دیکھیں ویڈیو:بی جے پی رکن پالیمنٹ کاپیردھوکرکارکن نے پانی پیا،سوشل میڈیاپرہوئے ٹرول

nishikant-dubey
جھارکھنڈ کے گڈاسے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشکانت دوبے سوشل میڈیا پروائرہوئے ویڈیواورتصویرسے خوب ٹرول ہوئے۔ دراصل ، ویڈیومیں پارٹی کا ایک کارکن ان کا پیردھوکر پیتادکھ رہاہے۔خودرکن پارلیمنٹ نے یہ تصویراپنے فیس بک پرلگائی تھی۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ایک کارکن سے اپنا پیردھولوایااوردھلے ہوئے پیرکا پانی اسے پینے دیا۔بتایاجارہاہے کہ 16ستمبریعنی اتوار کوبی جے پی کارکن پون شاہ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشکانت دوبے کا پیردھوکرپی لیا۔ سب سے حیران کن بات یہ رکن پالیمنٹ نے پیردھونے والی تصویرفیس بک پرڈال رکھی ہے۔

خبروں کے مطابق، یہ تب ہواجب نشکانت دوبے گوڈا کے کنبھارا میں اتوارکوپل کا افتتاح کرنے پہنچے تھے۔اس دوران بی جے پی کارکن پنکج شاہ نے کہاکہ رکن پارلیمنٹ نے پل کا تحفہ دے کرعوام پربہت احسان کیاہے۔اس لئے ان کے چرن(پیر)دھوکرپینے کا دل کررہاہے۔پھرکارکن نے تھالی اورپانی منگواکر بی جے پی پارلیمنٹ کا پیردھونا شروع کردیا۔رکن پارلیمنٹ نشکانت دوبے نے بھی بغیر کسی اعتراض کے پیردھونے کیلئے آگے بڑھادیا۔اتناہی نہیں کارکن نے پیردھونے کے بعد پانی بھی پی لیا۔

اس واقعے کی تصویرخودرکن پارلیمنٹ نے اپنے فیس بک وال پرپوسٹ کرتے ہوئے لکھاکہ آج میں اپنے آپ کوبہت چھوٹا کارکن سمجھ رہاہوں۔ بی جے پی کے عظیم کارکن پون سنگھ ساہ نے پل کی خوشی میں ہزاروں کے سامنے پیردھویا اوراس کواپنے وعدے پل کی خوشی میں شامل کیا،کاش یہ موقع مجھے ایک دن والدین کے بعد ملے، میں بھی کارکنوں خاص کرپون جی کا پیردھوکرپیوں۔جے بی جے پی ، جے بھارت۔کارکن سے پیردھولوانے کے اس معاملے میں لوگوں نے رکن پارلیمنٹ کوسوشل میڈیاپرٹرول کرشروع کردیا۔

ٹرول اورہنگامے کی بعد بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے فیس بک پرصفائی دی ہے۔انہو ں نے اپنے پوسٹ میں لکھاکہ ’’اپنوں عظمت بانٹی نہیں جاتی اورکارکن اگرخوشی کا اظہارپیردھوکرکررہاہے توکیاغضب ہوا؟ انہو ں نے عوام کے سامنے قسم کھایاتھا، ان کوٹھیس نہ پہنچے احترام کئے۔پیردھونا جھارکھنڈ میں مہمان کیلئے ہوتاہی ہے، سارے پروگرام میں آدیسواسی خواتین کیا یہ نہیں کرتی ہیں؟ اسے سیاسی رنگ کیو ں گھِس رہے :پیرمہمان کا دھونا غلط ہے ، اپنے بڑوں پوچھےئے، مہابھارت میں کرشن جی نے کیاپیرنہیں دھویاتھا؟لعنت ہے گھٹیاذہنیت پر۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *