کانگریس-بی ایس پی اتحاد اثر دالے گا مدھیہ پردیش کی سیاست پر

مدھیہ پردیش میں کانگریس اس بار واپسی کے ارادے سے اسمبلی انتخابات لڑنے کی تیاری کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ریاست میں پارٹی کے سبھی بڑے لیڈروں کی ذمہ داری طے کر دی گئی ہے لیکن شیو راج کے مقابلے پارٹی کی طرف سے کسی دیگر چہرے کا اعلان نہیں کیا گیاہے۔ لمبے وقت کے بعد پارٹی کی کمان ایک ایسے لیڈر کے ہاتھوں میں ہے جو سینئر ہیں اور جو سبھی گروپس کو ناندھنے میں اہل نظر آتے ہیں ۔ ریاسی صدر مقرر کئے جانے کے بعد سے کمل ناتھ نے زیادہ تر وقت بھوپال میں گزارے ہیں ۔اس دوران ان کا پورا فوکس تنظیم اور گٹھ بندھن پر رہا ہے۔ تنظیم کا کام تو انہوں نے پورا کر لیاہے ۔ لگ بھگ سبھی تنظیمی تقرریاں پوری ہو چکی ہیں لیکن گٹھ بندھن کا سوال ابھی بھی بنا ہوا ہے۔ کمل ناتھ کا سب سے زیادہ زور بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن پر رہا ہے ۔ شروعات سے ہی وہ بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن کو لے کر بہت اتائولا دکھائی پڑا ہے۔شاید ان کی اس مجبوری کو بہو جن سماج پارٹی نے بھانپ لیا اور اب وہ اپنی شرطوں پر کانگریس کے ساتھ مول بھائو کی حالت میں آگئی ہے۔ مدھیہ پردیش کمل ناتھ کی قیادت میں کانگریس گٹھ بندھن کے سہارے اپنی واپسی کا راستہ دیکھ رہی ہے ۔اسے شاید احساس ہو گیا ہے کہ پچھلے تین انتخابات میں اس کی ہار کی ایک بنیادی وجہ علاقائی پارٹیوں کے ذریعہ ووٹ تقسیم رہی ہے۔
کانگریس کی حکمت عملی
مدھیہ پردیس میں شاید یہ پہلا انتخاب ہوگا جس میں مقامی پارٹیوںکے کردار کو اتنی اہمیت دی جارہی ہے۔ روایتی طور سے یہاں ہمیشہ سے ہی دو پارٹیوں کا تسلط رہا ہے لیکن اس بار مقامی پارٹیاںبھی جارحانہ طریقے سے اپنے تیور دکھارہی ہیں۔ ایسا مانا جارہاہے کہ کسی ایک پارٹی کے حق میں لہر نہ ہونے کی وجہ سے اس بار ہار جیت طے کرنے میں سماج وادی پارٹی ، بہو جن سماج پارٹی اور گونڈوانان گن تنتر پارٹی جیسی پارٹیوں کا اہم کردار رہنے عالا ہے ۔ادھر آدیواسی تنظیم ’’جیاس ‘‘اور عام آدمی پارٹی جیسے نئے کھلاڑی میدان میں تال ٹھونکتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی تو اپنے بل بوتے سرکار بنانے کا دعویٰ بھی کررہی ہے۔

 

 

لیکن ان سب میں سب سے بڑا کھلاڑی بہو جن سماج پارٹی کو مانا جارہاہے۔ مدھیہ پردیس میں 15فیصد سے زیادہ دلت آبادی ہے جو کہ روایتی طور سے کانگریس کے ووٹ بینک رہے ہیں لیکن اب اس کا ایک بڑا حصہ بی جے پی اور بہو جن سماج پارٹی کے حصے میں جا چکا ہے۔ مدھیہ پردیش میں شیڈولڈ کاسٹ کے لئے 35 اسمبلی سیٹیں ریزرو ہیں جن میں سے 27 سیٹیں بی جے پی کے پاس ہیں۔ کانگریس ایک بار پھر اپنے اس پرانے ووٹ بینک کو اپنے پاس لانا چاہتی ہے اور اسی معاملے میں کانگریس کے ریاستی انچارج دیپک بائوریا نے یہ بیان دیاتھاکہ اگر کانگریس کی سرکار بنی تو موجودہ کارگزار صدر سریندر چودھری بھی نائب وزیر علیٰ ہوسکتے ہیں لیکن کانگریس یہ بھی سمجھ رہی ہے کہ دلت ووٹروں کو دوبارہ اپنے پاس لانے میں اسے بہو جن سماج پارٹی کی مدد کی ضرورت ہے ۔پچھلے تین اسمبلی انتخابات کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ کس طرح سے بہو جن سماج پارٹی نے لگاتار کانگریس کی ممکنہ جیت والی سیٹوں پر کھیل بگاڑنے کا کام کیاہے۔ بندیل کھنڈ ، ،وندھے اور گولیار چنبل میں بہو جن سماج پارٹی کا اچھا اثر مانا جاتا ہے۔ پچھلے چار اسمبلی انتخابات کے دوران بہو جن سماج پارٹی کے لگارتار تقریباً 7 فیصد ووٹ شیئر بنائے رکھا ہے۔ 2013 اسمبلی انتخابات کے دوران اسے 6.29 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ظاہر ہے مدھیہ پردیش میں کانگریس کے امکانات کو متاثر کرنے کے لئے بہو جن سماج پارٹی کے پاس کافی ووٹ بینک ہے ۔اس لئے اس بار کانگریس پہلے سے ہی کوئی جوکھم نہ لیتے ہوئے بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن کو اہمیت دے رہی ہے۔ لیکن لمبے وقت سے کی جارہی کوششوں کے باوجود دونوں پارٹیوں میںگٹھ بندھن کو لے کر ابھی تک اتفاق رائے نہیں بن سکا ہے اور لگاتار بے یقینی کی حالت بنی ہوئی ہے ۔ بیچ بیچ میں بیان بازی ضرور سامنے آجاتی ہے جس میں بہو جن سماج پارٹی یہ کہہ کر کانگریس پر دبائو بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ مدھیہ پردیش میں اپنے دم پر انتخاب لرنے کا ذہن بنا رہی ہے۔ کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن کی چرچائوں کے بیچ پچھلے دنوں ریاستی بہو جن سماج پارٹی صدر پردیپ اہیر وار کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھاکہ ہم سبھی سیٹوں پر تیاری کررہے ہیں۔ ریاست بھر میں لگاتار اجلاس ہو رہے ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی کا اس بار فیصلہ کن کردار ہوگا۔

 

 

 

 

کانگریس دبائو میں
ظاہر ہے دبائو کانگریس پر ہے ۔کیونکہ اس وقت اسے بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ رہنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ خاص طور پر اتر پردیش کی سرحد سے لگے بندیل کھنڈ، وندھیا چل اور گوالیار چمبل کی سیٹوں پر۔ 2013 کے اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کو 4 سیٹیں ملی تھیں جبکہ 11سیٹوں پر اس کے امیدوار دوسرے نمبر پر رہے تھے اور تقریبا ڈیڑھ درجن سیٹوں پر وہ تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ اس لئے کانگریس اگر اقتدار میں واپس لوٹنا چاہتی ہے تو وہ چاہتے ہوئے بھی بہو جن سماج پارٹی کے کردار سے انکار نہیں کرسکتی ہے۔ اگر مدھیہ پردیش میں کانگریس کو ووٹ شیئر میں بہو جن سماج پارٹی کے تقریباً7 فیصد ووٹ شیئر کو جوڑ دیا جائے تو پھر یہ گٹھ جوڑ بی جے پی کے لئے مشکل پیدا کر سکتاہے۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ اگر 2008 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بہو جن سماج پارٹی مل کر انتخابات لڑتے تو وہ تقریبا 131 سیٹیں جیت کر سرکر بنا سکتے تھے ۔اسی طرح سے اگردونوں پارٹیاں 2013 میں مل کر انتخابات لڑتیں تو مقابلہ کافی قریبی ہو سکتاتھا۔
ظاہر ہے کہ اگر اس بار کانگریس اور بی ایس پی ایک ساتھ مل کر انتخابات لڑیں تو 15 سال سے اقتدار میں بیٹھی بی جے پی کو سخت چیلنج مل سکتاہے۔ کیونکہ دونوں کو مل کر ملنے والے کل ووٹ بی جے پی کو ملنے والے ووٹوں کے بہت قریب آجاتے ہیں۔ کانگریس کو اس سے احساس ہو گیاہے کہ بی جے پی اقتدار کو اکھاڑنے کی مہم میں اسے بہو جن سماج پارٹی کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے قبول کیا ہے کہ آئندہ مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ الیکشن سے پہلے گٹھ بندھن کرنے سے کانگریس کو فائدہ ہوگا۔
اس بیچ کچھ انتخابی سروے ایسے آئے ہیں جو کانگریس کو آگے دکھا رہے ہیں ۔جولائی مہینے میں جاری لوک نیتی – سی ایس ڈی ایم کے ایک سروے میں کہا گیا کہ 2018 میں کانگریس کا ووٹ شیئر 49 فیصد ہو سکتاہے جبکہ بی جے پی کو 34فیصد اور بی ایس پی کو 5 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ اسی طرح سے اگست میںجاری اے بی پی نیوز اور سی ووٹر کے اوپنین پول میں کانگریس کو 42 اور بی جے پی کو 40 فیصد ووٹ ملنے کا امکان دکھایا گیاہے جبکہ دیگر پارٹیوں کو 18فیصد ووٹ ملنے کا امکان بتایا گیا ہے۔
الیکشن بہت نزدیک ہے ۔ لیکن کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان ابھی بھی گٹھ بندھن کو لے کر صورت حال صاف نہیں ہو سکی ہے ۔ اگر ان دونوں پارٹیوں کے بیچ سمجھوتہ نہیں ہوا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان کانگریس پارٹی کو ہوگا اور اس سے بی جے پی کو بہت راحت ملے گی۔ کانگریس سے جڑے اخبار نیشنل ہیرالڈ کے ذریعہ مدھیہ پردیش کو لے کر جولائی میں اسپیک میڈیا نیٹ ورک نے سروے شائع کیاتھا ،اس میں بتایا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان گٹھ بندھن نہیں ہوا تو کانگریس کے لئے مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا بہت مشکل ہوگا۔

 

 

 

 

بی ایس پی کا سخت رُخ
کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن کو لے کر بی ایس پی لگاتار سخت رخ اپنائے ہوئے ہے۔ دراصل پینچ اس بات پر پھنسا ہو اہے کہ بی ایس پی چاہتی ہے کہ اس کا مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیش گڑھ تینوں ہی ریاستوں میں کانگریس کے ساتھ تال میل ہوجائے لیکن راجستھان میں کانگریس کی اکائی خاص طور پر سچن پائلٹ کا خیمہ اس کے لئے تیار نہیں ہے ۔اس دوران وہ عوامی بیان بھی دے چکے ہیں کہ راجستھان میں کانگریس کو کسی گٹھ بندھن کی ضرور ت نہیں ہے اور کانگریس کو اکیلے ہی انتخابات میں اترنا چاہئے۔ ادھر بی ایس پی یہ کہہ کر دبائو بنا رہی ہے کہ وہ یا تو ان تینوں ہی ان انتخابی ریاستوں میں کانگریس کے ساتھ تال میل کرے گی۔ ورنہ وہ اپنے دم پر انتخابات لڑے گی۔
ایک دوسرا پینچ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر ہے ۔ اس سلسلہ میں خود مایاوتی نے بیان دیاہے کہ کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن تبھی ہوگا جب ہمیں قابل قدر سیٹیں ملیں گی۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس بی ایس پی کو 15 سیٹیں دینا چاہتی ہے لیکن بی ایس پی 30 سیٹیں مانگ رہی ہے۔ دراصل مدھیہ پردیش میں کانگریس دیگر پارٹیوں کے ساتھ بھی گٹھ بندھن کے فراق میں ہے ۔ایسے میں وہ چاہتے ہوئے بھی بی ایس پی کو زیادہ سیٹیں نہیں دے سکتی ہے۔
مدھیہ پردیش ویسے بھی دلتوں کے خلاف تشدد کے معاملوں میں بھی آگے ہے۔ادھر پچھلے کچھ سالوں کے دوران ملک بھر میں دلتوں کے خلاف تشدد کے واقعات سامنے آنے کے بعد سے بی جے پی دبائو میں ہے۔ اپریل مہینے میں ایس سی ؍ ایس ٹی قانون کو کمزور کرنے والے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف آندولن کاسب سے زیادہ اثر مدھیہ پردیش میں ہی دیکھنے کو ملا تھا۔ اس دوران بلائے گئے ’ بھارت بند ‘کے وقت مدھیہ پردیش کے گوالیار چمبل میں کئی جگہوں پر تشدد بھڑکنے کی وجہ سے 5لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ان سب کی وجہ سے ریاست کے دلت طبقے میں بی جے پی سرکار کے خلاف نارضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ادھر کانگریس اور بی ایس پی کے ممکنہ گٹھ بندھن نے بی جے پی کی مشکلیں اور بڑھا دی ہیں۔ ان سب کی وجہ سے بی جے پی کی طرف سے بھی دلت طبقے کے غصے کو کم کرنے کے قواعد شروع ہو گئے ہیں ۔ بی جے پی کی پالیسی ریاست کے ہر پولنگ بوتھ پر دلت کارکنوں کو تعینات کرنے کی ہے ۔اس کے لئے پارٹی 65ہزار دلت طبقے کے کارکنوں کو تیار کر رہی ہے جو دلت ووٹروں کو اپنی پارٹی کے لئے منظم کریں گے۔
مدھیہ پردیش میں اس بار کانگریس اپنے وجود کو بنائے رکھنے کے لئے انتخابات لڑ رہی ہے اور جیت کے لئے وہ کوئی کسر باقی نہیں رکھنا چاہتی ہے ۔ اسی لئے ووٹوں کا بکھرائو روکنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس کے درمیان گٹھ بندھن ہوگا یا نہیں ،ابھی اس پر فیصلہ نہیں ہو سکا ہے ۔شاید اگلے مہینے تک اس سلسلے میں دونوں پارٹیاں کسی فیصلے پر پہنچ سکیں کہ مدھیہ پردیش میں بی ایس پی کانگریس کے درمیان گٹھ بندھن ہوگا یا نہیں۔ فیصلہ جو بھی ہو، اس کا بڑا اثر اسمبلی انتخابات کے نتائج پر پڑنا طے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *