انجینئرز ڈے آج، گوگل نے ڈوڈل بناکر’بھارت رتن ‘یافتہ عظیم انجینئرموکش گنڈم وشویشوریاکویادکیا

visvesvaraya
’بھارت رتن‘ یافتہ موکش گنڈم وشویشوریا کی جینتی 15ستمبرکوملک میں’انجینئرز ڈے‘کے طور پر منایا جاتا ہے۔آج ہفتہ کوگوگل نے عظیم انجینئر اور ’بھارت رتن‘اعزاز یافتہ موکش گنڈم وشویشوریا کی 157ویں جینتی (سالگرہ) پر ڈوڈل بنا کر انہیں یاد کیاہے۔ڈاکٹر وشویشوریا کاجنم 15ستمبر1861کومیسور(کرناٹک) کے کولارضلع کے چکابلاپور تعلقہ میں ہواتھا۔ڈاکٹر وشویشوریا ہندوستان کے عظیم انجینئر،دانشورتھے۔1955میں انہیں سب سے بڑااعزاز’بھارت رتن ‘سے نوازاگیا۔جنوبی ہند کے میسور،کرناٹک کوایک ایک ترقی یافتہ اورخوشحال علاقہ بنانے میں وشویشوریا کا شانداراوراہم رول ہے۔ کرشن راج ساگر ڈیم، بھدراوتی آئرن اینڈا سٹیل ورکس، میسور صندل آئل اینڈ سوپ فیکٹری، میسور یونیورسٹی اور بینک آف میسور سمیت دیگر کئی بڑی کامیابیاں ان کی کوششوں سے ہی ممکن ہو سکیں۔مسٹر وشویشوریا کی ان کامیابیوں کے لئے کرناٹک کا’ بھگیرتھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔یادرہے کہ چودہ اپریل 1962 کو ڈاکٹر وشویشوریا کا 101 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔
ڈاکٹر وشویشوریا میسور (اب کرناٹک) میں کولار ضلع کے چکابلاپور تعلقہ میں ایک تیلگو خاندان میں پیدا ہوئے ڈاکٹروشویشوریا نے اپنی ابتدائی تعلیم یہیں سے مکمل کی اور بعد میں انہوں نے بنگلور کے سینٹرل کالج میں داخل لیا۔انہوں نے 1881 میں بی اے کے امتحان میں پہلا مقام حاصل کیا۔اس کے بعد میسور حکومت کی مدد سے انجینئرنگ کی پڑھائی کے لئے پونا کے سائنس کالج میں داخلہ لیا۔ 1883 میں ایل سی ای اور ایف سی ای ( موجودہ وقت میں بی ای کی ڈگری) کے امتحان میں پہلا مقام حاصل کر کے اپنی قابلیت کا ثبوت پیش کیا۔ مہاراشٹر حکومت نے ان کی اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے انہیں ناسک میں اسسٹنٹ انجینئر کے عہدے پر مقرر کردیا۔
ڈاکٹر وشویشوریا کے والدکا نام شری نواس شاشتری اورماں کا نام وینکاچماتھا۔والدسنسکرت کے ماہرتھے۔ ڈاکٹر وشویشوریا ایماندار، مخلص، محنت وغیرہ سے لبریزتھے۔انکا کہنا تھاکہ کام جوبھی ہو لیکن اس طریقے سے کیاگیاہو کہ وہ دوسروں کے کام سے بہترہو۔وہ میسورکے 19ویں دیوان (1912-1918) بھی رہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *