شعبۂ امراضِ اطفال کے زیرِ اہتمام منعقدہ’ ’عالمی شیرِ مادر ہفتہ ‘‘ کی اختتامی تقریب کا انعقاد

Prof-Hamida-Tariq
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبۂ امراضِ اطفال کے زیرِ اہتمام’’ عالمی شیرِ مادر ہفتہ ‘‘کے تحت مختلف پروگرام منعقد کئے گئے جن کا مقصد شیرِ مادر سے متعلق مختلف اہم نکات کے تئیں بیداری پیدا کرنا تھا۔مذکورہ پروگراموں کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی معروف ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر حمیدہ طارق نے کہا کہ کیونکہ شیرِ مادر سے بچوں کومکمل غذا کے ساتھ ہی بد غذائیت سے تحفظ حاصل ہوتا ہے اس لئے یہ موضوع ان کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں میں زندگی کے امکانات کو فروغ دینے اور قلیل عمر میں انہیں مختلف امراض سے تحفظ دینے میں شیرِ مادر اہم رول ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بچے کو پیدا کرنے والی ماؤں کو بھی کئی امراض سے نجات ملتی ہے۔
میڈیسن فیکلٹی کے ڈین اور جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل و سی ایم ایس پروفیسر ایس سی شرمانے اپنے خطاب میں شیرِ مادر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ بچوں کو امراض سے تحفظ اور زندگی کے امکانات کو فروغ دینے کا سب سے قدرتی اور کم خرچ والا وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیرِ مادر ہر بچہ کا پیدائشی حق ہے اور یہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اس سے متعلق معلومار اور بیداری کے لئے کام کریں۔
شعبۂ امراضِ اطفال کی سربراہ پروفیسر فرزانہ کے بیگ نے ہفتہ بھر چلے بیداری پروگراموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں صرف44فیصد خواتین نومولود کے پیدا ہونے کے ایک گھنٹہ کے اندر اسے دودھ پلادیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر مائیں بازار میں دستیاب دودھ پر ہی انحصار کرتی ہیں جبکہ یہ غلط ہے اور شیرِ مادر سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر پروگرام چلائے جانے کی سخت ضرورت ہے۔انڈین اکیڈمی آف پیڈیا ٹرکس علی گڑھ برانچ کے صدر ڈاکٹر سنجیو کمار نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شعبہ کے پرودفیسر سید مناظر علی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا جبکہ ڈاکٹر ایمان نعیم نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
اس موقع پر پروفیسر حارث ایم خاں( میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، جے این میڈیکل کالج) ڈاکٹر لونیش ایم اگروال( سکریٹری آئی اے پی، علی گڑھ) ڈاکٹر انوپ کمار( ٹریژرار آئی اے پی، علی گڑھ) پروفیسر تمکین ربانی، پروفیسر کامران افضل، ڈاکٹر عائشہ احمد اور ڈاکٹراراج عالم خصوصی طور پر موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *