ہندو پاک کی ذہنی کیفیت میںکوئی فرق نہیں ہے

فوج جہاںمداخلت کرتی ہے، وہاں جمہوریت کا کوئی مطلب نہیںرہ جاتا۔ آزادی کے صرف 11 سال بعد پاکستان میں 1958 میںایوب خان مارشل لاء ڈکٹیٹر بن گئے تھے۔ اس کے بعد سے کئی بار ڈیموکریٹک سرکاریں آئیں۔ نواز شریف ان میںسب سے زیادہ مقبول رہے لیکن وہ بھی بعدمیںبے بس ہوگئے۔ وہاں کی عدلیہ نے مل کر انھیںعہدے سے ہٹادیا۔ اس الیکشن میںسب کو پتہ تھا کہ عمران خان کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ حافظ سعید نے ایک پارٹی بنائی، جسے کوئی سیٹ نہیںملی۔ یہ میرے اس خیا ل کو تقویت دیتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی ذہنی کیفیت میںکوئی فرق نہیں ہے۔ ایک ہی ہیں ہم لوگ۔ پاکستان بھی اپنا ہے۔ ایک ہی ذہنیت ہے دونوںطرف۔ عمران خان سے میںملا ہوں۔جب میںکرکٹ بورڈ کا وائس پریسیڈنٹ تھاتو کرکٹ میچ دیکھنے پاکستان گیا تھا۔ اس وقت انھوںنے ایک اچھی بات کہی تھی۔ ہندوستان ایک ونڈے جیت گیا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان بدل گیا ہے۔ ہندوستان کے جیتنے پر بھی لوگ تالی بجا رہے ہیں۔ ہمارے زمانے میں لوگ اسٹیڈیم کو آگ لگادیتے۔ وہ اپنے عوام کی ذہنیت کے بارے میںبات کر رہے تھے کہ کچھ بدل گیا ہے۔ اس دور میںجنرل پرویز مشرف تھے۔ عمران خان کو ’شبھ کامنائیں‘۔ خدا ان کو طاقت دے کہ وہ کچھ کریں۔ فوج بھی اگر عمران کو استعمال کرکے رشتہ سدھارنے کی کوشش کرے تو کوئی حرج نہیںہے۔
اب اپنے ملک کی بات کرتے ہیں۔ میںچھ مہینے سے کہہ رہا ہوں کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آئیںگے، ماحول گرمائے گا۔ اس سے فائدہ بھی ہوسکتا ہے اور خون خرابہ بھی ہوسکتا ہے۔ اچھی بات پہلے۔ مودی جی کی تقریروں سے بھی سمجھ میںآرہا ہے کہ خود مودی جی کو بھی سمجھ میںآگیا ہے کہ اب 56 انچ کی چھاتی سے کام نہیںچلے گا بلکہ کام کرنا ہوگا۔ انھیں سمجھ میںآگیا ہے کہ ملک ایسے نہیں چلتا ہے۔ تیس سال بعد کسی پارٹی کو مکمل اکثریت ملی تھی۔ مودی جی نے کہا تھا کہ یہ کر دوں گا، وہ کردوںگا۔ بار بار بولتے تھے کہ 70 سال سے کانگریس نے کچھ نہیں کیااور میںبار بار یہی یاد دلاتا رہا کہ یہ ملک 70 سال پرانا نہیں ہے، یہ چار ہزار سال پرانا ملک ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ کانگریس نے جو غلطیاںکیں، وہ ہم نہیںکریںگے۔ اسی لیے تو آپ کو لوگوںنے چنا ہے۔ آپ نے کچھ نئی پالیسیوںکا اعلان کردیا۔

 

بی جے پی والے جواہر لعل نہرو کا قد چھوٹا کرنے کے لیے بار بار سردار پٹیل کا نام لیتے ہیں،یہ مضحکہ خیز بات ہے۔ اٹل بہاری واجپئی بھی ملک کے وزیر اعظم تھے ، ان کا نام بھی تاریخ میںلکھا جائے گا ۔ وہ بہت اچھے وزیر اعظم تھے۔ آپ کیا ہیں؟ آپ کا نام نہیںآئے گا۔ آپ نے چار سال میںسب کچھ بگاڑ دیا۔ بی جے پی والے بولتے ہیں کہ اس بار300 سیٹیںجیتیںگے لیکن یہ زمینی حقیقت نہیںہے۔ پہلے تو آپ نے وقت برباد کردیا’ کانگریس مکت بھارت ‘بول کر۔ سوا سو کروڑ لو گ یہاںرہتے ہیں۔ کیا نیا کریںگے آپ؟ کیا آپ ہندوستان کو امریکہ بنا دیںگے؟ یہ بے وقوفی والی باتیں ہیں۔ آپ کو بولنا چاہیے تھا کہ جو جہاںہے، خوش حال ہے۔ اس کی خوش حالی میںہم اضافہ کریںگے۔
آپ بولتے ہیںکہ کسانوںکی آمدنی دوگنی کردیںگے۔ کیا شیخ چلی جیسی باتیں کررہے ہیں آپ۔ سوامی ناتھن کمیشن نے ڈیڑھ گنا قیمت دینے کی بات کی۔ کیا اتنا پیسہ ہے سرکار کے پاس؟ 18 فیصد لوگ جو آپ کے بندھوا مزدور ہیں، بولتے ہیںکہ مودی جیسا نہ کوئی ہوا، نہ ہوگا۔ وہ اٹل بہاری واجپئی کا بھی نام لینے کو تیار نہیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسان خود کشی کررہا ہے۔ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ باڑھ آگئی تو مرجاتا ہے۔ خشک سالی آگئی تو مر جاتا ہے۔ کسانوں کا مسئلہ سنگین ہے۔
یہ صرف آج کے وزیر اعظم کی بات نہیں ہے اور چار سال کی با ت نہیںہے۔ میں نہیںکہتا کہ آپ زیادہ کچھ کیجئے۔ لیکن آپ مثبت اسکیم لائیے، جسے آپ کے بعد بھی آسانی سے لاگو کیا جاسکے۔ ملک ختم نہیں ہوتا۔ آپ تو ایسے بات کرر ہے ہیں جیسے آپ سے ملک شروع ہوا ہے اور آپ سے ختم ہوجائے گا۔ ایسے تو نہ کسان کا معاملہ حل کر پائیں گے نہ ہی کوئی اسکیم ٹھیک سے لاگو کر پائیںگے۔ ایک بھی بڑی انڈسٹری نہیں لگی مودی جی کے چار سال میں۔ کانگریس کو گالی دینے میںکوئی دقت نہیں ہے۔ جو کام کرے گا، وہ صحیح بھی کرے گا اور غلط بھی کرے گا۔
اچانک مودی جی کو لگا کہ صنعتی طبقے کو دشمن بنا رہا ہوں۔ تو آپ کو اچانک پتہ چلا کہ ملک کی ترقی میںصنعت کاروںکی بھی بہت شراکت ہے۔ مجھے شرم نہیںآتی ان کے ساتھ فوٹو کھنچواتے ہوئے۔ لوگ بند کمروںمیںملتے تھے۔ لیکن مودی جی کی سرکار کیا پہلے کی سرکاروں کے مقابلے کم ڈیل کر رہی ہے۔ جس دن مودی جی اقتدار سے ہٹیںگے، ان کے خلاف بھی بدعنوانی کے الزام سامنے آئیں گے۔ رافیل ڈیل اور نوٹ بندی کی بات ہی نہیںکر رہا ہوں لیکن صنعت کاروں کی بات کریے۔ سب کو پتہ ہے کہ دہلی میںکوئی کام کرانا ہے تو اڈانی کے پاس جائیے، کام ہوجائے گا۔ مکیش امبانی کے پاس جائیے، کام ہوجائے گا۔ کیسے ہو جائے گا؟ وہ امت شاہ کو فون کریںگے۔ امت شاہ سرکار چلا رہے ہیں۔

 

 

وزیر اعظم سے بدلاؤ نہیں آتا۔ اس کے لیے سسٹم بدلنا ہوگا۔ جہاں لیکیج ہے، وہاں آپ نے کچھ کام ہی نہیںکیا۔ اگر پولیس کے ڈنڈے سے ملک ٹھیک ہوتا تو پاکستان بہتر ملک ہوتا۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ آپ نے وعدہ کیا تھا کیسے روزگار دیںگے ان کو آپ؟ انڈسٹری نہیںکھلے گی تو آپ کیسے روزگار دیںگے؟ آپ نے تو بول دیا ہے کہ کانگریس کی غلطی تھی لیکن، کانگریس کے راج میںاتنے ہزار لوگوں نے ملک چھوڑ کر دبئی اور لندن کی سٹیزن شپ نہیں لی تھی۔ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے اس ملک میں۔ اور اس کا کریڈٹ شری نریندر مودی کو جائے گا کہ آپ اتنے ڈراؤنے ہیں۔ آ پ کے کام نے لوگوں کو اتنا ڈرا دیا کہ لوگ سوچنے لگے کہ جو بھی تھوڑا سرمایہ ہے، یہ بھی چلا جائے گا، بال بچوںکو کون دیکھے گا، میںجیل چلا جاؤںگا، یہاںسے دبئی چلو۔ دبئی رہنے کی جگہ ہے، لندن رہنے کی جگہ ہے؟ دنیا کا سب سے اچھا ملک رہنے کے لحاظ سے ہندوستان ہے۔ میںکم سے کم پچاس بار بیرون ملک جاکر آیا ہوں۔ ہر سال جاتا ہوں ہندوستان جیسا کوئی ملک نہیں ہے۔ لیکن ہندوستان کو سمجھنے کے لیے پہلے اپنا ٹمپریچر ڈاؤن کرنا پڑے گا۔ 56 انچ کی چھاتی کو نارمل چھاتی کے سائز میں لائیے۔ اپنے آپ کوپردھان سیوک کہتے ہیں تو سیوک بن کر دکھائیے۔ آپ سمجھتے ہیںکہ آپ راجا مہاراجا ہیں۔ حکم دے دیا تو ہوگیا، گلا کاٹ دو، کاٹ دیا۔ ہاتھی سے کچل دو، کچل دیا۔ آج لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ ہمارے جیسے بے وقوف لوگ ہیںجو آپ کے خلاف بول رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیا ہوگا پھر؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *