بہار میں اعلیٰ ذات ووٹ بینک این ڈی اے کی پکڑکمزور ہوئی ہے

لوک سبھا الیکشن کی آہٹوں نے گاؤں کی چوپالوں پر ہارجیت کا حساب سمجھانے والی بحثوں کا وقت بڑھا دیاہے۔ روزصبح اورشام گرما گرم بحث شروع ہوتی ہے اور اس نوٹ کے ساتھ ختم ہوتی ہے کہ ’دیکھ لیجئے جی، ہم جو کہہ رہے ہیں وہی ہوگا، آپ لوگ دیکھتے رہ جائیے گا ‘ ٹھیک ہے، وقت آنے پر پتہ چل ہی جائے گا کون صحیح تھا اورکون غلط ، لیکن ان بحثوں میں اعلیٰ ذات ووٹروں کولیکر موٹی رائے ضرور بنتی دکھائی پڑرہی ہے۔وہ رائے یہ ہے کہ گذشتہ الیکشن یعنی 2014میں اعلیٰ ذات برادریوں کا جوجھکاؤ این ڈی اے کی طرف تھا ، اس میں کافی کمی آرہی ہے۔ بہار کے سماجی تانے -بانے کو کوباریکی سے سمجھنے والے لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ اپر کاسٹ کے ووٹروں میں این ڈی اے کے تئیں گذشتہ الیکشن جیسی جارحیت نہیں ہے۔ بہتر کہیں تو ان میں این ڈی اے کو لیکر بدظنی آرہی ہے۔ غورطلب ہے کہ 2014کے الیکشن میں حالانکہ ہر ذات برادریوں کا ووٹ نریندرمودی کے نام پر این ڈی اے کو ملتاتھا، لیکن جہاں تک اپرکاسٹ ووٹروںکا سوال ہے، توانہو ںنے تو آنکھ موند کر نریندر مودی کے نام پر بھروسہ کیا اور ان کے کہنے پر این ڈی اے کے امیدواروںکو دہلی پہنچوادیا ، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔
پچھلے سوا چار سالوںمیں الگ الگ وجوہات سے اعلیٰ ذات برادری کو ایسا لگنے لگا ہے کہ مرکزکی نریندرمودی سرکار اوربہار کی جے ڈی(یو)-بی جے پی سرکار دونوں کے ہی پاس اعلیٰ ذات برادریوں کے لوگوں کیلئے سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ دونوںہی کا دن دلت ،انتہائی پسماندہ اورپچھڑا فلاح وبہبود کے نعروں سے شروع ہوتاہے اوررات ہونے تک اسی کا جاپ جاری رہتاہے۔اپرکاسٹ کے بچوں کی نوکریوںکا کیا ہوگا، انکے بچوں کی پڑھائی کیسے ہوگی اوران کے لئے بہتر روزگارکے مواقع کیسے پیداہوں گے، ان مسئلوں پر سوچنے کا وقت این ڈی اے سرکار اورلیڈران کے پاس نہیں ہے۔
ماہرسماج متھلیش تیواری کہتے ہیں کہ زمینی سطح پر دلتوں اور انتہائی پسماندہ کو کیا مل رہاہے، یہ تو تجزیے کا موضوع ہے، مگر لیڈروں کے لگاتار دلت اورپچھڑا راگ الاپنے سے اعلیٰ ذات برادری کے دلوں میں غصہ بڑھتا جارہاہے۔ تیواری کہتے ہیں کہ اپر کاسٹ کے لوگ یہ نہیں چاہ رہے ہیں کہ دلتوں اورپچھڑوں کیلئے سرکارکچھ نہ کرے، لیکن سرکار کواپرکاسٹ کے بچوں اورخاندانوںکیلئے بھی ضرور سوچنا چاہئے۔ جانکار کہتے ہیں کہ اپرکاسٹ ووٹروں کاجھکاؤ 2015کے بہار اسمبلی الیکشن کے دوران ہی صاف صاف دکھ گیا۔ اس الیکشن میں لالو اورنتیش کی جوڑی نے این ڈی اے کے انتخابی سپنوں کو پوری طرح چکنا چور کردیا۔ اس وقت بھی انتخابی نتائج کا جو تبصرہ کیا گیا، اس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اپر کاسٹ کے ووٹروں نے پوری جارحیت کے ساتھ این ڈی اے کا ساتھ نہیں دیا۔اپرکاسٹ ووٹروں کی جھکاؤ نے لالو اورنتیش کے امیدواروں کوکھلامیدان دے دیا۔ اپرکاسٹ ووٹروں کے جھکاؤ کوسمجھنے کیلئے ہمیں کچھ دہائی پیچھے کے حقائق کو سمجھنا ہوگا۔

 

 

 

علاقائی تنظیموں کا اتحاد
بہار میں آزادی کے بعد سے اپر کاسٹ ووٹرو ںکا رجحان کانگریس کی طرف رہا۔ صوبے میں اعلیٰ ذات کے لوگ روایتی طورپر کانگریس کے ووٹر مانے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ، پچھڑوں اور دلتوں میں بھی کانگریس کی اچھی پکڑرہی۔لیکن بہار کی سیاست میں لالو پرساد کے عروج نے صوبے کی ذات برادری انتخابی سیاست کے حساب کو پوری طرح سے بدل کررکھ دیا۔ کانگریس دنوں -دن کمزور ہوتی چلی گئی اورایسے میں لالو کی منڈل سیاست کا جواب دینے کیلئے اپر کاسٹ کے ووٹر بی جے پی کی طر ف جانے لگے۔ بہار کی سیاست میں لالو جتنے مضبوط ہوتے چلے گئے، اسی کے تناسب میں اعلیٰ ذات برادری کا جھکاؤ بی جے پی کی طرف ہوتا چلاگیا اورکانگریس منھ دیکھتے رہ گئی۔ اب جب کانگریس نے لالو کی لالٹین کواپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا، توپھر اعلیٰ ذات برادری کیلئے ایک ہی ٹھکانہ بی جے پی ہی بچ گئی ۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔اپر کاسٹ ووٹروں کا موہ دھیرے دھیرے بھنگ ہورہاہے۔
بی جے پی کے ایک سینئراپرکاسٹ لیڈر کہتے ہیں کہ اب کوئی گارنٹی مان کر نہیں چلے کہ اعلیٰ ذا ت ووٹر بی جے پی یا این ڈی اے چھوڑ کر جائیں گے کہاں۔ اگرگارنٹی ہوتی ، توجہاں آباد ضمنی انتخابات میں این ڈی اے کے امیدوار ابھیرام شرما لگ بھگ چالیس ہزارووٹوں سے الیکشن نہیں ہارتے۔2015کے اسمبلی الیکشن میں ایسی بہت ساری اپرکاسٹ اکثریتی سیٹیں مہاگٹھ بندھ جیت کرلے گئی، جہاں پر این ڈی اے کی جیت طے مانی جارہی تھی۔ اس کی اہم وجہ تھی ، اعلیٰ ذات برادری کا موہ این ڈی اے کے تئیں بھنگ ہونا۔
اب جب لوک سبھا الیکشن آرہے ہیں، تواپر کاسٹ ووٹروں نے اپنے اپنے حساب سے گول بندی شروع کردی ہے۔ اس کی ایک جھلک گذشتہ 12اگست کودیکھنے کوملی۔ اپنے تمام اختلافات کوبھول کربہارکی سبھی علاقائی تنظیموں نے ایک ہونے کا اعلان کردیا۔ یہ طے کیا گیا کہ جوبھی پارٹی علاقائی سماج کے مسائل کا ازالہ کرے گی،یہ سماج اسی کا ساتھ دے گا۔ اپنے سیاسی تجویزمیں اس سماج نے کہاہے کہ علاقائی سماج جمہوری ریاست نظام میں سماج کی مضبوطی کیلئے کوشاں رہے گا۔سماج نے کہاکہ ریزرویشن کے معاملے نے ایک بڑے جہدوجہد کی شکل لے لی ہے۔اپنے حق کیلئے یہ تنظیم سماج سوچ والوں کوایک منچ پر لاکر اس مہاسنگرام کی مذہبی لڑائی کوایک سیاست حکمت عملی کے تحت بامعنی مقصدکیلئے کوشش کرے گی۔

 

 

بہارمیں الیکشن کے لحاظ سے انتخابی سیاست کوسمجھنے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ لالو پرساد کے کمزور پڑنے کے بعد تیجسوی یادو نے جس طریقے سے ان کی وراثت کو آگے بڑھانے کا کام کیاہے، اس میں اپرکاسٹ کے تئیں کڑواہٹ کم دکھ رہی ہیں۔ اگرکانگریس اوررآرجے ڈی کا تال میل برقراررہا، تو یہ این ڈی اے کیلئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ ایک بار کیلئے اپرکاسٹ کوآرجے ڈی سے پرہیزہوسکتاہے، لیکن کانگریس سے اسے آج کی تاریخ میں کوئی پرہیزنہیں ہے۔ کانگریس اور این ڈی اے دونوں کوہی اپرکاسٹ امیدواروں میں سے کسی کومنتخب کرنا ہوگا، تواپرکاسٹ کیلئے اس بار فیصلہ لینا 2014کی طرح آسان نہیں ہوگا۔ آرجے ڈی کیلئے اس بار کھلا مواقع ہے، بشرطیکہ وہ اپنی حکمت عملی اورنیت دونوں کو اپرکاسٹ کے حق میں رکھے۔ آرجے ڈی کے لیڈروں کو جارحانہ بیان بازی سے بچنا ہوگا اورقیاد ت کواپنے کاموں اوروعدوں سے اعلیٰ ذات برادری کا بھروسہ جیتنا ہوگا۔ جہاں تک سوال این ڈی اے کاہے، تواس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کی تاریخ میں اپرکاسٹ ووٹروں پر سے اس کی پکڑ کافی کمزور ہوئی ہے۔ اعلیٰ ذات برادری کولگ رہاہے کہ ان کی بات کرنے والا نہ توپٹنہ میں ہے اورنہ ہی دہلی میں۔ دونوں ہی سرکاریں بس ایک ہی راگ الاپ رہی ہیں، وہ ہے دلت اورپچھڑا بہبود۔ دلت ہراساں قانون میں سپریم کورٹ کے فیصلے کوبدلنے میں نریندر مودی سرکار نے جتنی تیزی دکھلائی، اس سے اعلیٰ ذات برادری کے لوگوں کے دلوں میں ایک سوال پیدا ہوا ہے کہ کیاہم اپنا ووٹ صحیح جگہ ڈال رہے ہیں۔ یہی سوال آئندہ الیکشن میں این ڈی اے کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دیکھنا ہے کہ لیڈراس خطرے کی گھنٹی کی گونج کوسن پاتے ہیں یا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *