لتامنگیشکرکی 89ویںیوم پیدائش پرپیشکش:تم جیوہزاروں سال…

lata-ji
اے میرے وطن کے لوگوں تم خوب لگالو نعرا
یہ سبھ دن ہے ہم سب کا، لہرالو ترنگاپیارا
پر مت بھولوسیما پر ویروں نے ہے پران گنوائی
کچھ یاد انھیں بھی کرلو ، کچھ یاد انھیں بھی کرلو
جو لوٹ کے گھر نہ آئے، جو لوٹ کے گھر نہ آئے
اے میرے وطن کے لوگوں ذرا آنکھ میں بھرلوپانی
جو شہید ہوئے ہیں ان کی ذرا یاد کرو قربانی
تم بھول نہ جاؤ ان کو اس لئے سنو یہ کہانی
جو شہید ہوئے ہیں ان کی ذرا یاد کرو قربانی
حب الوطنی کے نام پرگایاجانے والا یہ گیت جنگ کے بہادرسپاہیوں، ملک کیلئے جانبازوں، مجاہدوں اورشہیدوں کیلئے خراج عقیدت وتحسین ہے۔ سری رام چندر کی موسیقی میں گلوکارہ لتا منگیشکرنے پردیپ کے لکھے گیت پر ایک پروگرام کے دوران ایک غیر فلمی گیت ’’ اے میرے وطن کے لوگوں‘‘ گایا۔ اس نغمے کو سن کراولین وزیراعظم جواہر لعل نہرو اتنے متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑے اور برجستہ بول پڑے کہ ’’لتاتم نے آج مجھے رلادیا‘‘۔ لتا منگیشر کے اس گانے کو سن کر آج بھی لوگوں کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔
27جنوری ،1963کو دہلی کے نیشنل اسٹیڈیم میں جب لتامنگیشکر نے اس گانے کوگایاتھا تو وہاں موجودسبھی لوگوں کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔ اس موقع پرپنڈت جواہرلال نہرو کے علاوہ اس وقت کے صدرڈاکٹرایس رادھاکرشنن، کابینی وزراء، شہنشاہ جذبات دلیپ کمار، اداکاردیوآنند، راج کپور، راجندرکمار، گلوکار محمد رفیع ، ہیمنت کمار سمیت کئی معززشخصیات موجودتھیں۔بہرکیف پردیپ کے لکھے اس گیت نے کئی موقعوں پرہندوستانیوں کومتحدکرنے میں اہم رول اداکیا۔
ابتدائی زندگی
لتا منگیشکر ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں 28 ستمبر 1929ء کو پیدا ہوئیں، جن کا اصلی نام ہیما ہری کدر ہے،۔ان کے والد دِینا ناتھ منگیشکر بھی گلوکار اور اداکار تھے۔ چنانچہ وہ شروع سے ہی گلوکاری کی طرف مائل تھیں۔ موسیقار غلام حیدر نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد وہ کامیابی کی بلندیوں کی طرف بڑھیں اور ابھی تک نہیں رکیں۔ بھارت رتن اعزاز یافتہ ہندوستان کی نامور گلوکارہ لتا منگیشکر نے ہیما سے لتا منگیشکر تک کا سفر انتہائی محنت اورجانفشانی سے طے کرتے ہوئے قومی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔
پانچ سال کی عمر میں لتا نے اپنے والد کے ساتھ ڈراموں میں کام کرنا شروع کردیا تھا اس کے ساتھ ہی لتا موسیقی کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کرنے لگی تھیں۔ سال 1942 میں تیرہ برس کی عمر میں لتا کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور خاندان کی ذمہ داری لتا منگیشکر کے اوپر آگئی۔ اس کے بعد ان کا پورا خاندان پنے سے ممبئی آگیا۔ حالانکہ لتا کو فلموں میں کام کرنا بالکل پسند نہ تھا۔اس کے باوجود اپنے گھر والوں کی مالی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے لتا نے فلموں میں کام کرنا شروع کردیا۔
لتا کا بطور گلوکارہ اور اداکارہ فلموں میں آغاز 1942ء میں مراٹھی فلم ’’کیتی ھسال ‘‘ سے ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ گیت فلم میں شامل نہیں کیا گیا۔ سال 1942ء میں لتا منگیشکر کے والد دینا ناتھ کی دفات کے بعد لتا نے کچھ برسوں تک ہندی اور مراٹھی فلموں میں کام کیا، جن میں ان کی پہلی ہندی فلم آپ کی سیوا میں تھی دیگر اہم فلموں میں ’’ میرا بائی ‘‘، ’’ پہیلی مگلاگور‘‘، ‘‘ماجھے بال‘‘، ’’ گجا بھاو‘‘، ’’ چھمکلا دنیا‘‘، ’’ بڑی ماں‘‘، ’’زندگی سفر‘‘ اور ’’ چھترپتی شیواجی ‘‘ شامل ہیں۔
سال 1945 میں لتا کی ملاقات موسیقار غلام حیدر سے ہوئی۔ غلام حیدر لتا کے گانے کے انداز سے کافی متاثرتھے۔ غلام حیدر نے فلم ڈائریکٹر ایس مکھرجی سے یہ گزارش کی کہ وہ لتا کو اپنی فلم شہید میں گانے کا موقع دیں۔ایس مکھرجی کو لتا کی آواز پسند نہیں آئی اور انہوں نے لتا کو اپنی فلم میں لینے سے انکار کردیا، اس بات کو لیکر غلام حیدر کافی غصہ ہوئے اور انہوں نے کہاکہ یہ لڑکی آگے چل کر اتنی شہرت کمائے گی کہ بڑے بڑے ہدایت کار اسے اپنی فلموں میں گانے کے لئے گزارش کریں گے۔ سال 1949 میں فلم محل کے گانے کے بعد لتا بالی ووڈ میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس کے بعد راج کپور کی فلم برسات کا گانا جیا بے قرار ہے ، ہوا میں اڑتا جائے جیسے گانے گانے کے بعد لتا بالی ووڈ میں ایک کامیاب پلے بیک سنگر بن گئیں۔
گلوکاری
لتا منگیشکر پچاس ہزار سے زائد گانے گا چکی ہیں ۔وہ 1974ء سے 1991ء تک گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ریکارڈ ہولڈر کے طور پر شامل رہیں۔ گنیزبک کے مطابق وہ دنیا میں سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرانے والی گلوکارہ ہیں۔لتا منگیشکر اردو اور دوسری کئی اور زبانوں کی بے مثال گلوکارہ ہیں۔ مندروں میں بجتی گھنٹیوں سا سحر لیے لتا کی آواز نے کئی نسلوں کو اپنی آواز سے متاثر کیا ہے۔
آج بھی دل تک اتر جانے والی ان کی آواز کی کھنک وہی ہے جو1947میں ان کی پہلی ہندی فلم آپ کی سیوا میں تھی۔ لتا نے 1942 میں اپنے والد دینا ناتھ منگیشکر کے انتقال کے بعد باقاعدہ گلوکاری شروع کردی تھی۔ دینا ناتھ کی بیٹیوں میں نہ صرف لتا نے سروں کی دنیا میں مقبولیت حاصل کی بلکہ ان کی بہن آشا بھوسلے نے بھی گلوکاری میں اہم مقام حاصل کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دونوں بہنوں کی آوازوں نے بھارتی فلم انڈسٹری پرقبضہ کر لیا۔ لتا کا کہنا ہے کہ ان کی فنی زندگی بھرپور رہی ہے۔
انعامات
لتامنگیشکر کو بے شمار ایوارڈز ملے۔ خود ان کا کہنا ہے کہ ان کا سب سے بڑا ایوارڈ لوگوں کا پیار ہے لیکن ان کے پاس ہندوستان کاسب سے بڑا ایوارڈ بھارت رتن ہے۔ وہ ہندوستان کی دوسری گلوکارہ ہیں جنہیں یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ 1974ء میں گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں انکا نام دنیا میں سب سے زیادہ گانے گانے والی گلوکارہ کے طور پر آیا۔ لتا کو ان کے کیرئیر میں چار مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ ایا گیا۔ لتا کو ان کے گائے نغموں کیلئے سال 1972 میں فلم پرچئے ، سال 1975 میں کورا کاغذ او ر سال 1990 میں فلم لیکن کیلئے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ لتا کو سال 1969 میں پدم بھوشن، سال 1989 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، سال 1999 میں پدم وبھوشن ، سال 2001 میں بھارت رتن جیسے کئی اعزازت سے نوازا گیا۔
لتا منگیشکر دنیا بھر میں مقبول گلوکارہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھیں سب سے زیادہ گیت ریکارڈ کرانے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ لتا جی نے بھی ایک طویل زندگی گزارنے کے باوجود شادی نہیں کی۔ لتانے ایک انٹرویومیں بتایاکہ’’ دراصل گھر کے تمام اراکین کی ذمہ داری مجھ پر تھی۔ ایسے میں کئی بار شادی کا خیال آتا بھی تو اس پر عمل نہیں کر سکتی تھی۔ انتہائی کم عمر میں ہی میں کام کرنے لگی تھی۔ بہت زیادہ کام میرے پاس رہتا تھا، سوچا کہ پہلے تمام چھوٹے بھائی بہنوں کو مستحکم کر دوں۔ پھر کچھ سوچا جائے گا۔ پھر بہن کی شادی ہو گئی۔ بچے ہو گئے۔ تو انہیں سنبھالنے کی ذمہ داری آ گئی۔ اور اس طرح سے وقت نکلتا چلا گیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پہلی اور آخری محبت موسیقی ہے اور اب یہ سمجھا جائے کہ ان کی شادی موسیقی سے ہو چکی ہے۔
لتا کی سریلی آ واز سے نوشاد کی موسیقی میں چار چاند لگ جاتے تھے۔ موسیقی کار نوشاد لتا کی آواز کے اس قدر دیوانے تھے کہ وہ اپنی ہر فلم کے لئے لتا کو ہی منتخب کیا کرتے تھے۔ ہندی سنیما کے شومین کہے جانے والے راج کپور کو ہمیشہ اپنی فلموں کے لئے لتا منگیشکر کی آواز کی ضرورت رہا کرتی تھی۔ راج کپور لتا کی آواز سے اس قدر متاثر تھے کہ انہوں نے لتا منگیشکر کو سرسوتی کا درجہ تک دے رکھا تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *