کیرل میں سیلابی آفت قدرتی نہیں، خود ساختہ

ایک ریاست کا 80 فیصد حصہ سیلاب کی زد میں آجاتا ہے۔ 10 لاکھ لوگ ریلیف کیمپوں میں ہوں، 300 سے زیادہ موتیں ہو جاتی ہیں۔ سڑک، مواصلات کی سہولیتیں تباہ ہو گئی ہوں اور میڈیا سے لے کر سرکاریں اگر اسے صرف قدرتی آفت کا قہر مان کر کچھ سو کروڑ روپے بانٹ کر مطمئن ہو جائے تو یقین مانئے کہ ہم ایک اور ایسی ہی آفت کے لئے حالات پیدا کررہے ہیں۔یہ سچ ہے کہ اندازے سے زیادہ بارش ، باندھ سے چھوڑے گئے پانی کی وجہ سے کیرل میں یہ بھیانک سیلاب آیا۔ لیکن کیرل کا یہ سیلاب اتنا خوفناک بن گیا ، اس میں عوام اور چنی ہوئی سرکاروں اور سرکاری اداروں کا کردار بھی ہے۔ ویسے جب خطرہ گھر میں پہنچ جاتاہے تب ایک اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ پورے ملک کے عوام متاثرین کی مدد کرنے کے لئے آگے آجاتے ہیں۔ کیرل سیلاب میں بھی ہندوستان کے عام لوگوں نے جی کھول کر مدد پہنچائی ۔حالانکہ سیلاب کے دوران افراتفری کا ماحول ایسا رہا کہ ریاستی سرکار بھیپورے بھروسے کے ساتھ یہ بتانے میں ناکام رہی کہ سیلاب زدہ علاقوں و متاثرین کی واقعی تعداد کیا ہے لیکن مقامی اور دیگر ریاستوں سے پہنچے لوگوں سمیت فوج کے جوانوں نے انتہائی حوصلہ کا ثبوت دیتے ہوئے سیلاب متاثرین کی مدد کی۔
ادھر مرکزی سرکار نے کہا کہ سیلاب سے متاثر کیرل کو ابھی 600کروڑ روپے کی رقم پیشگی مدد کے طور پر دی جارہی ہے اور آگے بھی ضرورت کے مطابق پیسہ دیا جائے گا۔ وزیر عظم نے 17-18 اگست 2018 کو ریاست کا دورہ کیا تھااور ان کی ہدایت پر کیبنٹ سکریٹری کی صدارت میں نیشنل کرائسس مینجمنٹ کمیٹی نے 16سے 21اگست کے بیچ یومیہ میٹنگ کرکے راحت اور بچائو کے کاموں کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد مرکز کی طرف سے بڑے پیمانے پر راحت اور بچائو مہم چلائی گئی۔ ایک سب سے بڑے راحت مشن میں 40 ہیلی کاپٹر، 31 طیارے ، 182 ریلیف ٹیم، سیکورٹی دستوں کی 18 طبی ٹیم ،این ڈی آر ایف کی 58 ٹیم ، مرکزی مسلح پولیس دستے کی 7کمپنیاں شامل کی گئیں۔ ساتھ ہی 500 کشتیاں بھی راحت کے کام کے لئے لگائی گئیں۔

 

 

 

غلطی کہاں ہوئی؟
جولائی میں ایک سرکاری رپورٹ آئی تھی۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اسٹیٹ واٹر ریسورسیز کا نظم و نسق جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں سب سے خراب سطح پر ہے۔ کیرل کی صورت حال اس معاملے میں بہت ہی خراب ہے اور یہ اس معاملے میں 12ویں مقام پر ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر انتظامیہ 30باندھوں سے ٹائم بائونڈ کے مطابق دھیرے دھیرے پانی چھوڑتاتو یہ سیلاب اتناخوفناک نہیں ہوتا۔ غور طلب ہے کہ کیرل سیلاب کے دوران ہی 80 سے زیادہ باندھوں سے پانی چھوڑا گیا تھا۔ کیرل میں 40 سے زیادہ ندیاں بہتی ہیں۔ باندھ اور واٹر ریسورسیز کے ماہرین ہمانشو ٹھکر کے مطابق ایڈوکی اور ایڈامالیار باندھ سے پانی چھوڑنے سے کیرل کا سیلاب تباہ کن ہوا جبکہ پہلے سے ہی وہاں زبردست بارش ہو رہی تھی۔ مرکزی وزارت داخلہ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں سیلاب کے نقطہ نظر سے کیرل کو سب سے غیر محفوظ 10 ریاستوں میں رکھا تھا۔ سوال ہے کہ جب ملک میں ڈیساسٹر مینجمنٹ پالیسی ہیں، تو پھر ایسی رپورٹیں اور تخمینوں پر پہلے سے ہی کیوں نہیں دھیان دیاجاتاہے۔ یہ بھی سوال ہے کہ کیا کیرل کو سینٹرل واٹر کمیشن نے سیلاب سے خبردار کیا۔ اس کا جواب ہے نہیں۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ سینٹرل واٹر کمیشن کے پاس سیلاب کو لے کر کوئی فورکاسٹ سائٹ نہیں ہے، نہ تو پانی کی سطح کو لے کر اور نہ ہی پانی کا بہائو کتنا ہے، اسے لے کر۔
سرکاری لاپرواہی
سائنسداں مادھو گاڈکل کے مطابق، کیرل آفت کی وجہ انسانی بھی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انتہائی زیادہ بارش کے علاوہ کیرل میں پچھلے کچھ سالوں میں ہوا ترقیاتی کام بھی اس سیلاب کی خوفنانی کو نہ جھیل پانے کی وجہ بنا ہے۔ ان کا کہناہے کہ اگر ٹھوس قدم اٹھائے گئے ہوتے تو یہ دیکھنے کونہیں ملتا۔ سرکار نے گاڈگل کمیٹی کی اندیکھی بھی کی ہے، جو خطرے کی بنیادی وجہ ہے۔
گجرات اور مہاراشٹر کی سرحد سے شروع ہوکر مہاراشٹر، گوا، کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرل کے بعد کنیا کماری تک جانے والی 1600 کلو میٹر لمبے علاقے کو مغربی گھاٹ پاڑی شرنکھلا کہا جاتا ہے۔ یہاں کے جنگل ہندوستان کی مانسون کی صورت حال کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اس علاقے کے ماحولیات کو لے کر مرکزی سرکار نے مادھو گاڈگل کمیٹی تشکیل کی تھی۔اس کمیٹی کی رپورٹ 2011 تک آگئی تھی لیکن یہ جاری نہیں ہو سکی۔ جب گاڈگل کمیٹی کی ریاستوں نے مخالفت کی تو سرکار نے کستوری رنگن کمیٹی کی تشکیل کی۔ اس نے اپریل 2013 میں گاڈگل کمیٹی پر اپنی رپورٹ سرکار کو سونپ دی۔ اس نے گاڈگل کمیٹی کی کئی سفارشوں کو بدل دیا تھا۔ گاڈگل کمیٹی نے مغربی گھاٹوں کو حالات کے پیش نظر پوری طرح حساس اعلان کیا تھا اور یہاں پر کمیٹی نے کھدائی کی طرفداری کی تھی۔ گاڈگل کمیٹی نے تو پورے مغربی گھاٹ کو ای کو سینسٹیوژون ( ای ایس زیڈ ) کے طورپرنشان زد کیا تھا لیکن کستوری رنگن نے اس کی تین درجے بنائے۔
کستوری رنگن کمیٹی نے ای ایس زیڈ میں مغربی گھاٹ کے 37 فیصد حصے کو نشان زد کیا جو قریب 60 ہزار ہیکٹیئر کا تھا اور یہ گاڈگل کمیٹی کے مجوزہ 137,000 ہیکٹئر سے کم ہے۔ گاڈگل کمیٹی نے زرعی علاقوں میں جراثیم کش اور کلچرڈ بیجوں کے استعمال پر روک لگانے سے لے کر پن بجلی پروجیکٹس کی حوصلہ شکنی کرنے اور شجر کاری کے بجائے قدرتی جنگلات کو بڑھاوا دینے کی سفارشیں کی تھی۔ اس کے علاوہ 20 ہزار اسکوائر میٹر سے زیادہ بڑی عمارتوں کی تعمیر پر پوری طرح پابندی لگانے کی بات کہی۔ پن بجلی پروجیکٹس کے بارے میں کمیٹی نے ندیوں میں موجود پانی بہائو اور پروجیکٹس میں اسپیس کی بھی سخت شرطیں طے کی تھی۔ گاڈگل کمیٹی نے کہا کہ کیچ منٹ ایریا میں انکروچمنٹ ہونے اور جنگلوں کے کم ہونے سے کئی پانی کی جگہوں میں سلٹ جمع ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر گاڈگل مانتے ہیں کہ ایڈوکی باندھ اس کی مثال ہے کہ کیسے پورے کیچ منٹ ایریامیں انکروچمنٹ ہوگیا ہے۔غور طلب ہے کہ کیرل میں اسی باندھ سے زیادہ تر تباہی پھیلی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کیرل کے علاوہ اتراکھنڈ میں ہو رہی تعمیر بھی تشویش کا موضوع ہے۔

 

 

 

گاڈگل کمیٹی رپورٹ کی اندیکھی پڑی بھاری
گاڈگل رپورٹ میں پورے مغربی گھاٹ کو ماحولیاتی نقطہ نظر سے حساس اعلان کرنے کی سفارش کی تھی۔ مغربی گھاٹ کو تین خاص ماحولیاتی نقطہ نظر سے حساس ژون میں تقسیم کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ماحولیاتی نقطہ نظر سے حساس ژون جنگل میں بڑے اسٹوریج والا کوئی بھی نیا باندھ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ رپورٹ کے مطابق اس ژون میں اتھراپلی اور گونڈیا ہائیڈل پروجیکٹس کو ماحولیاتی کلیئرنس نہیں دی جانی چاہئے۔ اگر اس رپورٹ کے سجھائوں پر سرکار عمل کرتی تو پورے علاقے میں اندھا دھند کھدائی اور تعمیر کا کام رک جاتا۔ ندیوں کے کنارے تعمیر نہیں ہوتی ، دلدلی زمینوں کی انکروچمنٹ نہیں ہوتی لیکن سرکار نے اس رپورٹ کو منظور نہیں کیا۔ سرکار نے پھر کستوری رنگن کمیٹی بنا دی، جس نے گاڈگل رپور ٹ کو کمزور بنا دیا۔ کستوری رنگن کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر وزارت ماحولیات نے مغربی گھاٹ کے قریب 57 ہزار اسکوائر کلو میٹر علاقے کو ہی ماحولیات کے لحاظ سے حساس مانا۔ اس پورے علاقے میں کھدائی ،بڑی تعمیرات، تھرمل پاور پلانٹ، آلودگی پھیلانے والی صنعتوں پر پوری طرح پابندی لگ گئی۔ کیرل میں اس کے تحت 13,108 اسکوائر کلو میٹر میں پابندی لگنی تھی لیکن کیرل سرکار نے اس کی مخالفت کی۔ اس کے بعد کیرل کا مغربی گھاٹ میں پڑنے والا صرف 9994 اسکوائر کلو میٹر علاقہ ہی نوٹیفائی کیا گیا۔ نتیجہ آج کیرل میں آئے سیلاب تباہی کی شکل میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *