ترکی کی معاشی جنگ

کسی بھی ملک میں کرنسی اس کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہوتی ہے۔ یہ مضبوط ہوتو تجارتی وسائل میں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت کو ترقی دینے کی راہیں قدرے آسان ہوجاتی ہیں مگر کسی وجہ سے مار کرنسی پر پڑے تو اقتصادیات پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے۔ اس وقت اسی منفی اقتصادیات کی صورت حال سے ترکی گزر رہا ہے ۔ یہ سب محض اس لئے ہورہا ہے کہ ترکی کے صدر اردگان نے امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا۔
دراصل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ترکی کی سٹیل اور ایلومینیم پر محصول دگنا کر دیا ہے۔اس اضافے کی وجہ سے ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں 20 فیصد کمی واقع ہوگئی ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ لیرا ا ہمارے مضبوط ڈالر کے مقابلے میں کمزور تھا اور یہ کہ اس وقت امریکہ کے ترکی کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔
لیرا کی قدر میں کمی پر ترکی کے صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ یہ کمی اس مہم کا حصہ ہے جس کی قیادت غیر ملکی طاقتیں کر رہی ہیں۔ رد عمل کے طور پر ترکی بھی امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے خلاف قدم اٹھائے گا۔اب جبکہ امریکی صدر نے اپنے فیصلے کو واپس لینے سے صاف طور پر منع کردیا تو رد عمل کے طورپر ترکی کے صدر نے بھی امریکہ کے الیکٹرانک مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے بعد اب وہ امریکی مصنوعات کی درآمدی ٹیکس کو دو گنا کردیا ہے۔اس طرح سے جن اشیا ء پر براہ اثر اثر پڑے گا ان میں امریکی کاروں پر 120فیصد، الکوحل پر 140 فیصد اور تمباکو پر 60 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا

 

 

 

یاد رہے کہ امریکہ اور ترکی نیٹو کے ممبران ہیں اور دونوں میں کئی ایشوز پر اختلافات ہیں۔ مثلاً نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ، انقرہ روس سے میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنا چاہتا ہے اور 2016 میں ناکام بغاوت میں ملوث افراد کو کیسے سزائیں دی جائیں۔ان تمام معاملوں میں امریکہ چاہتا ہے کہ اس کی مرضی شامل رہے جبکہ ترکی اپنے تمام معاملوں خاص طور پر اندرونی معاملوں میں امریکہ کو بالکل الگ تھلگ رکھنا چاہتا ہے ۔
حال ہی میں صدر ٹرمپ نے ترکی کے دو اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان امریکی پادری کی ترکی میں گرفتاری پر رد عمل کے طور پر تھا۔امریکی پادری پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ان اختلافات نے دونوں ملکوں میں دوریاں پیدا کردی ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ نے محصول دوگنا کردیا ۔اس کے نتیجے میں لیرا کی قدر میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گذشتہ ایک سال میں اس کی قدر میں 40 فیصد کمی ہو چکی ہے۔
نئی صورت حال کے پیش نظر صدر رجب طیب اردوگان نے اپنے عوام کو کچھ نصیحتیں کی ہیں کہ وہ غیر ملکی کرنسی اور سونے کو لیرا میں تبدیل کرائیں ۔کیونکہ ترکی اس وقت ’معاشی جنگ‘ سے دو چار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اندرونی اور قومی جدوجہد ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ ممالک کا رویہ ایسا ہے جو بغاوت کرنے والوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ قانون اور انصاف کو نہیں جانتے۔ جن ممالک کا رویہ ایسا ہے،ان کے ساتھ تعلقات کو بچانا مشکل ہو گیا ہے۔اگر ان کے پاس ڈالرز ہیں تو ہمارے پاس ہمارے عوام ہیں، ہمارے پاس اپنا حق ہے اور ہمارے پاس اللہ ہے۔

 

 

 

امریکہ کے اس طرز پر ترکی کی وزارت تجارت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بڑھائے جانے والے ٹیرف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کے خلاف ہے۔لہٰذا ترکی توقع کرتا ہے کہ دیگر ممبر ممالک بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں گے اور امریکہ کو بتائیں گے کہ وہ کہاں پر غلطی کررہا ہے۔بہر کیف صدر اردگان کے اس بیان اور طرز عمل کو وہاںکے عوام پسند کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور وہاں کا اخبار لکھتا ہے کہ ترکی نے بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ البتہ عالمی مارکیٹ میں اس پسندکا کوئی اثر نہیں پڑنے والا ہے اور ترکی کو معاشی استحکام کے لئے کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ہوسکتا ہے کہ صدر اردوگان نئی راہ کی تلاش کے طور پر ارجنٹائن کی طرح بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم سے مدد طلب کر یں یا پھر امریکہ سے تنائو کو کم کرنے کے لئے کوئی موثر قدم اٹھائیں۔
اس سلسلہ میں ترکی کو لگتا ہے کہ اسے اس بحران سے باہر نکالنے میں روس اس کی مدد کرسکتا ہے۔حالانکہ روس کی فی الوقت ایسی پوزیشن نہیں ہے کہ وہ ترکی کو مالی تعاون دے سکے ۔البتہ وہ ترکی اور امریکہ کے درمیان تنائو کو کم کرنے میں کچھ پیش رفت کرسکتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کے تھوڑی دیر بعد صدر اردوگان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی اور دونوں رہنماؤں نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر بات کی۔صدر اردوگان کے دفتر سے جو بیان جاری کیا گیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی اور توانائی کے منصوبوں کے درمیان ترکی اور روس کے رشتے میں مثبت ترقی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *