ترکی میں معاشی بحران عارضی مسئلہ ،صرف کرنسی کی قیمت کم ہوئی ہے جی ڈی پی میں شرح اضافہ برقرار ہے:ڈاکٹر عرشی خان

GA-lecture-IOS
ترکی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے ،تمام مطلوبہ شرائط پائے جانے کے باوجود اسے یورپی یونین کی رکنیت نہیں دی جارہی ہے ،تعلیم ،تعمیرات،سیاحت اور دیگر شعبوں میں ترکی کو دنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل ہے ،حالیہ دنوں میں جو معاشی بحران وہاں آیاہواہے وہ عارضی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ بہت جلدترک حکومت اس پر قابو پالے گی ۔ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عرشی خان نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نئی دہلی میں ترکی کے معاشی بحران پر ایک لیکچر دیتے ہوئے کیا ۔اپنے لیکچر میں انہوں نے کہاکہ ترکی کی بڑھتی ہوئی ترقی امریکہ اور دیگر ممالک کو پسند نہیں ہے، ترکی میں اسلامی اقدار کا فروغ اور مسلمانوں کا اپنے مذہب پر عمل کرنا بھی مغرب کو کھٹک رہاہے اس لئے معاشی طور پر اسے کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،اس مقصد کے تحت عالمی ایجنسیوں کے ذریعہ ترکی کے بارے میں یہ منفی پیرو پیگنڈہ کیاگیا کہ وہاں کی معیشت خطرے میں ہے ،بینک محفوظ نہیں رہیں گے جس سے تقریبا 35 فیصد لوگوں نے بینک سے اپنا پیسہ نکال لیا، دوسری طرف امریکہ نے ترکی سے ایکسپورٹ ہونے والے اسٹیل پر ٹیکس میں اضافہ کردیا جس سے کرنسی کی قدر میں گراوٹ آگئی ،چناں چہ ایک ڈالر ڈھائی لیرا کے برابر ہوتاتھا لیکن اب ایک ڈالر تقریبا سا ت لیرا کے مساوی ہوگیاہے ،40 فیصد کی تنزلی آگئی ہے ۔
اپنے لیکچر کے دوران انہوں نے یہ بھی کہاکہ ترکی کے حالیہ معاشی بحران میں صرف لیرا کی قدر میں گراوٹ آئی ہے ،جی ڈی پی میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں ہے اور کسی بھی ملک کی معیشت کا اصل دارومدار جی ڈی پی پر ہوتاہے اور ترکی میں وہ برقرار رہاہے ،62 فیصد اس کے اضافہ کی شرح ہے جبکہ دوسرے ممالک کی جی ڈی پی میں گراوٹ آئی ہے ،اس لئے حالیہ کرنسی کے بحران سے ترکی پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا اور بہت جلد کنٹرول میں آجائے گا ۔انہوں نے مزید کہاکہ طیب ایردوان کے آنے کے بعد ترکی نے ہر محاذ پر ترقی کی ہے ،ٹورزم سیکٹر میں قابل ذکر اضافہ ہواہے ،سیاحوں کو وہاں ہر طرح کی مکمل سہولیات فراہم کی جاتی ہے اس کیلئے مستقل ایک وزرات ہے ۔ تعمیرات میں ترکی دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے ۔دنیا کی 250 بہترین تعمیراتی کمپنیوں میں ترکی کی 46 کمپنیاں شامل ہیں،2008 کے بعد ترکی کے اقتصادی شہراستنبول میں 70 فیصد طویل عمارتیں بنی ہیں ۔
اس تقریب کی صدارت آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کی ،اس موقع پر معروف عالم دین مولانا خالدسیف اللہ رحمانی ،پروفیسر زیڈ ایم خان،پروفیسر اشتیاق دانش دانش ،ڈاکٹر میجر زاہد حسین سمیت متعدد اہل علم ودانشوران شریک تھے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *