مسلما نوں میں بھی ہردلعزیز تھے اٹل جی

ہندوستان کے دسویں وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سنگھ پریوار سے وابسطہ ایسے واحد لیڈر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں میں فکرو نظر یہ، پارٹی اور مذہب سے پرے سب سے زیادہ مقبول تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ’سنگھ میری روح ہے ‘ کے ان کے دعویٰ کا ملک کے مسلمانوں پر مجموعی طور پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ مسلمانوں کی پسند بنے رہے اور وہ ان سے توقعات رکھتے رہے۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ وہ اصول پسند اور معتدل بھی تھے۔
بھارتیہ جن سنگھ کی صدارت ہو یابی جے پی کی سربراہی، ایمرجینسی کے زمانے میں جیل کے اندر اور باہر چند مسلم شخصیات اور مسلم لیڈروں سے ربط و ضبط، اپنی وزارت عظمی کے مختلف ادوار میں عام مسلم عوام کے امپاورمنٹ اور ان کے مختلف ایشوز کے بارے میں ان کی سوچ یا کشمیر کے مسئلہ پر ان کی رائے یا پاکستان و دیگر مسلم ممالک سے تعلقات، تمام معاملوں میں عام مسلمان ان کے بارے میں سنگھ کے دیگر لیڈروں سے ہٹ کر الگ رائے رکھتے تھے اور یہ رائے مثبت اور خوش آئند تھی۔
جن سنگھ اور بی جے پی کی صدارت
اٹل جی کیسا ہندو -مسلم تعلقات چاہتے تھے، اس کا اندازہ پہلی مرتبہ راقم الحروف کو اوائل 1968 میں ہوا۔ اوائل 1968 میں بھارتیہ جن سنگھ (بی جے ایس ) کے صدر منتخب ہونے کے چند ماہ بعد یہ ریاست بہار کے جموئی شہر میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرنے آئے تھے۔ یہ جلسہ وہاںکے مقامی ہائرسکنڈری اسکول کے وسیع و عریض گرائونڈ میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر گوسوامی تلسی داس کی جینتی کی مناسبت سے مذکورہ اسکول کے ذریعے کرائے گئے مقابلہ جاتی مضمون بعنوان ’’ رام چرت مانس میں گوسوامی تلسی داس کا سمنوئے واد ‘‘ میں پہلا انعام اور سرٹیفکیٹ 21اگست 1968 کو اٹل جی کے ہاتھوں12ویں کلاس کے ایک مسلم طالب علم کو دلوایا گیا۔ یہ جان کر کہ اس موضوع پر یہ انعام ایک 15سالہ مسلمان کو دیا جارہا ہے، انہوں نے اسے گلے سے لگالیا اور کہا کہ اگر ہمارے سماج میں ایک دوسرے کے مذہب کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کا یہ رجحان اسی طرح بڑھے تو ہندو – مسلم دوری کم ہوگی اور سماج میں ’’ مدھور سمبندھ ‘ بنیں گے۔ اتفاق کی بات ہے کہ راقم الحروف کا یہ ذاتی تجربہ ہے ۔آج بھی اٹل جی کے ساتھ وہ خوش گوار لمحہ ذہن میں پوری طرح محفوظ ہے۔
یہ واقعہ اس لئے بہت اہم ہے کہ اٹل جی نے یہ کلمات آدھی صدی قبل بھارتیہ جن سنگھ کے صدر کے طور پر کہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہندو-مسلم اتحاد کے بڑے علمبردار تھے۔1980 سے 1986 تک یہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے پہلے صدر رہے۔ بی جے ایس اور بی جے پی دونوں کی سربراہی کے دوران ان کا انداز ان کے پیشرئوں پنڈت دین دیال اوپادھیائے اور پروفیسر بلراج مدھوک کے بالمقابل مسلمانوں کے تئیں جارحانہ نہیں رہا۔
جنتا پارٹی کا دور ِ حکومت
ایمرجینسی کے بعد مارچ 1977 میں ہوئے عام انتخابات میں جنتا پارٹی میں بی جے ایس کے ضم ہوجانے پر انہوں نے اس کے تحت ایک ممتاز لیڈر کے طور پر ملک کی مختلف ریاستوں کا دورہ کیا اور انتخابی جلسوں سے خطاب کیا جس میں مسلمانوں نے بھی بلا تفریق مذہب و ملت بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس دوران عمومی طور پر عام مسلمانوں سے ان کا بڑے پیمانہ پر ربط ہوا۔ ان روابط کا اثر یہ ہوا کہ انتخابات میں جنتا پارٹی کی شاندار جیت کے بعد رام لیلا میدان میں جب یہ تاریخی اور عظیم الشان عوامی جلسہ سے خطاب کررہے تھے تب دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید عبد اللہ بخاری وہاں پہنچے اور پھر ان کے حق میں نعرے لگنے لگے۔ اس وقت اٹل جی نے ان نعروں کے درمیان برجستہ کہا کہ ’’ بخاری صاحب آگئے، اب تیرے انگنے میں میرا کیا کام ،میں اب اپنی بات سماپت کرتا ہوں‘‘۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ دراصل اس وقت یہ خوشگوار ماحول بن گیا تھا جو کہ ہندو -مسلم اتحاد کی علامت تھا۔ یہ پروگرام آل انڈیا ریڈیو پر ’ آنکھوں دیکھا حال ‘ میں نشر کیا گیا تھا اور اسے پوری دنیا نے دیکھا تھا۔

 

 

 

 

ہندو پاک تعلقات کے لئے رہے کوشاں
جنتا پارٹی کی حکومت میں یہ وزیر خارجہ بنائے گئے۔ اس دوران انہوں نے خصوصی طور پر پاکستان و دیگر مسلم ممالک سے خوشگوار تعلقات بنائے۔ انہوں نے 1978 میں پاکستان کا بحیثیت وزیر خارجہ پہلا دورہ کیا اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی زمانے میں جنرل ضیاء الحق نے زمام صدارت سنبھالی تھی۔ فروری 1999 میں یہ دوسری بار بحیثیت وزیر اعظم وہاں تشریف لے گئے۔ ان کا یہ دورہ، تاریخی دورہ بس سے لاہور کا ہوا۔ جو لوگ اس تاریخی بس سفر میں ان کے ساتھ تھے، ان کے پرجوش جذبہ کو یاد کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ ان کے ہم عمر مشہور و معروف کالم نویس کلدیپ نیر بھی ان ہم سفروں میں شامل تھے۔ ان دنوں وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپئی نے برصغیر میں ایسی خوشگوار فضا پیدا کردی تھی کہ یہ ہر شخص کی زبان پر تھا مگر ان سب کو کسی کی نظر لگ گئی اور چند ماہ بعد ہی کارگل دراندازی نے پروان چڑھتی اس دوستی کو تباہ و برباد کردیا۔ اس کے بعد 2001 آیا جب آگرہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے صدر پرویز مشرف اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ہندوستان آئے اور ادھر سے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اپنی پوری ٹیم کے ساتھ موجود رہے۔
یہ ایک ایسا موقع تھاجب ہندو پاک کے متعدد صحافی یہاں موجود تھے مگر وہ رات تاریخی بنتے بنتے رہ گئی اور آگرہ چوٹی کانفرنس ناکام ہوگئی۔ پھر پرویز مشرف اس وقت آدھی رات کو اپنے لاہ و لشکر کے ساتھ طیارہ سے اپنے وطن واپس لوٹ گئے۔اسی وقت پاکستانی صحافی بھی واپس لوٹ گئے۔ ان کی واپسی کے بعد جسونت سنگھ نے میڈیا کو جو معاہدہ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کے لئے پانچ ستارہ ہوٹل کے بڑے ہال میں منتظر تھا ،مطلع کیا کہ یہ ملاقات اختلافات کی نذر ہوگئی اور کچھ طے نہیں ہوسکا۔ تب پورے ہال میں سناٹا چھا گیا۔
مگر اٹل جی ماننے والے کہاں تھے؟ناکام آگرہ چوٹی کانفرنس بھی ان کے عزائم کو کہاں توڑنے والی تھی؟ ان کے دل میں امن انگڑائی لیتا رہا۔ 3جنوری 2004 کو یہ 12ویں سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے اسلام آباد پہنچے تو انہوں نے اس موقع پر بھی بگڑے ہوئے تعلقات کو پٹری پر لانے کی حتی الامکان کوشش کی۔ انہوں نے اسی کے مد نظر پاکستان ٹیلی ویژن کو اس وقت دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’ جنرل مشرف پاکستان کے ’ سب سے بڑے لیڈر ‘(Biggest Leader ) ہیں جن سے یہ فروری 1999 میں اپنے لاہور سفر کے وقت سے ربط میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہہندوستان سے امن کے فروغ میں کردار ادا کریں‘‘۔اٹل جی بھلے ہندو پاک کو امن کی مستقل پٹری پر آتے ہوئے نہیں دیکھ سکے مگر یہ اس سلسلے میں مستقل کی گئی اپنی کوششوں کے لئے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔
کشمیر کا مسئلہ
کشمیر ان کا محبوب ایشو تھا۔ بانی ٔ جن سنگھ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے ساتھ ان کے آخری ایام میں کشمیر کے سفر پر یہ ساتھ تھے اور دھرنے میں بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر مکھرجی کے انتقال کے وقت یہ وہیں تھے۔ کشمیرمسئلہ پر جن سنگھ اور بی جے پی کی رائے کے باوجود یہ اس کے حل کے لئے اپنے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ منتر کے لئے ہمیشہ یاد کئے جاتے رہیں گے۔ توقع ہے کہ مستقبل میں کشمیر مسئلہ پر حل کی جو بھی بات چیت، جب کبھی ہوگی، اس کا محور اٹل جی کا یہی منتر ہوگا۔
اٹل جی صرف ہندو پاک یعنی بر صغیر میں ایک دوسرے ملک کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے کوشاں نہیں رہے بلکہ سارک ممالک اور ناوابستہ ممالک (NAM) کی تحریکات کو بھی تقویت پہنچانے میں پیش پیش رہے۔
یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ ملک میں ایمرجینسی تک ہندوستان کے شہریوں کا پاسپورٹ بہت بڑا مسئلہ ہوا کرتا تھا۔ ملک میں اس کے ریجنل دفاتر بھی کم تھے اور ضابطہ بھی سخت تھا۔ مرارجی دیسائی حکومت میں وزیر خارجہ رہتے ہوئے انہوں نے جہاں ریجنل دفاتر مزید کھلوائے ،وہیں ضابطوں میں بھی نرمی پیدا کرائی جس سے پاسپورٹ بنوانے کا عمل ہندوستانی شہریوں کے لئے کافی آسان ہوگیا۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مسلم خصوصاً عرب ممالک میں ملازمت کے لئے پڑھے لکھے اور مزدور طبقات کے افراد بڑی تعداد میں جانے لگے جن میں مسلمانوں کی بھی تعداد قابل ذکر تھی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے بے روزگاری کو دور کرنے میں مدد ملی اور مسلم طبقے کے بعض خاندانوں میں خوشحالی آئی اور وہ معاشی طور پر امپاور ہوئے۔ علاوہ ازیں بحیثیت مجموعی فارن ایکسچنج بھی ملک کے اندر آنے لگا۔
اردو صحافی کے تئیں نرم رُخ
اٹل جی ایک صحافی بھی تھے۔ سنگھ پریوار کے ہندی ہفتہ وار ’راشٹر دھرم ‘ اور ’ پنچ جنیہ ‘ کے ایڈیٹر کے طور پر ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ صحافیوں کے لئے ان کے دل میں بڑی قدر تھی۔ اردو صحافیوں کو بھی بڑی اہمیت دیتے تھے۔ 1996 میں عام انتخابات سے قبل انہوں نے دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر رمضان کے ماہ میں افطار پر نوجوان اردو رپورٹروں کو بلایا اور بڑے ہی پُرتپاک انداز میں ان سے پیش آئے اور خاطر مدارات کی۔ اس موقع پر 6-7 اردو صحافیوں میں موجود ان دنوں روزنامہ ’عوام‘( نئی دنیا گروپ ) کے نمائندہ قاسم سید جو کہ اب روزنامہ ’ خبریں ‘ کے ایڈیٹر ہیں ،کہتے ہیں کہ’ اٹل جی نے ہم نوجوان اردوصحافیوں کا ایسا خیر مقدم کیا کہ ہمیں لگنے لگا کہ ہم کوئی بڑے صحافی ہیں۔ انہوں نے بڑے ہی عجزو انکساری سے بی جے پی کے انتخابی ایجنڈے کو ہمارے سامنے پیش کیا اورمسلمانوں کو ملک میں مین اسٹریم میں شامل ہونے کو کہا‘۔
یہ جہاں اردو صحافت کی نئی نسل کو اہمیت دیتے تھے، وہیں بڑے اردو صحافی بھی ان کی نظر سے اوجھل نہیں تھے۔بین الاقوامی طور پر پہلے پرنٹ اور اب ویب سائٹ پر بھی پڑھے جانے والے 1953 سے نکل رہے سہہ روزہ ’ دعوت ‘ کے ایڈیٹر انچیف پرواز رحمانی انہیں یاد کرتے ہوئے ’چوتھی دنیا ‘ سے کہتے ہیں کہ’ 8 مئی کو1999 کے عام انتخابات سے چند دنوں قبل پی ایم او سے اٹل جی کے پریس مشیر اشوک ٹنڈن جی کا اچانک فون آیا کہ پی ایم آپ سے ملنا چاہتے ہیں اور ملک کے موجودہ حالات پر بات بھی کرنا چاہتے ہیں، آجائیے۔ جب میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا یہ ملاقات اجتماعی ہے تو انہوں نے برجستہ کہا کہ نہیں، وہ تو سہہ روزہ’ دعوت ‘کے ایڈیٹر سے ملاقات اور بات چیت چاہتے ہیں۔ اس پر میں نے حامی بھردی اور دوسرے روز 9 مئی کو ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گیا۔ بڑے ہی خوش گوار موڈ میں وہ ملے۔ بات چیت میں اشوک ٹنڈن جی بھی موجود رہے۔ ابتدائی کلمات کے ساتھ میں نے اٹل جی سے کہا کہ مسلمانوں میں آپ کا امیج بہت اچھا ہے جبکہ مجموعی طور پر آپ کی پارٹی کو وہ پسند نہیں کرتے۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ آپ کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ یہ بحیثیت انسان تو بہت اچھے ہیں مگر ان کی پارٹی ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر وہ خوب ہنسے۔ان کے ہنسنے پر اشوک ٹنڈن جی بھی ہنسنے لگے۔ میں نے پھر ان سے تفصیل سے خصوصی انٹرویو لیا اور یہ سہہ روزہ’دعوت ‘(4جون 1999)میں شائع ہوا اور قارئین میں بہت مقبول بھی ہوا۔ یہ انٹرویو آج بھی یا د کیا جاتا ہے‘۔
پرواز رحمانی نے اپنی بات کی توضیح میں یہ بھی کہا کہ ’’ اٹل جی نے لکھنؤ سے پانچ بار 1991,1996,1998,1999 اور 2004 میں انتخابات لڑے اور جیتے۔ وہاں مسلمان بھی انہیں ووٹ دیتے تھے اور ہر بار ان کی انتخابی میٹنگوں میں قابل ذکر تعداد میں شریک ہوتے تھے۔مجھے بھی ایک بار ان کی یہاں انتخابی میٹنگ میں شرکت کا موقع ملا۔ وہ اپنی تقریر میں ہندو-مسلم اور شیعہ و سنی کو بالخصوص جھگڑا فساد سے دور رہنے، آپس میں مل جل کر رہنے اور پھر ملک کی ترقی کے لئے کام کرنے پر زور ڈالتے تھے۔‘‘
مجموعی طور پر پرواز رحمانی کا یہ کہنا ہے کہ ’’ اٹل جی دل کے اچھے آدمی تھے اور ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں شمولیاتی پالیسی پر عمل کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان سے دوستی کے حق میں تھے۔ وزیر خارجہ رہتے ہوئے وہاں پہلی مرتبہ گئے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ ان کے دور حکومت میں کرکٹ ٹیم کے پاکستان جانے کا مسئلہ اٹھا تو فیصلہ ان پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے ٹیم کے جانے کے حق میں فیصلہ کرکے دونوں ملکوں کے کرکٹ کے شائقین کا دل جیت لیا۔ ان کی حکومت کے وقت سانحہ گجرات بڑا ہی تکلیف دہ واقعہ تھا۔ انہوں نے 4 اپریل 2002 کو احمد آباد کا دورہ کیا۔ ان دنوں میں بھی اپنے اخبار کے لئے سانحہ کا جائزہ لینے اس شہر میں موجود تھا۔اس وقت انہوں نے بہت ہی صاف لفظوں میں مودی جی سے کہا کہ ’ راج دھرم نبھائیے ،دنیا کو ہم کیا منہ دکھائیں گے‘‘۔ اس سے ان کی اصول پسندی کا انداہ ہوتا ہے۔

 

 

 

 

مسلم لیڈران کی آراء
دیگر مسلم لیڈروں و شخصیات میں بھی اکثر بیشتر ان کے معترف اور قائل رہے۔ لکھنو کے شیعہ عالم دین حامد الحسن جو کہ اٹل جی سے بہت قریب رہے، انہوں نے ساڑھے تین برس راقم الحروف سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’ ایک بار اٹل جی نے مجھے ذاتی طور پر مطلع کیا کہ وہ لکھنو آرہے ہیں اور مجھ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ملاقات کے دوران مری باتیں سن کر وہ کہنے لگے کہ آج پہلی بار مجھے الفاظ کی کمی محسوس ہورہی ہے‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زمینی سطح سے کتنا زیادہ جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے اٹل جی کے مذہبی روادادی اور قوت برداشت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک بار انہوں نے دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر مجھے افطار پر بلایا۔ چونکہ فقہ جعفریہ کے حاملین کچھ تاخیر سے افطار کرتے ہیں لہٰذا دیگر روزہ داروں کے افطار شروع کرنے کے باوجود اٹل جی اس وقت تک بغیر کچھ کھائے انتظار کرتے رہے جب تک میں نے افطار کرنا شروع نہ کیا‘‘۔
صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نوید حامد گجرات سانحہ کے بعد اعلیٰ سطحی مسلم وفد کی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے 3مارچ 2002 کو ہوئی ملاقات کا ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے اس وقت جو تاثر دینے کی کوشش کی، اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس بات سے شاکی تھے کہ گجرات سانحہ مسلمانوں کی گودھرا میں اشتعال انگریزی اور گودھراسانحہ کی مسلمانوں کے ذریعے مذمت نہ کرنے سے ہوا ہے۔پھر جب میں نے انہیں خود گجراتی روزنامہ ’ گجرات ٹوڈے ‘ کا سانحہ کے دوسرے روز کا شمارہ پیش کیا جس میں سکریٹری مشاورت کے طور پر نہ صرف میں نے بلکہ تین دوسرے اہم قائدین بشمول احمد پٹیل، طارق انور اور گجرات کانگریس کے ایک مسلم عہدیدار کا صفحہ اول پر مذمتی بیان چھپا تھا تو اسے دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئے اور اس زمانے کے پی آئی بی ڈائریکٹر کی جانب سوالیہ نگاہ سے دیکھا اور ان کے چہرہ سے خفت صاف طور پر محسوس ہوئی۔ اس واقعہ سے ان کے فطری انداز کی ترجمانی ہوتی ہے۔ شاہی مسجد فتح پوری دہلی کے امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمد کا خیال ہے کہ یہ ایک ایسے شخص تھے جو اندرون و بیرون ملک مذہب اور ذات و پات سے اوپر تھے اور انہوں نے راج دھرم کو اپنایا اور دوسروں کو بھی اسے اپنانے کی تاکید کی۔ اسسٹنٹ سکریٹری جماعت اسلامی ہند اور معروف کتاب ’ دلت سمسیا کی جڑ میں کون؟‘ اور ایمرجینسی کے متاثرین کے مصنف انتظار نعیم کہتے ہیں کہ سنگھ پریوار سے تعلق کے باوجود وہ راج دھرم کو نبھانے کی بات کرتے تھے جس کی آج ملک کو شدید ضرورت ہے ۔ وہ گنگا جمنی تہذیب کے پروردہ اور ایک معقول انسان تھے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سنگھ کے فکر و نظریہ کے حامل ہونے کے باجود یہ مسلمانوں میں مقبول و ہردالعزیز تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لئے مسلمانوں میں ہمیشہ نرم گوشہ پایا جاتا رہا۔ مسلمانوں میں ان کی ہردلعزیزی کا یہ ثبوت ہے کہ ان کے جنازے کے ساتھ مسلمانوں کی بڑی بھیڑ چل رہی تھی اور جس وقت یہ جنازہ مسلم اکثریتی علاقے سے گزر رہا تھا تو جم غفیر ان کے دیدار کے لئے امڈ رہا تھا۔
بیرون ممالک میں بھی اٹل جی کو بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان کے نامزد وزیر اعظم عمران خاں نے ان کے تعلق سے اپنے پیغام میں جو کچھ کہا ہے، اس سے اندازہ ہوتاہے کہ پاکستان کے لوگ ان کے بارے میں آج بھی کس طرح سوچتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’ پاک- بھارت تعلقات میں بہتری کے لئے اٹل بہاری واجپئی کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیںگی۔ واجپئی صاحب نے بطور وزیر خارجہ پاک- بھارت تعلقات میں بہتری کا بیڑہ اٹھایا ۔بطور وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے پاک – بھارت تعلقات میں بہتری کا ایجنڈا آگے بڑھایا‘‘۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *