کیا ممتا پولرائزیشن کی سیاست کا مقابلہ کرپائیںگی!

اب 2019لوک سبھا انتخابات کو دس مہینے سے بھی کم کا وقفہ رہ گیا ہے ۔پرانے ساتھی ساتھ چھوڑ رہے ہیں تو نئے اتحاد ی بن رہے ہیں اور مودی کے مقابلے نئے اتحادی سامنے آرہے ہیں ۔ترنمول کانگریس کی سربراہ اور بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی گزشتہ دو سالوں سے بی جے پی کے خلاف فیڈرل فرنٹ کی پرزور وکالت کرتی ہوئی آرہی ہیں۔بیجو جنتادل، جنتادل ایس، سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی ، ڈی ایم کے اور راشٹریہ تلنگانہ جیسی علاقائی جماعتوں کے ساتھ مل کر وہ فیڈرل فرنٹ بنانا چاہتی ہیں ۔ 21جولائی کو ترنمول کانگریس ہر سال سابقہ بایاں محاذ کے دور حکومت میں 1993میں یوتھ کانگریس کی ریلی جس کی قیادت ممتا بنرجی کررہی تھیں پر پولس فائرنگ میں مرنے والے 13 کانگریسی کارکنان کی یاد میںایک بڑی ریلی کا انعقاد کرتی ہے ۔لوک سبھا انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس کی یہ ایک بڑی ریلی تھی ، چناں چہ عوامی مقبولیت کا مظاہرہ کرنے کے اعتبار سے یہ بہت ہی اہم تھا۔ اس کیلئے پارٹی نے پوری قوت صرف کردی تھی اور کم وبیش 7سے8لاکھ افراد کو جمع کرنے میں پارٹی کامیاب بھی رہی ۔
اس ریلی کے ذریعہ ممتا بنرجی پارٹی ورکروں میں لوک سبھا انتخابات کیلئے جوش و خروش بھرنے کے ساتھ ایک طرف وہ بی جے پی کا مقابلہ کرنے کیلئے پرعزم نظرآئی اور 15اگست سے ’’بی جے پی ہٹائو ملک بچائو‘‘ کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی اس عزم کو بھی دہرایا کہ بنگال سے بی جے پی سمیت دیگر پارٹیاں جس میں کانگریس اور بایاں محاذ شامل ہیں کو 2019میں ایک بھی لوک سبھا سیٹ پر کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔دوسری طرف ممتا بنرجی نے ماب لنچنگ اور ہندتو پالیسیوںکے حوالے بی جے پی کی سخت تنقید کرتے ہوئے اپنے تیور بھی دکھا ئے اور بی جے پی پر ملک میں ’’ہندو طالبانی‘‘ نظام کو نافذ کرنے کا الزام بھی عاید کیا مگر اسی کے ساتھ ہی انہوں نے ’’بجرنگ بلی کی جے‘‘، ’’جے درگا ماتا‘‘،’’ شنکر بھگوان کی جے‘‘ ،‘‘ بھارت ماتا کی جے ‘‘جیسے خالص مذہبی نعرے لگاکر نرم ہندتو کی راہ اپنانے کی کوشش بھی کی ۔مگر حیرت انگیز طور پر ریاست کی 28فیصد مسلم آبادی کے مسائل اور ان کے ایشوز ممتا بنرجی کی تقریر سے غائب تھے۔2011میں اقتدار میں آنے کے بعد ممتا بنرجی کی بیشتر تقریروں میں مسلمانوں کی فلاح و بہود کا ایشو ضرور ہوتا تھا مگر 2014پارلیمانی انتخابات میں بنگال میں غیر متوقع طور پر بی جے پی کے ووٹ فیصد میں اچانک اضافہ اور بنگال کے سیاسی منظر نامہ سے 34سال تک اقتدار میں رہنے والی بایاں محاذ حکومت اور کانگریس کے غائب ہونے کے بعد سے ہی ممتا بنرجی کی ترجیحات سے مسلمان غائب ہوتے جارہے ہیں ، اب انہیں یقین ہوچکا ہے بی جے پی کے عروج کے خوف سے مسلم ووٹ ان کے علاوہ کسی اور جھولی میں نہیں جاسکتا ہے۔ چو نکہ ریاست سے بایاں محاذ اور کانگریس کا وجود ختم ہونے کے قریب ہے اور اب مسلمانوں کے پاس صرف ایک آپشن ترنمول کانگریس ہی رہ گیا ہے ۔؟ہندوستان کی سیکولر جماعتوں کا ایک چہرہ یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے ناگزیر بننے کی کوشش کرتی رہی ہیں ۔وہ ہرحال میں مسلم ووٹ چاہتے ہیں مگر ان کے ایجنڈے میں مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہود شامل نہیں ہوتا ہے۔بنگال میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ در اصل سیکولرازم اور سیکولر نواز سیاست دانوں کے دوسر ے رخ کی عکاسی کرتی ہے۔

 

 

 

سب سے بڑا سوال
مگرسوال یہ ہے کہ کیا ممتا بنرجی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کو روک پائیں گی؟ اور اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ نرم ہندتوکے ذریعہ پولرائزیشن کا مقابلہ کرنا چاہتی ہیں ؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ حالیہ برسوں ریاست میں بی جے پی کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔پنچایت انتخابات میں بی جے پی ایک بڑی طاقت بن کر ابھری ہے ۔دوسری طرف ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول بھی خراب ہوا ہے ۔ان حالات میں یہ سوال اٹھنالازمی ہے کہ ممتا بنرجی 2014والی کامیابی کو دہراپائیں گی یا نہیں ؟ ممتا بنرجی اب قومی سیاست میں اپنی حصہ داری میں اضافہ کرنے کی خواہش مند ہیں اور اس کیلئے وہ مسلسل کوشش بھی کررہی ہیں ۔کانگریس کے ایک حلقے کی جانب سے 2019میں بی جے پی اور مودی کو روکنے کیلئے ممتا بنرجی یا پھر مایاوتی کو آگے لانے کی بات بھی کہی جارہی ہے تاہم ابھی یہ شروعاتی پیش کش ہے ۔سیاست امکانات کا کھیل ہے لہٰذا کچھ بھی ہوسکتاہے ۔تاہم بی جے پی ممتا بنرجی کو بنگال میں جو چیلنج پیش کررہی ہے اس سے نمٹنا ممتا بنرجی کیلئے اتنا آسان نظر نہیں آرہا ہے ۔ان حالات کیلئے خود ممتا بنرجی بھی کسی درجے میں ذمہ دار ہیں ۔بی جے پی نے بڑی حکمت عملی سے ریاست کے ان اضلاع پر زیادہ توجہ دی ہے جہاں مسلم ووٹ کی شرح 10فیصد سے بھی کم ہیں ۔آر ایس ایس ، بجرنگ دل اور وشوہند وپریشد کے لاکھوں کارکنان ان اضلاع میں بی جے پی کیلئے کام بھی کررہے ہیں ۔پرولیا، جھاڑ گرام، مغربی مدنی پور، علی پور دوار، جلپائی گوڑی، کوچ بہار اور جنوبی دیناج پور ایسے اضلاع ہیں جہاں مسلم آبادی بہت ہی کم ہے ۔ان اضلاع میں مسلم ووٹ کچھ زیادہ اہم نہیں ہیں ۔جب کہ دارجلنگ اور آسنسول جہاں غیر بنگالی ووٹرس کی تعداد زیادہ ہے یہ دونوں حلقے پہلے سے ہی بی جے پی کے قبضے میں ہیں ۔حال ہی میں ہوئے پنچایت انتخابات کے نتائج اس کے ثبوت ہیں ۔ان اضلاع میں بی جے پی نے اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے ۔

 

 

 

 

 

ممتا کا 7 سالہ دور
ممتا بنرجی کے 7سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کی سیاسی و سماجی اور معاشرتی حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے تاہم وہ اپنے دور اقتدار میں ’’مسلمانوں کی منھ بھرائی‘‘ کی جو سیاست کی ہے اس کا نقصان نہ ریاست کی سیکولر سیاست کو ہوا ہے بلکہ مسلمانوں کو بھی ہوا ہے ۔ ائمہ مساجدا ور موذنین کو تنخواہ دینے ، مسلمانوں کیلئے سپر مارکیٹ بنانے اور مسلمانوں کیلئے علاحدہ میڈیکل کالج بنانے جیسے اعلانات نے آر ایس ایس اور بی جے پی کیلئے پولرائزیشن کی سیاست کیلئے بڑا ہتھیار ثابت ہوا اور آسانی سے ہندو اکثریتی آبادی کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوگئی کہ ’’کہ ممتا صرف مسلمانوں کیلئے کام کرتی ہیں‘‘۔اس پروپیگنڈے کو اس منظم اور زوردار انداز میں کیا گیا کہ قومی میڈیا بھی اس جعل میں پھنس گئی۔گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی بڑے انگریزی اخبارات نے اپنے ادارتی صفحات ایسے کئی مضامین شایع کیے ہیں جس میں اس پروپیگنڈے کو بڑا بناکر پیش کیا گیا ہے ۔ ہندوستان ٹائمس نے ایک سال قبل ہوئے بشیر ہاٹ فرقہ وارانہ فسادات کے فوراً بعد اپنے اداریہ میں لکھا تھا کہ ممتا بنرجی کے مسلم نواز پالیسوں کی وجہ سے بنگال میں جرائم و کرائم کے واقعات میں اضافے ہوئے ہیں ۔اس اداریہ میں یہاں تک لکھ دیا گیا تھا ممتا بنرجی کی نرم پالیسیوں کی وجہ سے حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش سے دراندازی کے واقعات بڑھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے وہ اس کی جانچ کراسکتی تھی ۔چونکہ یہ پروپیگنڈے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اس لیے اب تک اس معاملے کی جانچ نہیں ہوسکی ۔دو سال قبل ممبئی ، احمد آباد اور دیگر بڑے شہروں سے شایع ہونے والے انگریزی اخبار ’’ڈی این اے‘‘ میں شایع ایک مضمون میں دعویٰ کیا گیا تھاکہ پہلے کلکتہ کے بعض علاقے ہندئوں کیلئے’ نوگوزون ‘میں تھے مگر اب مکمل کلکتہ نوگوزون میں تبدیل ہورہا ہے ۔جہاں تک بات ہندی نیوز چینلوں کی بات ہے کہ وہ مسلسل پروپیگنڈے میں مشغول ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ممتا بنرجی ان چیلنجوں سے کس طرح نمٹتی ہیں ؟ کیا نرم ہندتو کا نسخہ کارگر ہوگا یا نہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتاپائے گا۔مگر بنگال کی موجودہ سیاسی منظرنامے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ 28فیصد سے زاید ووٹ ہونے کے باوجود مغربی بنگال کے مسلمان حاشیہ پر جارہے ہیں ۔ان کے مسائل اور ایشوز پر کوئی نہیں بولنے والا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *