مدھیہ پردیش میں حکومت اور میڈیا کا گٹھ جوڑ

ہندوستان میں میڈیا کی معتبریت میںلگاتار گراوٹ آئی ہے۔ 2018 ورلڈ پریس فری ڈم انڈیکس میںہندوستان 180 ملکوںکی فہرست میں 2 پوائنٹ کھسک کر 138 ویںپائیدان پر آگیا ہے۔ کچھ ماہ قبل ہی کوبرا پوسٹ کے ذریعہ ’’آپریشن 136‘‘نام سے کیے گئے اسٹنگ آپریشن نے بہت صاف طور پر دکھا دیا ہے کہ میڈیا صرف دباؤ میںہی نہیںہے بلکہ اس نے اپنے فرض کا سودا کرلیا ہے۔ آج میڈیا کے سامنے دوہرا بحران آن پڑا ہے، جس میں ’اوپری دباؤ‘ اور ’پیشے سے غداری‘ دونوںشامل ہیں۔ دراصل یہ گوریلا ایمرجنسی کا دور ہے جہاں اعلان کیے بغیر ہی ایمرجنسی والے کام کیے جارہے ہیں۔ اس دور میںمیڈیا نے اپنے لیے ایک نیا نام کمایا ہے ’گودی میڈیا‘۔ ایسا اس لیے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ سرکار کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور اس کے حق میںماحول تیار کرنے میںخود کو سپرد کر چکا ہے۔ اب وہ سرکار سے خود سوال پوچھنے والے اپوزیشن اور لوگوںکو ہی کٹہرے میںکھڑا کرنے لگا ہے۔ اشتہار اور اوپری دباؤ کے کاک ٹیل نے خود میڈیا کو ہی ایک اشتہار بنا دیا ہے۔
اشتہار کی آندھی
اشتہار کی تو جیسے آندھی مچی ہوئی ہے۔ گزشتہ دنوںسرکار کے بیورو آف آؤٹ ریچ اینڈ کمیونکیشن محکمے نے ایک آر ٹی آئی کے جواب میںبتایا ہے کہ مودی سرکار کے ذریعہ یکم جون 2014 سے 31 جنوری 2018 کے بیچ 4343.26 کروڑروپے اشتہارات پر ہی خرچ کیے جاچکے ہیں۔ ریاست مدھیہ پردیش بھی ان سب سے اچھوتی نہیںہے۔ البتہ میڈیا مینج کرنے کا سرکاری کھیل یہاں گوریلا ایمرجنسی کے دور سے بہت پہلے سے ہی چل رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں حکومت اور صحافت کا غیر اخلاقی اتحاد بہت پرانا ہے، جس کے لیے اقتدار میں بیٹھے لوگ میڈیا اداروں اور ملازمین کو خوش کرنے کے لیے کوئی کسر نہیںچھوڑتے ہیں۔ اس کی شروعات ارجن سنگھ کے وزیر اعلیٰ کے دور میںہی ہو گئی تھی، جب انھوںنے میڈیا اداروں اور صحافیوںکو زمین و بنگلے بانٹنے کی شروعات کی تھی۔ اپنے دور میںانھوں نے میڈیا گھرانوں کو بھوپال کی پرائم لوکیشن میںزمینیں الاٹ کیں اورصحافیوںکو مکان، پلاٹ اور دیگر سرکاری سہولتوں سے خوب نوازا گیا۔

 

 

 

 

ایم پی میںحکومت اور میڈیا
موجودہ دور میں مدھیہ پردیش میںحکومت اور میڈیا کے گٹھ جوڑ کو دو واقعات سے سمجھا جاسکتا ہے۔پہلا واقعہ ابھی اگست مہینے کے پہلے ہفتے کا ہے، جس میں مدھیہ پردیش کے ایک مشہور اخبار کے ذریعہ ایک انتخابی سروے شائع کیا جاتا ہے ، جس میںمدھیہ پردیش میںایک بار پھر بی جے پی کی سرکار کو بنتے ہوئے دکھایاگیا ۔ عین اسی وقت اربن باڈیز کے ضمنی انتخاب کے نتیجے بھی آتے ہیں، جس میںکانگریس پارٹی 13 میںسے 9 سیٹوںپر جیت درج کرتی ہے جبکہ بی جے پی کے کھاتے میں4 سیٹیںہی آتی ہیں۔ اس تضاد بھرے اتفاق پر ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ کا دلچسپ تبصرہ بھی سامنے آتا ہے’’یہ انتخابی نتیجے سروے نہیں، عوام کا فیصلہ ہے۔‘‘
دوسرا واقعہ پیڈ نیوز کے ایک مشہور معاملے سے جڑا ہے، جس میں2008 الیکشن کے دوران مدھیہ پردیش بی جے پی کے اہم لیڈر اور وزیر نروتم مشرا پر پیڈ نیوز کے الزام لگے تھے، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل کی گئی جانچ کمیٹی نے اپنی جانچ میںپایا تھا کہ اس دوران نروتم مشرا کی حمایت میںشائع ہوئے 48 مضامین میںسے 42 پیڈ نیوز کے دائرے میںآتے ہیں۔ حالانکہ بعد میںمتعلقہ متعلقہ اخباروں کے یہ کہنے کے بعد کہ انھوں نے اپنی مرضی سے یہ خبریںشائع کی تھیں، دہلی ہائی کورٹ سے انھیںراحت مل چکی ہے۔
بی جے پی کے ایم پی سربراہ کا متنازعہ تبصرہ
مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد راکیش سنگھ کے ذریعہ میڈیا کو لے کر کیا گیا ایک متنازعہ تبصرہ وائرل ہوا تھا، جس میںانھوں نے کہا تھا کہ ’’کوریج تو ہمیںتب ملے گا جب میڈیا کو کچھ(پیسے کا اشارہ کرتے ہوئے) ملے گا۔‘‘ دراصل راکیش سنگھ نے مدھیہ پردیش میںایک ان کہا سچ بولا تھا جو مدھیہ پردیش میںان کی پارٹی کی سرکار میڈیا کو لے کر کرتی آئی ہے۔ گزشتہ 15 سالوںمیںمیڈیا کو کنٹرول کرنے اور اسے مایا موہ میںپھنسانے کی اس سرکار نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان اپنے لمبے دور حکومت کے دوران اپنے اعلانات اور اشتہار بازی کے لیے خاصے چرچا میں رہے ہیں۔ انھوںنے خود اپنی سرکار کی امیج بلڈنگ کے لیے پانی کی طرح پیسہ بہایا ہے۔ کمل ناتھ کا الزام ہے کہ ’’شیوراج سنگھ چوہان 30 میںسے 25 دن مدھیہ پردیش کے اخباروں میںاپنی تصویر چھپواتے ہیں اور ہر مہینے 300کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں۔ ‘‘ مانا جاتا ہے کہ اپنے اشتہار کے دم پر ہی شیو راج سرکار ویاپم اور اس جیسے کئی دیگر معاملوں میںلیپا پوتی میںکامیاب رہے ہیں۔ ادھرالیکشن نزدیک ہونے کی وجہ سے ان دنوں اشتہار بازی کا یہ سلسلہ اور بڑھ گیا ہے۔ اس کی حالیہ مثال اس سال 26 اپریل کو دیکھنے کو ملی جب ریاست کے ایک مشہور اخبار ’نئی دنیا‘ نے اپنے 24 صفحات میںسے 23 صفحات پر مدھیہ پردیش کے اشتہار شائع کیے تھے۔ ان اشتہاروں میںشیوراج کا ادارتی صفحہ بھی اشتہار نما تھا، جس پر مقامی ایڈیٹر کے ذریعہ ’دیش کو گتی دیتی مدھیہ پردیش کی یوجنائیں‘ لکھا گیا مضمون چھپا تھا۔
قرض میںڈوبے مدھیہ پردیش کا رابطہ عامہ محکمہ اشتہار بانٹنے میںپیش پیش ہے ، اشتہار پر مدھیہ پردیش سرکار کے ذریعہ کیے گئے خرچ آنکھ کھول دینے والے ہیں۔ اس سال ماہ مارچ میںکانگریس کے رکن اسمبلی جیتو پٹواری کے ذریعہ اس بارے میںپوچھے گئے سوال پر محکمہ رابطہ عامہ کے وزیر نروتم مشرا نے بتایا ہے کہ مدھیہ پردیش سرکار پچھلے پانچ سال میںصرف الیکٹرونک میڈیا کو ہی قریب تین ارب روپے سے زیادہ اکے اشتہار دے چکی ہے۔بعد میںاس پر جیتو پٹواری نے الزام لگایا کہ سرکار کے ذریعہ ادھوری جانکاری دی گئی ہے۔ انھوں نے ان اداروں کی فہرست بھی مانگی تھی، جنھیںاشتہار جاری کیے گئے ہیں مگر یہ فہرست دستیاب نہیںکرائی گئی۔ اس کے بعد جیتو پٹواری کے ذریعہ شیوراج سرکار پر نااہل میڈیا اداروںکو بے حساب اشتہار دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ سرکار نے صرف ان ہی میڈیا اداروںکو اشتہار دیے جو یا تو بی جے پی والوںکے ذریعہ چلتے ہیں یا پھر شیوراج سنگھ سرکار کی خوشامد کرتے ہیں۔ ‘‘

 

 

 

مدھیہ پردیش سرکار کے ذریعہ اشتہارات پر ہوئے خرچ کو چھپانے کے اور بھی معاملے ہیں، جس میںایک 2016کا سنہستھ کا معاملہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کی تصویر کے ساتھ سنہستھ کے اشتہار پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔یہ اشتہار صرف ملک بھر میںہی نہیں،بتایا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش سرکار کے ذریعہ امریکہ میں اس کے پروپیگنڈے پر قریب 180 کروڑ خرچ کیے گئے ہیں۔ لیکن رائٹ ٹو انفارمیشن قانون اور ودھان سبھا میںاس بارے میںبار بار پوچھے جانے پر بھی شیور اج سرکار کے ذریعہ ابھی تک اس کا جواب نہیںدیا گیا ہے کہ اس نے سنہستھ کے بہانے اپنی برانڈنگ پر کتنی رقم خرچ کی ہے۔ سنہستھ کے دوران بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے معاملے بھی دیکھنے کو ملے تھے جس میںطبی سہولیات میں کام آنے والے سامان کو کئی گنا مہنگے داموںپر خریدے جانے کے معاملے سامنے آئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران قریب پانچ کروڑ کے طبی سامان کے لیے 60 کروڑ روپے ادا کیے گئے تھے۔
وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی 11 دسمبر 2016 سے 15 مئی 2017 کے بیچ قریب پانچ مہینے چلنے والی ’نمامی دیوی نرمدے‘ سیوا یاترا کے دوران اس پبلسٹی کو لے کر جو خرچ کیے گئے ہیں، اس کے بارے میںشیوراج سرکار کے ذریعہ ودھان سبھا میںجانکاری دی گئی ہے جس کے مطابق ’نمامی دیوی نرمدے‘ سیوا یاترا کے دوران اشتہارات پر قریب 33 کروڑروپے کی رقم خرچ کی گئی ہے لیکن اس سے نرمدا کو کیا فائدہ ہوا ہے، یہ تحقیق کا موضوع ہوسکتا ہے۔
ویاپم گھوٹالہ
ویاپم گھوٹالہ شیوراج سرکار پر سب سے بڑا داغ ہے۔ انگریزی میگزین ’دی کارواں‘ کے ذریعہ اپنے جون 2016 کے شمار ے میںایک اسٹوری شائع کی گئی تھی، جس میںبہت تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ کس طرح سے مدھیہ پردیش سرکار کے ذریعہ ویاپم پر پردہ ڈالنے کے لیے افسروں اور صحافیوں کو فائدہ پہنچایا گیاتھا۔ اس ضمن میںگزشتہ دنوں جب مدھیہ پردیش کانگریس انچارج دیپک باوریا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ کہا تھا کہ ’’بی جے پی نے میڈیا کو سادھ رکھا ہے، ویاپم گھوٹالہ سب سے بڑا داغدار کرنے والا واقعہ ہے اور اس میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں لیکن میڈیا اس بارے میںپانچ لائنیںبھی نہیںچھاپتا ہے۔‘‘ اس پر وہاںموجود صحافی برا مان گئے لیکن دیپک باوریا کے اس الزام کو سرے سے خارج بھی نہیںکیا جاسکتاہے۔ ویاپم گھوٹالے کی کوریج کے دوران ’آج تک‘ جیسے نیوز چینل سے جڑے صحافی اکشے سنگھ کی مشتبہ موت کا معاملہ بھی نہیںسلجھا ہے اور ان کی موت کے اسباب کا ابھی تک پتہ نہیںچل پایا ہے۔
اشتہار گھوٹالہ
ویاپم کی طرح مدھیہ پردیش میں’اشتہار گھوٹالہ‘ بھی ہوچکا ہے، جسے ویاپم گھوٹالے سے بھی جوڑ کر دیکھا گیا۔ 2016 میںانگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں اس کا خلاصہ کیا تھا، جس میںبتایا گیا تھا کہ مدھیہ پردیش میںچار سال کے دوران 234 فرضی ویب سائٹوں کو 14 کروڑ روپے کے سرکاری اشتہار دے دیے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر ویب سائٹیں صحافیوں اور ان کے رشتہ داروں کی طرف سے چلائی جارہی تھیں۔ کئی ویب سائٹیں ایسی پائی گئیں جو رجسٹرڈ تو الگ الگ نام سے تھیں لیکن ان سب میںمواد ایک ہی طرح کا تھا۔
اشتہار کے ساتھ دباؤ بھی آتا ہے ۔ اگر اخبار یا پورٹل مدھیہ پردیش سرکار خاص طور سے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا اثر اسے ملنے والے اشتہارات اور دیگر سہولتوں پر پڑتا ہے۔ بھوپال میںمیڈیا گلیاروںمیںآپ کو یہ کھسر پھسر سننے کو مل جائے گی کہ حکومت کی طرف سے میڈیا کو یہ درپردہ ہدایت ہے کہ سیدھے شیوراج سنگھ چوہان کو نشانہ بنانے والی خبروںسے بچیں۔ اسی طرح سے صحافیوں پر حملوںکے معاملے میںبھی مدھیہ پردیش پہلے مقام پر ہے۔ مرکزی سرکار کے ذریعہ لوک سبھا میںدی گئی جانکاری کے مطابق دوسری ریاستوں کے مقابلے میں گزشتہ دو سالوں میںصحافیوںپر سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔
مدھیہ پردیش الیکشن کے رڈار پر آچکا ہے۔ اس دوران میڈیا کو قابو میںکرنے کی کوششیںدوطرفہ ہونے والی ہیں۔ ایک طرف تو مدھیہ پردیش کا اشتہار لٹاؤ ماڈل تو ہے ہی، دوسری طرف اس بار گوریلا ایمرجنسی کے اہم کھلاڑی بھی ریاست میںڈیرا جمانے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ اپنے انداز سے میڈیا مینجمنٹ کے کام کو انجام دیںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *