کتنا حقیقت پسندانہ آر ایس ایس سے اخوان کا موازنہ

گزشتہ 24 اگست 2018 کو لندن میں واقع تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس ) میں ماہرین پالیسی، ڈپلومیٹس، دانشوران، وکلاء اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر کانگریس راہل گاندھی نے بر صغیر کے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کا موازنہ عالم عرب کی نظریاتی تحریک و تنظیم اخوان المسلمون سے کرکے سبھی کو چونکادیا ہے۔ ایک جانب مسلم حلقے و ماہرین تحریکات ان کے اس عجیب و غریب ریمارک پر حیرت زدہ ہیں تو دوسری جانب آر ایس ایس حلقے سے زبردست رد عمل سامنے آیا ہے۔دراصل صدر کانگریس نے کہہ دیا تھا کہ ’’آر ایس ایس ہندوستان کی نوعیت کو ہی بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔ دیگر پارٹیوں نے ہندوستان کے انسٹی ٹیوشنزپر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ آر ایس ایس کا آئیڈیا اخوان المسلمون کے آئیڈیا کی مانند ہے‘‘ جبکہ کچھ تنظیمی نظم اور کیڈر کے اعتبار سے مماثلت کو چھوڑ کر اپنے اپنے مقصد، نوعیت اور طریقہ کار میں دونوں قطعی مختلف اور جدا گانہ ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محض بیلنس کرنے کے لئے ہندوستان کی ایک کمیونٹی کی ایک نظریاتی تنظیم آر ایس ایس اور دوسری کمیو نٹی کی ایک غیر ملکی نظریاتی تحریک و تنظیم اخوان المسلمون کا نام لیا گیاہے۔یہ غالباً اسی سوچ کا نتیجہ ہے جس کے تحت 1975 میں ایمر جینسی لگاتے وقت اور 1992 میں بابری مسجد انہدام کے فوراً بعد دیگر تنظیموں کے ساتھ آر ایس ایس اور جماعت اسلامیہند پر بھی اسی کانگریس نے پابندی لگائی تھی جبکہ دونوں تنظیموں پر سے پابندی 1977 کے عام انتخابات میں فاش شکست کے بعد برسراقتدار ہوئی جنتا پارٹی نے اٹھالی تھی اور دونوں پر سے 1992 والی پابندی عدالتی حکم سے ختم کردی گئی تھی۔
آر ایس ایس کے حلقے سے جو رد عمل سامنے آرہا ہے ، وہ بہت ہی دلچسپ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس 17-سے 19 ستمبر 2018 کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں سہہ روزہ لیکچر سیریز ’بھارت کا مستقبل – آر ایس ایس کا نقطہ نظر ‘ بڑے دھوم دھام سے منعقد کررہا ہے ۔چند ماہ قبل آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر ناگپور سابق صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی اور صنعتکار رتن ٹاٹا کے دوروں کے بعد غیر سنگھی شخصیات کو بلانے اور پھر ان کے وہاں جانے سے یہ ایشو آر ایس ایس کے لئے اور بھی معیوب اور ممنوع نہیں رہا، لہٰذا وگیان بھون کے آئندہ پروگرام میں سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کو بھی مدعو کرنے کی بات سننے کو مل رہی ہے۔

 

 

 

 

اسی تناظر میں صدر کانگریس راہل گاندھی کے لندن والے مذکورہ بالا ریمارک کے بعد ان کا نام بھی ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ کے طور پر اچھل کر سامنے آیا جو کہ دیگر شخصیات کے ساتھ اس پروگرام میں مدعو کئے جاسکتے ہیں۔ ویسے ابھی آفیشئل کچھ بھی نہیں ہے مگر اس سے آر ایس ایس کے رد عمل کی نوعیت تو سمجھ میں آہی جاتی ہے۔ وہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ صدر کانگریس راہل گاندھی کو بھی مدعو کرکے اپنے آپ کو ان سے متعارف کرانا چاہتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اب آر ایس ایس کو شجر ممنوعہ نہ سمجھیں۔دوسری طرف کانگریس کے لئے بھی یہ ایشو قابل غور بن گیا ۔ ایک خصوصی نشست میں 16 ویں لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکا رجن کھرگے اور دوسرے سینئر لیڈر اے کے انٹونی نے طے کیا کہ صدر کانگریس کو آر ایس ایس کی دعوت ملنے پر وہاں نہیں جانا چاہئے ، ٹھیک اسی طرح جس طرح 2007 میں صدر کانگریس سونیا گاندھی وہاں نہیں گئی تھیں۔
اب آئیے، ذرا آر ایس ایس اور اخوان المسلمون کا جائزہ لیں کہ دونوں ہیں کیا؟صدر کانگریس نے ان دونوں کے آئیڈیا کو جو یکساں بتایا، کیا دونوں مجموعی طور پر واقعی یکساں ہیں اور مزاجاً اور طبیعتاً بھی ایک ہی جیسے ہیں؟دونوں کو ماہرین تحریکات کیسے لیتے ہیں اور دونوں اپنے اپنے خطہ میں کیا امیج رکھتے ہیں اور کیا اثرات مرتب کئے ہیں؟
آر ایس ایس کے لٹریچر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود کو’ حقیقی قومی کے ساتھ ساتھ’ گلوبل مشن ‘ مانتی ہے۔ یہ ’بنی نوع انسان کی فلاح ‘ کا دعویٰ کرتی ہے اور دنیا کے سامنے ’ایک خود اعتماد، احیاء پسند اور طاقتور قوم ‘ کے طورپر آنا چاہتی ہے۔ 27 ستمبر 1925 کو ناگپور میں تاسیس کے وقت اس کے موسس ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیڈ گیوار کی نظر میں یہ سیکٹورل سرگرمی تک مرکوز نہیں تھا بلکہ قومی سرگرمی کے ہر میدان کو قوت فراہم کرتا ہو ا پاور ہائوس تھا۔ آر ایس ایس کے اپنے الفاظ میں ’ سنگھ کا آئیڈیل قوم کو پوری سوسائٹی کومنظم کرتے ہوئے ترقی کی چوٹی پر لے جانا ہے‘۔ 1889 میں پیدا ہوئے ہیڈ گیوار بچپن سے ہندو مہاسبھا کے قومی صدر بی ایس مونجے سے بہت قریب تھے جنہوں نے انہیں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کولکاتہ بھیجا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر ہیڈ گیو نے آر ایس ایس کی بنیاد 1925 میں وجے دشمی کے دن ڈالی تھی۔ وہ اپنی تنظیم کے لئے ’راشٹریہ ‘ اصطلاح پر زور ڈالتے تھے کیونکہ وہ ایک ہندو کی شناخت کو ’راشٹریہ ‘ لفظ سے جوڑ کر دیکھتے تھے۔ اس بات کی تصدیق ہر شاکھا کی میٹنگ کے آخر میں ’بھارت ماتا کی جئے ‘نعرے کے ساتھ گائے جانے والی پرارتھنا سے ہوتی ہے۔ انہوں نے 21جون 1940 کو وفات سے قبل سنگھ شکشا ورگ کی سالانہ میٹنگ میں آخری پیغام کے طور پر کہا تھاکہ ’ آج میں ایک ہندو راشٹر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں‘۔
جہاں تک اخوان المسلمون کا تعلق ہے، یہ دنیا میں پہلی تحریک اسلامی کے طور پر مصر کے اسماعیلیہ میں ایک اسلامی آئیڈیاگ اور اسکولی استاد حسن البنا کے ذریعے مارچ 1928 میں قائم کی گئی۔ اسلام کی نشاط ثانیہ یا احیاء اس کا مقصد ہے جسے یہ زندگی کے ہر گوشہ میں اسلامی نظام کو نافذکرکے پورا کرنا چاہتی ہے۔
برصغیر میں آر ایس ایس کے قیام کے 3برس بعد مصر میں وجود میں آئی اخوان نے گزشتہ 90برس میںزبردست نشیب و فراز دیکھا ہے مگر آج بھی مصر، بحرین، شام، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور روس میں پابندی کے باوجود دنیائے عرب کی سب سے بڑی، مشہور اور منظم و کیڈر بیسڈ تنظیم و تحریک ہے اور اس نے دیگر مسلم و غیر مسلم ممالک کی تحریکات اسلامی پر زبردست اثرات ڈالے ہیں۔ دیگر ممالک میں کچھ تنظیمیں اس کے فکرو نظر یہ سے متاثر ہوکر بنیںتو کچھ اس کے فکرو نظریہ سے ہم آہنگ ہیں ۔مگر ہر ایک ملک کی تحریک اسلامی نے اپنے اپنے ملک کے آئین و قانون اور ضابطوںکے تحت اپنی اپنی پالیسی بنا رکھی ہے اور کچھ تو چند ملکوں میں اقتدار میں بھی کم و بیش شریک رہی ہیں۔

 

 

 

 

تیونس میں اس کی فکر سے متاثر راشد الغنوشی کی النھضہ سیکولر پارٹی ’ندا ء ‘کے ساتھ برسراقتدار اتحاد کا حصہ ہے اور 2014 کے عام انتخابات میں 27 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے دوسری سب سے بڑی پارٹی بنی ہے۔ یہ واحد تحریک اسلامی ہے جو کہ عرب بہاریہ کے بعد ہنوز زندہ ہے اور اقتدار میں ہے۔ اخوان مصر میں سب سے مضبوط پوزیشن میں رہی۔ 1948،1956 اور 1965 کے کریک ڈائون اور پابندیوں سے گزرتے ہوئے یہ عرب بہاریہ کے بعد 2011 میں پھر سے قانونی طور پر متحرک ہوگئی اور تب اس کی تحریک پر دیگر افکار کے اتحاد سے بنی ’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی ‘ 2011 کے پارلیمانی انتخابات میں 498 سیٹوں میں سے 235 سیٹوں پر کامیاب ہوئی اور 2012 میں اس کے لیڈر محمد مرسی صدر منتخب ہوگئے مگر آئندہ برس فوجی بغاوت کے ذریعہ ان کی حکومت الٹ دی گئی اور مرسی سمیت برسراقتدار اتحاد اور اخوان کے بیشتر افراد پابند سلاسل ہوگئے۔ عدالتوں میں ان تمام کے خلاف بغاوت کے مقدمات چل رہے ہیں اور سزائیں دی جارہی ہیں۔ ان تمام حقائق کے باجوداخوان کے اثرات سے کبھی بھی انکار ممکن نہیں ہے۔
آر ایس ایس اور اخوان میں مماثلت یہ ہے کہ دونوں فکری و نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ کیڈر بیسڈ بھی ہیں۔ اخوان جس فکر کی حامل ہے، اسے مغرب کی اصطلاح میں ’ پالیٹیکل اسلام ‘ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح آر ایس ایس کو بھی ’ہندوتو ‘سے ماخوذ کیاجاتا ہے۔ اس لحاظ سے اسے بھی ’ پالیٹیکل ہندو ازم ‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اخوان کے یہاں شورائیت یعنی جمہوری عمل ہے جبکہ آر ایس ایس کے یہاں ایسا نہیں ہے۔ مغربی دنیاکے نزدیک یہ پہلو قابل گرفت ہے کہ کوئی گروہ مذہب پر مبنی سیاست کی بات کرے اور اقتدار میں کسی نہ کسی طرح آجائے اور پھر وہ اپنے اپنے ملک کے تمام انسٹی ٹیوشنز پر قبضہ کی کوشش کرے۔
یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی نے لندن میں تقریر کرتے ہوئے انسٹی ٹیوشنز پر آر ایس ایس کے ذریعے قبضے کی بات کہی۔ اداروں کو فکری طور پر ہم آہنگ کرنے کی کوشش تو 1998 تا 2004 اٹل بہاری واجپئی کی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے کے دور میں بھی ہوئی۔ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے تعلیم کے شعبہ کو سنگھ کے رنگ میںرنگنے اور پروفیسر نور الحسن و دیگر کے ذریعے بائیں بازو کی فکر کو دھونے کی بھرپور کوشش کی جسے ارجن سنگھ نے پھر سے درست کیا۔ 2014 میں مودی حکومت کے آنے کے بعد تعلیم ہی نہیں ، دیگر شعبوں میں بھی فکرو نظر یہ اور اس کے حاملین افراد کو زبردست فروغ ملا۔ راہل گاندھی جو بات کررہے ہیں، وہ تو صحیح ہے مگر اس کا مقابلہ فکری طور پر ہی کیا جاسکتاہے جس کا کوئی عملی خاکہ کانگریس کے پاس نہیں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ محض آر ایس ایس کی مذمت کرنے سے کام نہیں چلے گا۔
آر ایس ایس اور اخوان میں ایک فرق جمہوری سوچ کا ہے تو دوسرا آفاقی اور انسانی سوچ کا بھی ہے۔ اول الذکر میں آفاقی سوچ نہیں دکھائی پڑتی ہے اور یہ ’ راشٹریہ ‘ سوچ میں بند دکھتی ہے جبکہ آخر الذکر میں وسعت فکر بھی محسوس ہوتی ہے ۔دوسرا فرق رواداری ،تنوع اور تکثیریت کا ہے۔ سنگھ کے یہاں اس کا فقدان ہے۔ جبکہ اخوان میں یہ خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخوان سے متاثر النھضہ تیونس میں مخالف فکرو نظریہ کی حامل’ ندا ئ‘کے ساتھ مخلوط حکومت میں چل رہی ہے اور عرب بہاریہ کو زندہ رکھے ہوئی ہے۔ لہٰذا آرایس ایس اور اخوان کو ایک صف میں پیش کرنے والوں کو ان حقائق کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *