’اناتھ آشرم‘ سے 8لڑکیوں اور12لڑکوں کوآزادکرایاگیا،پادری پرجنسی زیادتی کاالزام

ashram
قانونی یاغیرقانونی طورپر چل رہے شیلٹرہوم میں جنسی زیادتی کا معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہاہے۔بہارکے مظفرشیلٹرہوم ریپ کیس اوریوپی کے دریاپورمیں ہوم شیلٹرکا معاملہ ابھی ٹھنڈابھی نہیں ہواہے کہ اب ایک اورتازہ معاملہ سامنے آیاہے۔جموں وکشمیر کے کٹھوعہ میں ضلع انتظامیہ نے غیرقانونی طورپرچل رہے ’اناتھ آشرم(یتیم خانہ) پرچھاپے ماری کرکے وہاں قید20بچوں کوازادکرایاہے۔آزادکرائے گئے بچوں میں 8لڑکیاں بھی شامل ہیں اورمعاملے کی جانچ کررہی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، جموں کے کٹھوعہ ضلع کے وارڈ نمبر14میں غیرقانونی طورپر چل رہے مکان نما ’اناتھ آشرم ‘ پرپولس اورانتظامیہ کی مشترکہ ٹیم نے چھاپے ماری کی۔ پولس کی ٹیم اس آشرم میں رہ رہے بچوں کوچھڑایا۔آپ کوبتادیں کہ اناتھ آشرم میں رہ رہے بچوں نے پولس سے ان کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی شکایت کی تھی۔ شکایت کی بنیادپر معاملے کی جانچ کرنے پہنچی کٹھوعہ کے اسسٹنٹ کمشنرریوینو اکے قیادت والی ٹیم ورپولس کی ٹیم چھاپے ماری کی۔اس دوران جب ٹیم نے آشرم مالک فادرانتھونی سے دستاویزدکھانے کوکہاتووہ کسی طرح کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کرپائے ۔اس کے بعد پولس فادرپرکارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، آشرم سے آزادکرائے گئے بچوں میں 12لڑکے اور8لڑکیاں شامل ہیں۔ان میں سے 7سے 16سال کی 8بچیوں کوناری نکیتن اور12لڑکوں کوبال آشرم میں شفٹ کردیاگیاہے۔جانکاری کے مطابق، آزادکرائے گئے بچوں نے پادری پرجنسی زیادتی جیسے سنگین الزام لگائے ہیں۔ بتایاجارہاہے کہ سبھی بچے غریب خاندانوں سے ہیں اورپنجاب ، ہماچل پردیش، جموں وکشمیرکے مختلف علاقوں سے آکرکٹھوعہ کی اس عمارت میں رہ رہے تھے۔بہرکیف پولس معاملے کی جانچ کررہی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *