راجستھان میں بی جے پی بنام کانگریس ہوگی سخت زور آزمائی

راجستھان میں 4 مہینے کے بعد انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ ریاست میں اقتدار کی بساط بچھ چکی ہے۔ اس بار بی جے پی اور کانگریس کے بیچ لگ بھگ سیدھا مقابلہ ہونا ہے۔ راجستھان میں ہر پانچ سال میں اقتدار بدلنے کا رواج رہا ہے۔ لیکن اس بار بی جے پی کی کوشش ہے کہ اس رجحان کو بدلا جائے اور کانگریس اس کوشش میں ہے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کرلے ۔ گزشتہ ہفتہ جاری ہوئے ایک بڑے سروے میں کانگریس کو 143 اور بی جے پی کو صرف 57 سیٹیں دی گئی ہیں، جو کہ موجودہ وقت میں محض 37 سیٹوں کے مقابلے بہت زیادہ دکھائی دے رہا ہے ۔ ابھی جو سٹہ بازار ہے ، وہ بھی کانگریس کو لگ بھگ 140-150 اور بی جے پی کو صرف 50-60 سیٹیں دے رہا ہے ۔
یہ جو سروے آیا ہے اور جو سٹہ بازار چل رہا ہے، اس سے کانگریس جو پچھلے چار سالوں سے مردہ پڑی ہوئی تھی، اس میں تھوڑی جان آگئی ہے ۔ لیکن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ جو اے بی پی نیوز کا اور سی ووٹر کا سروے ہے، یہ اس وقت ہوا تھا، جب جے پور میں مودی کی ریلی نہیں ہوئی تھی، امیت شاہ کا دورہ نہیں ہوا تھا، وسندھرا راجے کی کی’’ گورو یاترا‘‘ شروع نہیں ہوئی تھی اور ریاستی صدر کو لے کر بھی صورت حال ٹھیک نہیں تھی، کیونکہ ڈھائی مہینے سے پارٹی کا کوئی ریاستی صدر نہیں تھا۔
ویسے ماحول میں یہ سروے کیا گیا تھا۔ تو ہو سکتا ہے کہ بی جے پی کا گراف نیچے آگیا ہو۔ لیکن پچھلے ایک ماہ میں بی جے پی کے حق میں تھوڑا بدلائو آیا ہے۔ لیکن ابھی بھی بی جے پی سرکار دوبارہ بنا لے گی، اس میں بہت شک ہے اور کم سے کم صورت حال اس کے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اگلے چار مہینے میں حالات بدل جائیں۔لیکن حالات بدلنے کے لئے پی ایم مودی اور امیت شاہ کو کافی محنت کرنی ہوگی۔ تبھی بی جے پی والے دوبارہ اقتدار میں آنے کی سوچ سکتے ہیں۔
وسندھرا سے عوام ناراض ہیں
وسندھرا سرکار سے عوام کی ناراضگی اتنی گہری ہے کہ ابھی وسندھرا راجے کو دوبارہ اقتدار میں آنے کے لئے بہت زور لگانا پڑے گا۔ ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی ہار ہوئی۔لوک سبھا اور اسمبلی کے تین مہینے پہلے انتخابات ہوئے تھے ۔ اس میں بی جے پی کی زبردست شکست ہوئی تھی۔وسندھرا سرکار کی چولیں ہل گئی تھیں۔وسندھرا کے علاوہ ریاستی بی جے پی کے صدر اشوک پرنامی اور وزیر اعلیٰ کے چیف سکریٹری تنمے کمار کو اس ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ تب بی جے پی اعلیٰ کمان وسندھرا راجے سے خفا تھا۔ لیکن یو پی میں بڑی ہار نہیں ہوئی ہوتی تو راجستھان میں قیادت کی تبدیلی طے تھی۔
راجستھان کے نئے وزیر علی کے نام بھی بازار میں آگئے تھے لیکن یو پی کی ہار، وسندھرا کے لئے نعمت ثابت ہوئی ۔یو پی کی ہار کے آگے راجستھان کی بے مثال ہار کو ،بی جے پی اعلیٰ کمان کے ذریعہ درکنار کرناپڑا اور بی جے پی اعلیٰ کمان تھوڑا ڈر گئی۔ خانہ پری کے لئے ریاستی صدر اشوک پرنامی کو ہٹایا گیا۔ اچانک ان سے استعفیٰ لیا گیا لیکن نئے صدر کی تقرری میں ایسا گڈ مڈ ہوا کہ بی جے پی اعلیٰ کمان اور پوری پارٹی کے وقار کو بٹّا لگا ۔ امیت شاہ نے مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کا نام طے کیا تھا لیکن کئی ہفتوں کی جدو جہد کے باوجود نئے صدر کی تقرری وسندھرا کی مرضی کے خلاف امیت شاہ نہیں کرپائے ۔
دہلی میں امیت شاہ اور پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں، راجستھان کے اراکین پارلیمنٹ، خود امیت شاہ اور وسندھرا کے بیچ کئی میٹنگیں ہوئیں۔ ان میٹنگوں کا دورہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ بہت مشکل سے مدن لال سینی کا نام طے ہوا۔ دونوں فریقوں کی رضامندی سے یہ نام آیا لیکن مدن لال سینی کی تقرری بہت اچھی نہیں مانی جارہی ہے۔ ان میں نہ چمک ہے، نہ دھمک ہے۔ووٹ کھینچنے کی صلاحیت تو بالکل بھی نہیں ہے۔ہاں، وہ قابل قبول ہیں، ناقابل تردید ہیں۔ان کا ایک بڑا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اشوک گہلوت مالی ذات کے ہیں۔لہٰذا مالی ذات کے ووٹ بینک میں سیندھ مار سکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

سرکاری خرچ پر گورو یاترا
گزشتہ 4 اگست کو وسندھرا راجے نے راجستھان میں ’’گورو یاترا‘‘ شروع کی ہے۔ راجسمند میں 4اگست کو شروع ہوئی ’’گورو یاترا ‘‘کو بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے آغاز کروایا تھا۔ یہ ’’گورو یاترا‘‘ 2اکتوبر کو جب ختم ہوگی تو ایسا مانا جا رہا ہے کہ اس میں خود نریندر مودی آئیںگے اور پشکر میں اس کی تکمیل کریں گے۔ اس’’ گورو یاترا‘‘ کا جو تام جھام ہے ،وہ سرکاری خرچ کے ساتھ ہو رہا ہے، سرکاری خرچ پر سب ہو رہا ہے، بھیڑ بھی جٹائی جارہی ہے۔ ہائی کورٹ میں اس ’’گورو یاترا‘‘ میں سرکاری خرچ کو لے کر کانگریس نے عرضی دائر کی ہے۔ ہائی کورٹ نے اب تک اس یاترا پر خرچ کا بیورا مانگا ہے۔ اس سے لگ رہا ہے کہ’’ گورو یاترا‘‘ کو دھکا لگا ہے لیکن وزیراعلیٰ راجے کا جلوہ اس ’’گورو یاترا ‘‘کے ذریعہ واپس قائم ہونے لگا ہے۔ لیکن یہ ووٹوں میں کتنا بدلے گا ، یہ کہنا مشکل ہے۔
وزیروں اور ایم ایل ایز پر الزامات کی بوچھار
جہاں تک وسندھرا سرکار کی موجودہ صورت حال کا سوال ہے تو یہ مانا جارہا ہے کہ اقتدار مخالف لہر پورے زور پر ہے۔ وزیروں اور ایم ایل اے کے خلاف ، کام کاج کو لے کر عوام میں بے حد ناراضگی ہے۔ کم سے کم نصف درجن وزیروں پر بد عنوانی اور دیگر سنگین الزمات ہیں۔ کئی وزیروں کے بیٹوں پر دلالی کے الزام ہیں۔ وزیروں کے نام اور ان کے بیٹوں کے نام اخباروں میں چھپے بھی ہیں۔ ایک اکیلے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریا ہیں جن کے خلاف بدعنوانی ، من مانی کے الزام نہیں لگے ہیں۔ البتہ باقی سارے ہی وزیر ایسے ہیں جن کے خلاف کسی نہ کسی طرح کے الزام ہیں۔ زیادہ تر ایم ایل اے کا طریقۂ کار اوران کی شبیہ اتنی خراب ہے کہ وہ شاید ہی آگے جیت پائیں۔ ابھی 140ایم ایل ایز ہیں ۔ان میں سے زیادہ تر ایم ایل ایز آگے جیتنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ کل ملا کر ایم ایل ایز کو لے کر، وزیروں کو لے کر، سرکار کے کام کاج کو لے کر عوام میں اتنا غصہ ہے کہ اگلے انتخاب میں، صرف وسندھرا راجے کے بل بوتے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرنا بی جے پی کے لئے ممکن نہیں ہے، اس کی امید بہت کم ہے ۔
سرکاری انتظامیہ اور تاناشاہی
اینٹی انکمبنسی کا ایک بڑا سبب ہے اس سرکار کا پانچ سال کا گورننس۔گورننس بہت ڈھیلا، لونچ پونج اور چرمرا تا ہوا ہے ۔یہ لگ بھگ تاناشاہی جیسا ہے۔ جیسا وسندھرا راجے نے چاہا، ان کے سکریٹری تنمے کمار نے چاہا، انتظامیہ کو چلایا ، ویسا ہی ٹرانسفر ، پوسٹنگ کی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ان کے چار سال میں چار چیف سکریٹری آئے۔ ان میں تین چیف سکریٹری او پی مینا، اشوک جین اور نہال چند تو صرف آئے اور گئے۔ ان کا کوئی اثر رہا نہیں ۔ چیف سکریٹری جیسے عہدہ کا کمزور ہونا تو انتظامیہ کے لئے ٹھیک نہیں مانا جاسکتا ہے۔اس وجہ سے وزیر اعلیٰ کے چیف سکریٹری تنمے کمار کافی طاقتور ہوتے گئے۔ اس سے مسائل آئے۔ ان سب سے تنمے کمار تانا شاہ کے کردار میں آگئے۔ پوری ریاست میں آئی اے ایس، آئی پی ایس، چھوٹے بڑے جتنے بھی اہم عہدے ہیں، اس پر لگ بھگ ان کی اجارہ داری ہوگئی۔جہاں چاہا، وہاں اپنے آدمی کو قابض کیا۔تنمے کمار کی پسند کے نصف درجن آفیسر اہم عہدوں پر قابض ہیں۔ اچھے افسروں کو حاشئے پر ڈال دیا گیا ہے۔ اکیلے تنمے ہی سرکار چلارہے ہیں۔ ان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ دو بڑے معاملے میں وسندھرا سرکار کو یو ٹرن لینا پڑا ہے جن میں سرکار کی فضیحت ہوئی۔
بابا رام دیو زمین الاٹمنٹ معاملہ
پریس کے خلاف وسندھرا راجے ایک سال پہلے کالا قانون لائی تھیں۔ صحافیوں نے اس کالے قانون کے خلاف دھرنا احتجاج کیا تھا۔ راجستھان جرنل نے سرکار کی خبروں کا بائیکاٹ کیا۔ خبریں اور فوٹو چھاپنے کا بائیکاٹ کیا۔ کئی مہینوں تک سرکار نے اشتہارات بند کیا لیکن راجستھان جرنل مہم چلاتا رہا۔ آخر کار سرکار کو جھکنا پڑا اور قانون واپس لینا پڑا۔ اسی طرح دوسرا جو معاملہ رہا، اس میں یو ٹرن لینا پڑا سرکار کو، اس میں بھی سرکار کی فضیحت ہوئی۔ یہ معاملہ تھا بابا رام دیو کو کرولی میں کئی سو بیگھہ زمین الاٹ کرنے کا۔ بابا رام دیو مندر معافی کی زمین ( گووند دیو جی ٹرسٹ ) پر کوئی بڑی فیکٹری لگانا چاہتے تھے۔ اس کے لئے دو سال پہلے سرکار سے بات چیت بھی ہو گئی تھی۔ وہ مندر معافی کی زمین تھی۔ آگے جب اس پر عرضی لگائی گئی تب یہ ہوا کہ مندر معافی کی زمین کو کسی کو نہیں دیا جاسکتا ہے۔افسروں نے معاملے پر اختلاف کیا۔ یہ جولائی کا معاملہ ہے۔ پھر زمین الاٹمنٹ رد کیا گیا۔ اس معاملے میں وسندھرا سرکار کی کافی فضیحت ہوئی ۔
ریکارڈ فصل خرید
وسندھرا سرکار نے دو اہم کام کئے ہیں، جس کی چرچا کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کسانوں کے قرض معافی کابڑا کام کیا ہے اور اس سے گائوں میں یا کسانوں میں تھوڑا سا نام ہوا ہے۔ اس سے شاید انہیں تھوڑا ووٹ کا بھی فائدہ ہو جائے ۔ دوسرا اس بار وسندھرا سرکار نے فصلوں کی ریکارڈ خرید کی ہے۔ پچھلے 40-50 سالوں میں اتنی فصل خرید نہیں ہوئی تھی۔ مرکزی سرکار سے گرانٹ لے کر خرید کو مینیج کرنا اور کسانوں کو فائدہ پہنچانا وسندھرا سرکار کا ایک بڑا کام رہا ہے۔

دھنشیام تیواڑی اور کروڑی لال مینا کا اثر
اب سیاسی مسئلے کو دیکھتے ہیں۔ دو قدآور لیڈر ہیں۔ دھنشیام تیواڑی اور کروڑی لال مینا۔ مینا پارٹی میں واپس آئے ہیںتو تیواڑی پارٹی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ کروڑی لال مینا کے ساتھ مینا ذات کا بڑا ووٹ بینک ہیں۔یہ ووٹ بینک ویسے بھی بی جے پی حامی رہا ہے۔ کروڑی لال مینا کا بی جے پی میں آنا بی جے پی کے لئے ایک پلس پوائنٹ ہے۔ اس کے برعکس ، دھنشیام تیواڑی بی جے پی میں کئی دہائی سے تھے، وزیر رہے، وسندھرا سرکار میں وزیر رہے لیکن اس بار جب وسندھرا سرکار بنی تو وہ پہلے ہی دن سے سرکار کے خلاف ہو گئے۔ انہیں وزیر نہیں بنایا گیا، نہ انہوں نے کوشش کی۔ ایوان اور ایوان کے باہر وسندھرا سرکار پر حملے کئے۔ دھنشیام تیواڑی نے سی ایم کے نئے بنگلے کو لے کر بھی وسندھرا راجے پر حملہ بولا۔ ان کے نئے بنگلے کے باہر جا کر، ہاتھ میں تختیاں لے کر احتجاج کرنے لگے۔ کہا کہ یہ الاٹمنٹ قانون کے خلاف ہے۔ تب وہ بی جے پی میں تھے۔ان کے خلاف شکایت ہوئی، لیکن بی جے پی اعلیٰ کمان ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکا۔ شاید اس لئے کہ دھنشیام تیواڑی قد آور لیڈر ہیں اور وہ برہمن ووٹ بینک کو کنٹرول کرتے ہیں۔ لیکن دھنشیام تیواڑی خود ہی بی جے پی چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے ایک نئی پارٹی بنائی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ دھنشیام تیواڑ ی کی وجہ سے بی جے پی کو برہمن ووٹ شاید کم ملے۔
تیسرے بڑے سیاسی لیڈر ہیں کروڑی سنگھ بینسلا ۔ وہ گوجر ریزرویشن آندولن چلاتے رہے ہیں اور گوجروں کے بڑے لیڈر مانے جاتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے وہ کبھی سرکار کے ساتھ تو کبھی اپوزیشن میں رہے ہیں۔ بھرت پور ڈویژن میں ان کا کافی نام مانا جاتاہے۔ ابھی وہ بھی وسندھرا راجے کے خلاف ہیں۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ وسندھرا سرکار ابھی ’’گورو یاترا ‘‘ختم کرنے کے بعد ایک دوسری یاترا بھرت پور سے شروع کرنے والی تھی، لیکن اسے رد کر دیا گیا ہے۔ اب وہ بھرت پور کی جگہ کسی اور جگہ سے یہ یاترا شروع کریں گی، تو اس سے بھی تھوڑا وسندھرا سرکار کی فضیحت ہوئی ہے۔

 

 

 

 

 

کانگریس کا سنگٹھن کہاں ہے
اب کانگریس کی بات کرتے ہیں۔کانگریس اینٹی انکمبنسی کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ کانگریس کا خود کوئی وجود نہیں رہا۔ کانگریس اپنے بل بوتے پر انتخابات جیت سکنے کی حالت میں نہیں ہے۔ کانگریس کا حال آج بھی بے حال ہے ۔کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ چرمرا رہا ہے۔ریاستی کانگریس تنظیم کی انتخابی سرگرمی ادھوری ہے۔ سی ایم کا چہرہ ابھی سامنے نہیں ہے۔ پوری پارٹی دو بڑے گٹوں میں بٹی ہوئی ہے۔اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ۔ یہ دو بڑے دھڑے ہیں اور دونوں ہی سی ایم کے مضبوط دعویدار ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف جم کر کھلے عام بیان بازی کرتے ہیں۔ پائلٹ کے اجلاس میں گہلوت حامیوں نے اعلان کر دیاتھاکہ اشوک گہلوت ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوں گے ۔ کانگریس اعلیٰ کمان تک شکایت پہنچی کہ یہ غلط ہو رہاہے، ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، لیکن ہوا کچھ نہیں۔ آج بھی اشوک گہلوت اور پائلٹ، دونوں اہم دعویدار ہیں۔ایک بات ضرور ہے کہ پچھلے چار سال میں کانگریس مری ہوئی رہی ہے۔زیادہ تر پرانے لیڈر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ہیں۔گزشتہ چار سال میں کہیں دکھائی نہیں دیئے ہیں۔ابھی جے پور میں جب راہل گاندھی کا اجلاس ہوا تب یہ پرانے چہرے اسٹیج پر نازل ہوئے اور تب یہ معلوم ہوا کہ کانگریس میں یہ لوگ بھی ہیں اور ان کا کبھی وجود رہا ہے۔
گلے ملے، دل ملے کیا؟
12اگست کے اس اجلاس میں بڑی بات یہ ہوئی کہ راہل گاندھی نے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ دونوں کو ایک ساتھ ایک اسٹیج سے تقریر کروایا اور گلے ملوایا۔یہ تماشہ سارے لوگوں نے دیکھا۔یہ اشارہ تھا کہ دونوں گلے مل گئے۔ لیکن لوگوں کو یہ سب ڈرامہ لگا۔ اجلاس میں موجود لوگ بتاتے ہیں کہ راہل گاندھی نے سب کے سامنے سچن پائلٹ کو آنکھ ماری اور آنکھ مارنے کی وجہ سے سچن پائلٹ آگے بڑھے اور تب انہوں نے اشوک گہلوت کوگلے لگایا۔ لوگوں کو لگا کہ گلے ملنے کا پروگرام پہلے سے طے تھا ۔ گلے ملنے سے دونوں کے بیچ کی کڑواہٹ کم ہوئی ہو، ایسا کم لگتا ہے۔ راجستھان انچارج اویناش رائے پانڈے نے ’’میرا بوتھ میرا گورو‘‘ پروگرام چلایا،لیکن یہ پروگرام مؤثر ثابت نہیں ہوا۔اس پروگرام میں خود اویناش پانڈے کی کئی جگہ جگ ہنسائی ہوئی۔ اس میں بھی گٹ بازی دکھائی دی۔مارپیٹ کے واقعات دیکھنے کو ملے۔ آج کی تاریخ میں بی ایس پی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بی ایس پی کا نہ کوئی لیڈر دکھائی دے رہا ہے اور نہ کوئی لیڈر سامنے آرہا ہے۔ حالانکہ مایاوتی کی کوشش ہے کہ بی ایس پی کے امیدوار کھڑے ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *