پاکستان میں خواتین کی کم ووٹنگ کا معاملہ الیکشن کمیشن کا حوصلہ مند فیصلہ

پاکستان میں عمران خان کی قیادت میں ملک میں نئی تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے۔اس تبدیلی میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ۔یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔کیونکہ ان کے سامنے جو چیلنجز ہیں ان پر’’ چوتھی دنیا‘‘ تفصیل کے ساتھ اپنے سابقہ شمارہ میں لکھ چکا ہے اور یہ بتا چکا ہے کہ یہ تمام چیلنچز پاکستان کی سیاسی صورت حال کے مد نظر انتہائی پیچیدہ ہیں۔ البتہ پاکستان کے الیکشن کمیشن نے 25 جولائی کو ہوئے عام انتخابات کے تعلق سے جو ایک فیصلہ کیا ہے،یہ بہت ہی اہم اور تاریخی ہے ۔خاص طور پر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جہاں عورتوں کے لئے ووٹ ڈلنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 23 میں خواتین کے دس فیصد سے کم ووٹ کاسٹ ہونے پر اس حلقے میں ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ملکی تاریخ میں یہ دوسری دفعہ ہوا ہے کہ کسی بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کے حلقے میں خواتین کے دس فیصد سے کم ووٹ کاسٹ ہونے یا خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر ان انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان حلقوں میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے لوئر دیر میں 2013 میں ہونے والے انتخابات میں دوبارہ ووٹ کروائے گئے تھے۔لیکن اس وقت کا سچویشن اب سے کچھ الگ تھا۔تب خواتین کو ووٹ ڈالنے سے زبردستی روکنے پر اس علاقے میں الیکشن کو منسوخ کیا گیا تھا۔لیکن اس مرتبہ کم ووٹ فیصد کی وجہ سے منسوخ کرنا یقینا ایک اچھا قدم ہے۔

 

 

 

صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 23 شانگلہ سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شوکت یوسف زئی کامیاب قرار پائے تھے۔ شوکت یوسف زئی سابق حکومت میں صوبائی وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں۔درخواست گزار ولی خان کی طرف سے اس سے متعلق الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے حلقے میں خواتین کے ووٹوں کی تعداد دس فیصد سے کم ہے۔
اس درخواست کی سماعت چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے کی۔اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ولی خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ شانگلہ کے اس حلقے میں بہت سے پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں ایک خاتون نے بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔اْنھوں نے کہا کہ 25 جولائی کو ملک بھر سمیت اس حلقے میں ہونے والے انتخابات کے دوران جرگے کے ذریعے اعلان بھی کروایا گیا کہ کوئی خاتون ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔سماعت کے دوران ویڈیو فوٹیج بھی کمیشن کے سامنے پیش کی گئی جس میں منعقدہ جرگے میں اعلان کیے جارہے ہیں کہ کوئی خاتون ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں جائے گی۔شواہد اور دلائل کو سننے کے بعد کمیشن نے اس حلقے میں ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا۔

 

 

 

واضح رہے کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر کسی حلقے میں خواتین کی طرف سے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد دس فیصد سے کم ہو تو اس حلقے میں دوبارہ انتخابات کروائے جائیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ شانگلہ میں دوبارہ انتخابات کروانا بہت مشکل ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اْنھوں نے کہا کہ اگر خواتین کے ووٹوں کی تعداد دس فیصد سے کم تھی تو الیکشن کمیشن کو چاہیے تھا کہ خواتین کے ووٹ دوبارہ ڈالنے کے احکامات جاری کرتا۔اْنھوں نے کہا کہ اس حلقے میں دوبارہ انتخاب ہونے سے پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہو گا۔
عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسراقتدار پارٹی کا امیدوار جیت رہا ہو تو ایسی صورت میں الیکشن کمیشن کیا،تمام محکمہ جات اس پارٹی کے امیدواروں کے خلاف کوئی فیصلہ لیتے ہوئے ڈرتا ہے۔خاص طور پر پاکستان میں تو تمام محکمے ہی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ایسے میں الیکشن کمیشن کا اتنا بڑا فیصلہ لینا یقینا قابل تعریف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں عمران خاں اسی طرح انصاف پر مبنی فیصلے کرتے رہیں گے یا دھیرے دھیرے پاکستانی سیاست کی پرانی ڈگر پر چل پڑیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *