روہنگیا قتل عام معاملے پرامریکہ نے کہا! ’اقوام متحدہ کی تفتیش سے میانمار کے خلاف ثبوت ملے‘

rohingya
امریکہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی روہنگیا معاملے کی تفتیش کے نتائج سے میانمار کے خلاف ثبوت ملے ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی کارروائی پر کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ گذشتہ روزجاری کر دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اعلی ترین فوجی افسران سے ’روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی‘اور ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے حوالے سے تفتیش کی جانی چاہیے۔
امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا’’اقوام متحدہ کی تحقیقات آگے بڑھنے سے میانمار کے روہنگیا کے خلاف مظالم کے ثبوت بے نقاب ہوئے ہیں۔امریکہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ روہنگیاؤں کی ہلاکتیں اور انسانیت کے خلاف جرائم دستیاب حقائق کے تجزیہ کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا یا نہیں‘‘۔
اقوام متحدہ نے پیر کو اپنی تفتیش کو عام کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے انسپکٹرز نے کہا کہ میانمار کی فوج نے ‘نسل کشی کی نیت’ سے روہنگیاؤں کا قتل اور ان کے خواتین کے ساتھ عصمت دری کی۔ ان سنگین جرائم کے لئے میانمار کے کمانڈر ان چیف اور پانچوں جرنیلوں کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ 100 سے زائد تفصیلی انٹرویوز پر مبنی ہے اور عالمی ادارے کی جانب سے میانمار کے حکام کے خلاف اب تک روہنگیا مسلمانوں کے معاملے میں کی گئی سب سے سخت تنقید ہے۔رپورٹ میں میانمار کی فوج کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی جنگی حکمت عملی ‘مستقل طور پر سیکورٹی خدشات سے غیر متناسب حد تک بڑھ کر جارحانہ تھی۔’ اس رپورٹ میں فوج کے چھ اعلی افسران کے نام دیے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان پر مقدمہ چلنا چاہیے۔
بی بی سی کے مطابق،اس رپورٹ میں امن کا نوبل انعام جیتنے والی میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی پر بھی سخت تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے میں ناکام رہیں۔میانمار کی حکومت کی جانب سے مسلسل یہ موقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ فوجی کارروائی شدت پسندوں کے خلاف کی جاتی ہے۔ لیکن اس دعوی کے برعکس اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی تفتیش کے مطابق جو جرائم مرتکب ہوئے ہیں، وہ ‘اس لیے اتنے حیران کن ہیں کہ ان کی بڑے پیمانے پر نفی کی جاتی رہی ہے، ان جرائم کو معمول کی کارروائی سمجھا گیا ہے اور بلادریغ کیا گیا ہے۔’فوجی کارروائیاں، چاہے وہ کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہوں، ایسا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے کہ اندھا دھند لوگوں کو قتل کیا جائے، خواتین کا گینگ ریپ کیا جائے، بچوں پر حملہ کیا جائے یا گاؤں جلائے جائے۔’
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *