56 کروڑ کا ٹیب گھوٹالہ جھارکھنڈ کے لیے بدنما داغ

جھارکھنڈ میںاب گھوٹالہ کوئی معنی نہیںرکھتا۔ یہاں آئے دن نئے نئے گھوٹالے اجاگر ہوتے رہتے ہیں۔ زیرو ٹالرینس کا دعویٰ کرنے والی رگھوور داس کی سرکار بھی وہی رٹارٹایا سا جواب دیتی ہے کہ پورے معاملے کی جانچ غیر جانبدار ایجنسی سے کرائی جائے گی، قصور واروں کو بخشانہیںجائے گا۔لیکن دیگر گھوٹالوں کی طرح اس گھوٹالے میں بھی ہی اعلان ہوا۔البتہ اس بات سے انکار نہیںکیا جاسکتا ہے کہ اس گھوٹالے پر سے بھی پردہ اٹھانا مشکل ہی ہوگا۔
جھارکھنڈ میںتعلیم کی صورت حال انتہائی قابل رحم ہے۔ آدھے سے زیادہ ٹیچروں کو نہ انگریزی کا علم ہے اور نہ ہی وہ کمپیوٹر فرینڈلی ہیںیا اسمارٹ فون چلانا جانتے ہیں لیکن ریاست کے ٹیچروں کو جدید وسائل سے لیس کرنے کے لیے محکمہ تعلیم نے آناً فاناً میں 56 ہزار کروڑ روپے کے ٹیب خرید لیے، جو ریاست کے ٹیچروںکے بیچ تقسیم کرنے تھے۔ محکمہ تعلیم نے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی، نہ تو ٹیچروں کو اس بارے میںکوئی تربیت دی گئی اور نہ ہی ا س کا کیا فائدے ہیں، اس بارے میں انھیںکچھ بتایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سالوں سے محکمہ تعلیم کے ذریعہ خریدے گئے 56 کروڑ روپے کے ٹیب گودام میںپڑے ہوئے ہیں اور اس کی حفاظت میں ہر مہینے لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ٹیب دھیرے دھیرے خراب بھی ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی افسروںکی ملی بھگت سے چوری بھی ہو رہی ہے۔ دراصل بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میںنیتی آیوگ کا ایک طرح سے قبضہ ہی ہے۔ نیتی آیوگ کی ہر اسکیم کو ریاستی محکمے حکم کی طرح مانتے ہیں اور اس اسکیم کا نفاذ کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ بدعنوان افسر اٹھاتے ہیں اور گھوٹالوںکو انجام دینے میںنہیںچوکتے۔

 

 

 

پسماندہ اضلاع میںجھارکھنڈ کے 19 اضلاع
نیتی آیوگ نے حال ہی میںملک میںایسے 101 ضلعوں کی فہرست بنائی جو پسماندہ ہیں۔ ان ضلعوںکی فہرست میں جھارکھنڈ کے 19 اضلاع بھی شامل کیے گئے۔ ان ضلعوں کی فہرست بناتے وقت تعلیم کو بھی ایک پیمانے کے طور پر شامل کیا گیا۔ اس پیمانے میں30نظام درست کرنے کے لیے نیتی آیوگ کی طرف سے ’گیانودے یوجنا‘ کے تحت ’ودیا واہنی یوجنا‘ کی شروعات کی گئی۔ نیتی آیوگ کی ہدایت کے بعد ہی اسکیم کی شروعات کرنے میںمحکمہ تعلیم نے تیزی دکھانی شروع کی لیکن یہ تیزی صرف خریدو فروخت تک ہی محدود رہی۔ قریب 56 کروڑ رپے کے ٹیب خریدنے کے بعد اسکیم ٹھنڈے بستے میںچلی گئی کیونکہ خریداری اور اس سے متعلق سارے کام محکمے نے آناً فاناً میںپورے کرلیے۔ افسروں نے جم کر کمیشن خوری کی اور اونچے داموں پر ٹیب کی خریداری کرکے رقم کی بندر بانٹ کرلی ۔
دراصل ریاست میںتعلیم کے معیار میںسدھار کرنے کے لیے بہتر تشخیص کی ضرورت ہے۔ اسکولی تعلیم کی سبھی سطحوںپر نتائج میں سدھار کو دھیان میںرکھتے ہوئے نیتی آیوگ نے ایک انڈیکس بنایا، جسے ’اسکول ایجوکیشن کوالٹی انڈیکس‘ کہتے ہیں۔ اس انڈیکس‘ کو بنانے کے پیچھے نیتی آیوگ کا کہنا ہے کہ انڈیکس کو دیکھتے ہوئے سدھار کس سمت میںکرنا ہے، یہ واضح ہوگا۔ س کے تحت ہر ریاست میں’ودیا واہنی یوجنا‘ کی شروعات کی گئی۔ 7 ستمبر 2017 کو محکمہ تعلیم کی اہم میٹنگ ہوئی اور اس ریاست میں ’شکشا واہنی یوجنا‘ شروع کرنے پر اتفاق ہوا۔ اسکیم کے تحت اسٹوڈینٹس کا رجسٹریشن ، حاضری اور اسکول چھوڑنے مڈ ڈے میل اور ٹیچروں کی حاضری پر نظر رکھنے کے لیے ٹھیک ٹائم کے اعداد وشمار بنانے کی ضرورت سمجھی گئی۔ یہ اعداد و شمار ایک سافٹ ویئر کے ذریعہ بنائے جانے تھے، جسے ’ودیا واہنی ‘ کا نام دیا گیا۔ ’گیانودے یوجنا‘ کا ایک حصہ ’ودیا واہنی‘ کو شروع کرنے میں جو مستعدی دکھائی گئی، ٹیب کی خریداری کے بعد وہ جنون سستی میںبدل گیا۔ ’ودیا واہنی ‘ سافٹ ویئر کو چلانے کے لیے جیپ آئی ٹی کی طرف سے ٹیب کی سپلائی کی گئی۔ ایک ٹیب کی قیمت 13 ہزار 504 کروڑ روپے تھی۔ 41 ہزار ٹیب کی خریداری جیپ آئی ٹی نے کی، جس کی کل لاگت تقریباً 56 کروڑ روپے آئی لیکن اس ٹیب سے کچھ ہوا نہیں۔ محکمہ تعلیم سے ہدایتملتے ہی دو مہینے کے اندر ہی سارے کام نمٹالیے گئے۔ ریاست کے ہر منتخب ضلع میںٹیب بھیج دیے گئے۔ اب یہ سارے ٹیب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میںدھول پھانک رہے ہیں۔ اس ٹیب کی گارنٹی بھی ختم ہونے کی کگار پر ہے اور یہ ٹیب کسی کام کے نہیںہیں۔ جیپ آئی ٹی کے ذریعہ جس ٹیب کی خریداری ساڑھے تیرہ ہزار روپے میںکی گئی، اسی ٹیب کی بازاری قیمت سات ہزار روپے بتائی جاتی ہے۔ گھٹیا ٹیب کی خریداری کرکے رقم کی بندر بانٹ کر لی گئی۔ محکمہ تعلیم کے ایک افسر کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیب ٹیچروں میںبانٹے بھی جاتے تو یہ ایک دو مہینے میںخراب ہوجاتے اور پھر سے ان ٹیبوں کو گوداموں میں ہی بھیجنا پڑتا۔

 

 

 

پلّہ جھاڑنے کی کوشش
ریاستی وزیر تعلیم نیرا یادو نے کہا کہ اس پورے معاملے کی جانچ کرائی جائے گی۔ کون کون سے عہدیداروں نے اس اسکیم کے نفاذ میںتعاون نہیںکیا اور یہ اسکیم کیوںنہیںشروع کی گئی ، اس کی جانچ کرائی جارہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ کہہ کر وزیر تعلیم نے پلہ جھاڑ لینے کی کوشش کی اور اپنے کو پاک صاف بتایا لیکن کیا وزیر تعلیم کی یہ ذمہ داری نہیںبنتی ہے کہ آخر کن حالات میںیہ اسکیم شروع نہیںکی گئی۔ آخر وزیر تعلیم نیرا یادو کیا کر رہی تھیں؟ اس پر بھی کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں لیکن ریاستی وزیر تعلیم اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتی نظر آرہی ہیں۔
19 جنوری 2017 کو اسکول تعلیم اور خواندگی مشن کے ذیعہ منعقد پروگرام کے موقع پر وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے یہ اعلان کیا کہ سبھی سرکاری اسکولوں کو ٹیچروںکو ٹیبلٹ دیا جائے گا۔ اگلے مالی سال میںاس کے لیے رقم کا بھی بندوبست کرلیا گیا۔ ٹیچروںکو ای- ودیا واہنی سافٹ ویئرسے جوڑنے کا بھی اعلان کیا۔اس سے تین گنا زیادہ رقم اس اسکیم پر خرچ ہو چکی ہے لیکن نتیجہ صفر ہے۔ ٹیب کا فائدہ نہ ٹیچروں کو مل رہا ہے اور نہ ہی کروڑوں روپے خرچ ہونے کے بعد جھارکھنڈ کے نظام تعلیم میں ہی کوئی سدھار ہو سکا ہے۔ ضلع میںٹیب گئے ہوئے آٹھ مہینے ہو گئے لیکن واہنی یوجنا کے تحت سافٹ ویئر کو سمجھانے کے لیے ٹیچروں کو ایک روزہ ٹریننگ جو دینی تھی، وہ بھی نہیںدی جاسکی۔ ٹریننگ میں شامل ہونے پر سبھی ٹیچروں کو150 روپے سرکار کی طرف سے دیے جانے تھے تاکہ سافٹ ویئر کو ٹیچر اچھی طرح سمجھ سکیں اور اس پر کام کر سکیں۔ پوری ٹریننگ کے لیے 62 لاکھ روپے کا بجٹ بنایا گیا لیکن آٹھ ماہ بعد بھی محکمہ ٹیچروںکو ایک دن کی ٹریننگ نہیںدلاپایا۔ صرف ٹیب کی خریداری کرکے ضلعوں میںبھیج دیے گئے جہاںیہ ٹیب دھول پھانک رہے ہیں۔
محکمہ ٹیچروںکو ایک روز کی ٹریننگ دینے میں ابھی تک ناکام ہے ۔ ایسے میںسوال اٹھنے لگے ہیں کہ کہیںپڑے پڑے ٹیب خراب نہ ہو جائیں۔ بدنامی سے بچنے کے لیے ریاستی سرکار نے بی آر پی اور سی آر پی کے بیچ ٹیب بانٹ دیے۔ انھیںاس کے لیے تربیت دی گئی لیکن ٹیچروںکو اس کے لیے تربیت نہیںدیا جانا انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔ سرکار نے تعلیم کے معیار کو سدھارنے کے لیے ’سمپرک فاؤنڈیشن ایوم اروندوں سوسائٹی‘ کے ساتھ ایم اویو بھی کیا تاکہ اسمارٹ پاٹھ شالہ چلائی جاسکے۔ 26 ہزار پرائمری اسکولوںکے تقریباً چالیس لاکھ بچوں تک اس طرح کی تعلیم پہنچانے کا ہدف رکھا گیا۔ اس پر 40 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہونی تھی۔ یہ ادارہ انگریزی بولنے کی کِٹ فراہم کرائے گا۔ ٹیچروںکے لیے آڈیو ساؤنڈ باکس، موبائل ایپ اور ٹریننگ دینے کی ذمہ داری بھی اس ادارے نے لی تھی۔ 60 ہزار ٹیچروں کو ٹرینڈ کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن یہ اسکیم بھی دوسری اسکیموںکی طرح ہی بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ گئی۔
معیار سدھارنے کی کوشش
ریاست میںتعلیم کا معیار سدھارنے کے لیے سرکار جتنی کوشش کر رہی ہے، اسی تیزی سے تعلیم کا معیار بھی گرتا جارہا ہے۔ جھارکھنڈ کے 65 فیصد ٹیچر بیسک انگلش میں فیل ہیں۔ 70 فیصد ٹیچروںکو ٹینس کی بھی جانکاری نہیں ہے جبکہ 50 فیصد ٹیچر ناؤن اور پروناؤن کے باے میںنہیںجانتے ۔ ریاست کے 45 فیصد ٹیچر انگریزی کا پورا جملہ روانی سے نہیںبول پاتے ہیں۔ 40 فیصد ٹیچروں کو یہ بھی معلوم نہیںہے کہ انگریزی کے جملوںمیںفل اسٹاپ کہاں لگتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر سال ہر تیسرا طالب علم انگریزی میںفیل ہو جاتا ہے۔ یہ خلاصہ ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کی ایفیشنسی پروموشن رپورٹ 2018 میںہوا ہے۔ سروے میںپرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے زیادہ تر ٹیچر بیسک نالج میںپھسڈی نکلے۔ میتھس اور سائنس میںبھی ٹیچروںکے پاس جانکاری بہت کم تھی۔ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ ہر سال رزلٹ خراب ہوتا جارہا ہے۔ سرکاری اسکولوںمیںپڑھنے والے بچے تعلیم کے معاملے میںکمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا اثر آگے کی پڑھائی کے دوران بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
اس بار تو میٹرک کا جو رزلٹ نکلا،اس میں50 فیصد بچے ہی پاس ہوئے ہیں۔ 41فیصد بچے فیل ہوئے گئے۔ قصور کس کا؟ بچے پڑھتے نہیںہیں یا کیا ٹیچر پڑھاتے نہیں ہیں یا کیا بچے محنت کرتے ہیں لیکن سسٹم ہی پورا خراب ہے۔ اس سال تو 15 برسوںکا سب سے خراب رزلٹ رہا۔ 40 فیصد سے بھی زیادہ بچے فیل ہوگئے۔ ریاست کے 390 ہائی اسکول تو ایسے ہیں جہاں دس سے کم بچے میٹرک کے امتحان میںپاس ہوسکے۔
ایک طرح سے کہا جائے تو ریاست کے تعلیمی نظام میں پیسے تو خرچ ہورہے ہیں لیکن نتیجہ وہی صفر ہے۔ سرکاری اسکولوں کی حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکاری تعلیم کا معیار سدھر پاتا ہے یا سرکاری تعلیم بھگوان بھروسے ہی رہے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *