ایران پر امریکی پابندی: ہندوستان بھی ہوسکتا ہے متاثر

ایران پر امریکی پابندیوں کا پہلا مرحلہ 6اگست کو شروع ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے ان کے اثرات ہندوستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ کیونکہ عراق اور سعودی عرب کے بعد ہندوستان کو تیل فروخت کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ایران ہی ہے۔گذشتہ ہفتے ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ہندوستان کی سرکاری تیل کمپنیوں نے جولائی میں ایران سے بہت زیادہ تیل کی خریداری کی ہے۔لیکن نومبر میں جب ایران پر امریکی پابندیوں کا دوسرا دور شروع ہوگا تو یہ سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا۔ ہندوستان کو خام تیل فراہم کرنے والے چار بڑے ممالک میں ایران، عراق، سعودی عرب اور وینزویلا ہیں۔
اب تک ہندوستان نے ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات کے تدارک کے لیے کچھ انتظامات کر رکھے تھے۔ مثال کے طور پر ہندوستان نے ڈالر کے بجائے ریال-روپے کا معاہدہ کر رکھا تھا جس کے تحت تیل کی قیمت روپے میں ادا کی جاسکتی تھی۔اس کے علاوہ بارٹر سسٹم یعنی جنس کے بدلے جنس کے نظام پر عمل درآمد ہو رہا تھا اور اس کے تحت بعض اجناس کے بدلے ہندوستان ایران سے خام تیل لیتا تھا۔یہ انتظام اب بھی قائم ہے لیکن امریکی پابندیوں کے مکمل نفاذ کے بعد یہ غیر مؤثر ہو جائے گا۔ ہندوستان کے لیے اصل پریشانی نومبر سے شروع ہونے والی ہے۔
امریکی پابندیوں کے دو مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ6 اگست کو شروع ہوا ہے جب نہ ڈالر سے ریال خریدا جا سکے گا اور نہ ہی ریال سے ڈالر۔دوسرے مرحلے یعنی نومبر سے خام تیل لے جانے والے امریکی ٹینکروں کا استعمال مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔زیادہ تر نجی کمپنیوں نے ایران سے تیل کی درآمد کم کردی ہے اور جو سرکاری کمپنیاں ہیں، جن کے پرانے معاہدے ہیں وہ اسے فوری طور پر پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 

 

 

اسی لیے جون اور جولائی کے دوران ایران سے بہت سارے خام تیل ہندوستان لائے گئے۔یہاں تک صورت حال درست ہے لیکن ہندوستان نومبر سے ایران سے تیل لینے کے قابل نہیں ہوگا کیونکہ امریکی ٹینکروں کا استعمال بند ہو جائے گا۔دوسرے بین الاقوامی تجارت کی اہم ری
اشیورینس پالیسی قابل عمل نہیں ہوگی کیونکہ اسے بھی امریکی کمپنیاں فراہم کرتی ہیں۔ لہٰذا ہندوستان کے لیے خام تیل کا ایک ذریعہ بند ہو جائے گا۔اس صورت میں ہندوستان کا دوسرا وسیلہ وینزویلا ہو سکتا ہے، لیکن خبر یہ ہے کہ ان کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان کو خام تیل کی فراہمی متاثر ہوگی اور ہندوستان کو متبادل تلاش کرنا ہوگا۔
ابھی تک ہندوستان کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر صورت حال یہی رہی تو نومبر کے بعدپریشانیاں ہوں گی۔اس سے بچنے کا ایک راستہ ہے۔ ہندوستان کو اگر امریکہ یہ رعایت دے کہ وہ ایران سے خام تیل لے سکتے ہیں اور اس کی ادائیگی یورو یا دوسری کرنسیوں میں کر سکتے ہیں تو اس سے راہ آسان ہو جائے گی۔ لیکن ابھی تک امریکہ کا رویہ نرم ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ایسی صورت حال میں ہم امید رکھتے ہیں کہ تمام پابندیوں کے بعد امریکہ ہندوستان کو اپنے ٹینکروں کے ذریعہ نومبر سے ایران سے تیل لانے کی اجازت دے گا لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ ہندوستان اور ایران کے درمیان باہمی تعلقات ایک مختلف پہلو ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران سے کوئی سامان ہندوستان کے لیے روانہ کیا جائے اور وہ اپنی منزل پر نہ پہنچے تو اس میں دو طرفہ تعلقات کیا کر سکتے ہیں۔دو طرفہ تعلقات اپنی جگہ ہیں لیکن بیچ کا وسیلہ ہی ٹوٹ جائے تو پھر تجارت کیسے ہوگی؟
اب سوال یہ ہے کہ اگر ڈالر میں تجارت ہو تو کیا ہندوستان کو اس کا فائدہ ہوگا؟بین الاقوامی تجارت میں زیادہ تر ادائیگی ڈالر میں ہوتی ہے اور ڈالر کو زیادہ قبولیت حاصل ہے۔اس لیے اگر ڈالر میں کاروبار جاری رہتا ہے تو ہندوستان کو زیادہ آسانی ہوگی۔ لیکن اگر بیچ کا لنک ہی ٹوٹ جائے تو پھر تجارت کس طرح ہو سکتی ہے۔ معاملہ پیچیدہ نظر آتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *