ضرورت ہے آنجہانی کرونا ندھی پر تحقیقی کام کی

مہاراشٹر میںمراٹھا کمیونٹی کا شمار اونچی ذات میںہوتا ہے۔ گجرات کے پاٹی داروں کی طرح وہ بھی پرزور طریقے سے ریزرویشن کی مانگ کر رہے ہیں۔ دراصل ملک میںریزرویشن کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے۔ منڈل کمیشن تک آتے آتے نچلی ذاتوںکے لیے سرکاری نوکریوں میں50 فیصد تک ریزرویشن ہوگیا۔ لہٰذا اونچی ذات کے لوگوں، خواہ وہ برہمن ہوں یا راجپوت ہوں یا مراٹھا، ان کی سماج میں پکڑتھی۔ اب وہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ الگ رہ گئے۔ اگر ان آندولنوں کا تجزیہ کریںتو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیںکہ سارا ریزرویشن ہی ختم ہو جائے لیکن کہہ نہیںپاتے۔ جو لوگ سیاست میںہیں، وہ تو کہہ نہیںسکتے لیکن جو دائیںبازو والے لوگ ہیں، وہ میرٹ کی بات کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ میرٹ کیا ہوتی ہے؟ ایک لڑکا جس کی پرورش بہترین ماحول میںہوئی ہے، اور ایک لڑ کا جس کی پرورش تنگی میں ہوئی ہے، تو دونوں کا مقابلہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اگر دونوں کو برابر لانا ہے تو کچھ تو کرنا پڑے گا۔ امریکہ میںاسے ایفرمیٹو ایکشن کہتے ہیں۔
مراٹھا آندولن کی بات کرتے ہیں ۔ شرد پوار مراٹھا ہیں۔ انھوںنے آسانی سے کہہ دیا کہ وزیر اعلیٰ کو اسے حل کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ دیوندرفڑنویس برہمن ہیں۔ اب نہ تو وہ ریزرویشن دینے سے منع کرسکتے ہیں کیونکہ مراٹھا مخالف کہلائیںگے اور نہ ہی ریزرویشن دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے 50 فیصد کی شرط لگا رکھی ہے۔ اب معاملہ ہائی کورٹ میں ہے۔ لہٰذا فڑ نویس وہی کر یں گے، جو ہائی کورٹ کہے گا۔ دراصل ہر چیز کو عدالت پر چھوڑنا مسئلے کا حل نہیںہے۔ کل یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب ہر فیصلہ عدالت ہی کرے گی تو پھر سرکار کی ضرورت کیا ہے؟ یہ ایک پیچیدہ سماجی مدعا ہے۔ ایسے مدعوں کا حل آسان نہیںہوتاہے۔ سبھی فریقوںسے بات چیت کرکے اس مدعے کا ایک قابل قبول حل تلاش کرنا چاہیے۔ حکم سے سے راج چلنا ہے تو وہ پولیس اور کلکٹر چلالیںگے،ہم سیاسی لوگوںکی ضرورت ہی کیا ہے۔ ایسے میں ہم آپ کو ایلیمنیٹ کر لیں گے۔

 

 

 

 

کرونا ندھی کا انتقال 94 سال کی عمر میںہوا ہے۔ وہ 1969 میں45 سال کی عمر میںپہلی بار تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ یعنی وہ 49سال پہلے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ حالانکہ اب ملک میںیہ روایت نہیںرہی لیکن جب ان کی طبیعت تھوڑی ٹھیک تھی تو ان کا ایک انٹرویو ہوتا اور ان سے پوچھا جاتا کہ پہلی بار جب وہ وزیر اعلیٰ بنے تھے، تب میںاور اب میںکیا فرق ہے؟ انھوں نے پورا دور دیکھا تھا لیکن اب یہ ہوگا نہیں۔ جب وہ پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے ، اس سے پہلے سے میںسیاست دیکھ اور سمجھ رہا ہوں۔ سب سے بڑی بات شمالی اور جنوبی ہند میں فرق ہے۔ جنوب میں تمل ناڈو ایک اپنے آپ میں’یونک‘ جگہ ہے۔ دروڑین موومنٹ، کروناندھی اور انّا درائی جس کے جانشین ہیں، کی پوری روایت الگ ہے۔ یہ رام کو نہیںمانتے، یہ روان کو مانتے ہیں۔ یہ سوچتے ہیںکہ آرین باہر کے لوگ ہیں اور ہم اصلی باشندے ہیں۔ ای وی راما سوامی ان کے گرو تھے، جو ایک سوشل ریفارمر تھے اور آج بھی ان کی شناخت ہے۔ انھوںنے دروڑ کڈگم نامی ایک تنظیم بنائی تھی۔ وہ تنظیم کوئی سیاسی جماعت نہیںتھی۔ ان کا آندولن سماج میں برابری کے لیے تھا۔ کانگریس کی حکومت تھی، سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ کے کامراج 10 سال وزیر اعلیٰ رہے۔ پھر ایم بھکت وتسلم 5 سال وزیر اعلیٰ رہے۔ 1966 میںجب جواہر لعل نہرو کے بعد لال بہادر شاستری وزیر اعظم تھے تو ان سے ایک چوک ہوگئی۔ آئین میںیہ پرویژن تھا کہ انگریزی 15 سال کے لیے ہندوستان کی سرکاری زبان ہوگی۔ یہ میعاد 1967 میںختم ہونے والی تھی۔ زمینی حقیقتوںکو پوری طرح سمجھے بغیر انھوںنے کہہ دیا کہ ہندی سرکاری زبان ہو جائے گی۔ اس کے بعد کہرام مچ گیا۔ تمل ناڈو کو آگ لگ گئی۔ یہ کہا جانے لگا کہ ہندی والے ہم پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ تمل ناڈو میںدو چیزوں سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ایک ہندی اور دوسری دھوتی۔ بی جے پی خواہ جتنا بھی زور لگالے، امت شاہ اور نریندر مودی چاہے جو بھی کر لیں لیکن تمل ناڈو میںان کی کوئی جگہ نہیںہے۔ لالچ دے کر ، ورغلا کر، مایوس اور بے لیڈر انا ڈی ایم کے کے ساتھ آپ کچھ بھی کرتے رہیے، عوام میںکچھ نہیںہے۔
تمل آندولن کی وجہ سے سی این انّا درائی 1967 میںپہلی بار پور ی اکثریت کے ساتھ اقتدار میںآئے۔ انھوںنے اپنی پارٹی کا نام دراودامنیتر کژھگم (ڈی ایم کے) رکھا تھا۔ بدقسمتی سے دو سال بعد کینسر کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد کرونا ندھی 1969 میںوزیر اعلیٰ بن گئے۔ کرونا ندھی نے ایک سماجی آندولن جاری رکھا۔ وہ جانتے تھے کہ نابرابریاںتو ہیں ،جو ایک دن میںنہیں مٹیں گی۔ انھوںنے ریزرویشن (تمل ناڈو ریزرویشن کافی زیادہ ہے) کو اپنے سماجی آندولن میںشامل کرلیا۔ پچاس سال کا وقت بہت لمبا وقت ہوتا ہے۔ ان کے پہلے سے وہاںاس کی روایت تھی، اس لیے ساؤتھ میںریزرویشن کے دنگے نہیںہوئے۔ یہ شمالی ہند کی خصوصیت ہے۔ اب مہاراشٹر اور گجرات میں بھی یہ بیماری آگئی ہے۔
بہرحال کروناندھی کا یوگدان ناقابل فراموش رہے گا۔ میںسمجھتا ہوںکہ چونکہ وہ سیاست میںسرگرم تھے، اس لیے ان پر لکھا نہیںگیا۔ ان کے بیٹے اسٹالن ، جو ان کے جانشین ہیں، ان پر ایک بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کروناندھی پر پوری ریسرچ کرائیں۔ دراصل کرونا ندھی 1969 میںوزیر اعلیٰ بنے تھے۔ اس کے بعد 1972 میںہوئے الیکشن میںوہ پھر جیت گئے۔ ایمرجنسی کے دوران 1976میںاندرا گاندھی نے بدعنوانی کے الزام میںکرونا ندھی سرکار کو برخاست کردیا۔ یہ اقتدار کا تجاوز تھا۔ دراصل پوری ایمرجنسی ہی اقتدار سے تجاوز تھی۔ اس کے بعد کرونا ندھی کو ایک جھٹکا لگا ۔ اس وقت مشہور اداکار ایم جی رام چندرن کو ان کا دایاںہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ ایم جی آر ان کی پارٹی کے ٹریزر تھے۔ اس بیچ دونوں کے درمیان اختلاف ہونے کی وجہ سے رام چندرن نے پارٹی چھوڑ دی اور اپنی الگ پارٹی انّا ڈی ایم کے بنائی۔

 

 

 

 

 

1977میںعام انتخابات کے ساتھ تمل ناڈو میںبھی الیکشن ہوئے، جس میں ایم جی آر کی جیت ہوئی۔ 1987 میںان کی موت تک کرونا ندھی اقتدار میں واپسی نہ کرسکے۔ ان کے انتقال کے بعد ہی کرونا ندھی اقتدار میںواپسی کر پائے اور اس کے بعد وہاںسلسلہ چلتا رہا پانچ سال کرونا ندھی اور پانچ سال انّا ڈی ایم کے۔ ایم جی آر کی جانشین جے للتا تھیں۔ انھوں نے بھی مؤثر ڈھنگ سے انّا ڈی ایم کے کی قیادت کی۔ میںاس بحث میںنہیں پڑتا کہ تمل ناڈو کی سیاست کی اخلاقیات کیا ہے؟ جو جے للتا نے فری ٹی وی، فری اسٹوو، فری چولہا بانٹا،اس پر ایک بحث ہوسکتی ہے لیکن عام جنتا کو یہ چھو گیا۔ ان کے جیل کے بعد بھی لوگوں پر کچھ فرق نہیںپڑا۔ وہ پھر بھی جیت گئیں۔ جنوب خاص طور سے تمل ناڈو کا مزاج ہی الگ ہے۔ اگر کسی کو وہاںکی سیاست کو ڈیل کرنا ہے تو وہاں کے لوگوں کے مزاج کے حساب سے ڈیل کرنا پڑے گا۔جے للتا کی موت کے بعد وہاںایک خلا بن گیا۔ موجودہ سرکار کے دو سال بچے ہیں، اس کے بعد پار ٹی بھی بچے گی یا نہیں، کہا نہیںجاسکتا۔ ڈی ایم کے کے جانشین اسٹالن ہیںجو چار پانچ سال سے پارٹی کو کنٹرول کر رہے ہیں، یہ پارٹی تو چلے گی۔
ایک اور المیہ ہے کہ تمل ناڈو کے اصلی جانشین صرف کرونا ندھی اور اسٹالن ہیں۔ ایم جی آر کیرالہ کے رہنے والے تھے اور جے للتا کرناٹک کی برہمن تھیں۔ اب اس کا جواب میرے پاس نہیںہے کہ لوگ انھیںچاہتے تھے تو کیوںچاہتے تھے؟ اب کمل ہاسن اور رجنی کانت سیاست میںآگئے ہیں۔ کمل ہاسن نے پارٹی بنا لی جبکہ رجنی کانت موقع ڈھونڈ رہے ہیں۔ انّا ڈی ایم کے اگر اپنا لیڈر تلاش کر لے گی تو پارٹی بچ جائے گی، نہیںتو پارٹی کو لیڈر ڈھونڈنا مشکل ہو گا۔ انّا ڈی ایم کے کی ایک لیڈر ہیں ششی کلا ،جو جے للتا کی سب سے نزدیکی ساتھی تھیں اور جو فی الحال جیل میںہیں۔ ان کا لڑکا دناکرن آر کے نگر (جو جے للتا کی سیٹ تھی) سے الیکشن جیت گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ عوام جے للتا کی جانشین ششی کلا کو مانتے ہیں۔ اب جانشینی کا مسئلہ 2021 میںحل ہوگا، جب وہاںالیکشن ہوں گے ۔
میرے حساب سے کرونا ندھی کی شخصیت صرف تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کی نہیںہے۔ سماجی تبدیلی میں، سماجی ٹھہراؤ میںیا مستحکم تمل ناڈو میںآپ نے دیکھا ہوگا کہ خواہ انّا ڈی ایم کے ہو یا ڈی ایم کے، اس طرح کی بدامنی نہیںہوتی تھی۔ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ تمل ناڈو میںصحیح ڈھنگ سے ہواہے، ہورہا ہے۔ ہم پہلے مہاراشٹر اور گجرات کو گنتے تھے لیکن تمل ناڈو کو آپ نظر انداز نہیںکرسکتے ہیں۔ اس لیے ہندوستانی سیاست میں، صنعت کاری اور زراعت میں کرونا ندھی کی کیا شراکت ہے، اس کا ایک مطالعہ ہونا چاہیے۔ چونکہ وہ کبھی دہلی میںوزیر نہیںبنے، کبھی قومی سیاست میںحصہ نہیںلیا، اس لیے اتنا اٹینشن انھیںنہیں ملا جتنا دہلی کے سیاستداں کو ملتا ہے۔
آخیر میںموجودہ سرکار کی بات۔ یہ اتنی خراب سرکار ہے کہ اس نے کرونا ندھی کی آخری رسوم کے لیے مرینا بیچ پر زمین دینے سے انکار کردیا۔ اس سے بیہودہ بات کوئی نہیںہوسکتی۔ مرینا بیچ پر انّا درائی ہیں، جے للتا ہیں۔ کرونا ندھی آپ کی پارٹی سے نہیںہیں تو ایسا کریںگے آپ؟ ہائی کورٹ رات کو سماعت کرتا ہے اور لاگو کردیا۔ جہاںتک میرا تجربہ ہے ،انّا ڈی ایم کے کے جو وزیراعلیٰ ہیں پلوی سوامی یا پنیرسلیوم، یہ ان کا کام نہیں ہے بلکہ چابی امت شاہ اور نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے، یہ ٹھیک نہیںہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *