امریکہ – ایران کی لفظی جنگ عالمی معیشت کو متاثر کرے گی

جب سے امریکہ نے ایرانی جوہری معاہدے کو ہولناک قرار دیتے ہوئے ختم کیا ہے تب سے ایران اور امریکہ کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے اور یہ جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔اس معاہدے کو ختم کرنے پر ناراض ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کو انتباہ دیا ہے کہ وہ شیر کی دم سے نہ کھیلے ۔کیونکہ اگر امریکی صدر اپنی ضد پر اڑے رہے اور جنگ جاری رکھا تو یہ جنگ تمام جنگوں کی ماں ہوں گی۔ایرانی صدر کے اس دھمکی کا جواب امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹر پر دیا ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر ایران نے اب امریکہ کو دھمکی دی تو اسے اس کا وہ خمیازہ بھگتنا پڑے گا جس کی تاریخ میں نظیر مشکل سے ہی ملتی ہے۔صدر روحانی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اب کبھی دوبارہ مت دھمکانا ۔ورنہ وہ نتائج بھگتنا پڑیں گے جن کا سامنا تاریخ میں چند ہی کو ہوا ہے۔ ہم اب وہ ملک نہیں جو تمہاری پرتشدد اور موت کی بکواس سنیں۔ خبردار رہو۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے بیچ جنگ کس نوعیت کی ہوسکتی ہے؟ ایران کے خلاف اقتصادی جنگ تو جاری ہے اور یوروپین ممالک کے علاوہ اب ہندوستان اور چین کے اوپر بھی دبائو بنایا جارہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات خاص طور پرتیل کی خریداری کو روک دے۔ اس کے علاوہ اندرون ملک خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرکے بھی اس جنگ کو ہوا دی جاسکتی ہے۔اس کا اشارہ اس بات سے مل رہا ہے کہ ایران میں کچھ ماہ قبل مہنگائی کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے تھے جن میں تشدد کے واقعات بھی دیکھنے کو ملے اور اب اقتصادی ناکہ بندی کو لے کر ایران کے لوگوں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے ۔ وہ اپنی حکومت سے اقتصادی پابندی سے بچنے کے لئے وسائل اپنانے پردبائو ڈال رہے ہیں۔

 

 

 

ایرانی حکومت اس بات کو محسوس کررہی ہے کہ یہ سب کچھ امریکی شہہ پر ہورہا ہے اور اسی لئے ایرانی صدر نے امریکی صدر کو انتباہ کی شکل میں خبردار کرتے ہوئے ایرانی ٹیلی ویژن پر ایک بیان جاری کیا اور اس بیان میںاپنے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے جنگ کااعلان کیا اور بعد ازاں آپ ایرانی عوام کی تائید کااظہار کرناچاہتے ہیں۔ لیکن اس بات کو یاد رکھئے کہ آپ کسی بھی طریقے سے ایرانی عوام کو خود ان کی سیکورٹی اور مفادات کے خلاف نہیں اکسا سکتے ہیں۔
لگے ہاتھوں ایرانی صدر نے امریکہ کو یہ بھی دھمکی دے دی کہ’ اگر اس نے ایران کو زیادہ پریشان کیا اور جنگی صورت حال پید اکی تو ایسی صورت میں ایران بحری گزرگاہ ابنائے ہرمز کو مسدود کرسکتاہے جو بین الاقوامی تیل کی رسدات کے لیے ایک اہم جہاز رانی راہ داری ہے۔ اگر ایسا ہوتو یہ ایک افسوسناک عمل ہوگا اور اس کی ذمہ داری امریکہ پر ہوگی‘۔ظاہر ہے کہ اگر ایران نے ابنائے ہرمز کو بند کردیا تو اس سے پوری دنیا کی تجارت پر منفی اثر پڑے گا کیونکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس سے دنیا کے تمام بحری جہاز گزرتے ہیں اور ملکوں کے باہمی تجارتی رابطوں کو جوڑتے ہیں۔
غالباً اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روحانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران کے ساتھ امن و امان ہوتو یہ بات سب کے لیے بہتر ہوگی اور اس کے ساتھ جنگ تمام جنگوںسے بڑی جنگ ہوگی۔ دراصل ایران کی ناراضگی امریکہ سے اس بات پر ہے کہ وہ ایران کے خلاف معاشی تحدیدات کو زیادہ سے زیادہ سخت کرنے کے لئے مسلسل کوشش جاری رکھے ہوا ہے ۔ایران کے ان دوست ممالک پر بھی دبائو بنا رہا ہے جو اس کے تیل کو بڑی مقدار میں خرید رہے ہیں۔ ان ملکوں میں چین اور ہندوستان شامل ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ ایران میں اجتماعی پروپیگنڈہ کی کوششوں کا آغاز بھی کردیاہے جن میں سماجی میڈیا مہمات شامل ہیں جس کامقصد عوامی بے چینی میں اضافہ کرناہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی یوروپ کے کسی ملک نے ایران کے ساتھ سمجھوتہ کی کوشش کی تب وہائٹ ہاوس نے اختلاف پیدا کیا۔ امریکہ کایہ عمل بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے جس میں کسی بھی ملک کو تجارتی معاہدے کو توڑنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتاہے۔ ایرانی صدر روحانی نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ایران کے ساتھ امن امریکہ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

 

 

 

 

روحانی کا یہ بیان اس معنی میں بہت اہم ہوجاتا ہے کہ ان کا یہ بیان ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس بیان سے صرف ایک روز بعد آیا ہے، جس میں انہوں نے صدر روحانی کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ اگر ایرانی برآمدات کو روکنے کی کوشش کی گئی تو ایران خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل کو روک سکتا ہے۔ سپریم لیڈر کی اس تائید سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ایران کے لیڈروں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر اس پر اقتصادی ناکہ بندی کی جاتی ہے تو پھر ایران بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سبق سکھانے کے لئے ابنائے ہرمز کی راہ بند کرکے سب کو سبق سکھائے گا۔ بہر کیف فی الوقت یہ بحری راستہ بند تو نہیں کیا گیا ہے لیکن جو صورت حال بنی ہوئی ہے ،اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا کو ایک بڑی جنگ کا جلد ہی سامنا کرنا پڑے گا اور یہ جنگ اسلحوں کے بجائے اقتصادیات کو بنیاد بنا کر لڑی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *