)
(19 اگست 2018 کو یوم آزادی کے موقع پر این سی اے آئی اے کے اراکین سے فرینک اسلام کا خطاب)
فوٹو : علی گڑھ یونیورسٹی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *