امریکی کمپنی کا اعتراف ای وی ایم ہیک ہو سکتی ہے

گزشتہ دنوں مودی سرکارکے خلاف اپوزیشن کے ذریعہ لایا گیا نو کنفیڈنس موشن جب لوک سبھا میں پیش ہوگیا، تو اس کے بعد گجرات سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ پرویش راول نے ایک ٹویٹ کیا۔انہوں نے لکھا کہ بی جے پی کے پاس 274 اراکین تھے اور نو کنفیڈنس موشن کے دوران اسے 325 اراکین کی حمایت ملی، جبکہ اس کی اتحادی شیو سینا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اپوزیشن کے پاس 147 اراکین تھے، لیکن اسے صرف 126 اراکین کا ساتھ ملا۔ اب مصیبت یہ ہے کہ ای وی ایم کو بھی قصوروار قرارنہیں دے سکتے۔
دراصل حالیہ برسوں میں ای وی ایم پر اعتماد کو لے کر جب بھی اپوزیشن نے سوال اٹھایا تو سرکار نے نہ صرف اسے خارج کیا، بلکہ بی جے پی ترجمانوں اور اس کے حامیوں نے اس پر طنز بھی کیا۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ بی جے پی جب اپوزیشن میں تھی، تب اس نے اس ایشو کو زور و شور سے اٹھایا تھا۔ اس وقت ایل کے اڈوانی سے لے کر سبرامنیم سوامی تک نے اس کے استعمال پر روک لگانے کی مانگ کی تھی اور اسے جمہوریت کے لئے خطرہ بتایا تھا۔ پارٹی ترجمان جی وی ایل نرسمہا رائو نے تو ای وی ایم کے خلاف ایک کتاب تک لکھ ڈالی تھی۔
ای وی ایم کا نیا جِن امریکہ سے نکلا
بہر حال ای وی ایم کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ اس بار یہ جن امریکہ سے نکلا ہے۔ خبروں کے مطابق ،ای وی ایم بنانے والی امریکی کمپنی ای ایس ایس ( الیکشن سسٹم اینڈ سافٹ ویئر) نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس نے ماضی میں ریموٹ سے کنٹرول ہونے والی ای وی ایم مشینیں سپلائی کی ہیں۔ امریکی سینیٹر رون وائیڈین کو لکھے ایک خط میں ای ایس ایس نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ اس نے لوکل گورمنٹ کو 2000اور 2006 کے بیچ پی سی اینی ویئر ریموٹ کنٹرول سافٹ ویئر سے لیس مشینیں بیچی تھی۔ مدر بورڈ نام کی ایک ویب سائٹ نے اس خط کی کاپی رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ ای ایس ایس 2000 اور 2006 کے بیچ امریکہ کی اصل ووٹنگ مشین بنانے والی تھی اور 2006 میں وہاں 60 فیصد ووٹ اسی مشین سے ڈالے گئے تھے۔ 2007 میں امریکی الیکشن مینجمنٹ ٹرمینل کے نئے انتخابی معیار وں کے بعد ووٹنگ مشین میں پی سی اینی ویئر لگانا بند کر دیا گیا تھا۔
ای ایس ایس کے مطابق، پی سی اینی ویئر کا ہیکنگ سافٹ ویئر سے کوئی کنیکشن نہیں تھا، لیکن ہیکرس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے 2006 میں پی سی اینی ویئر کے سورس کوڈ کی چوری کر لی تھی۔ بہرحال اس کے بعد پی سی اینی ویئر کے بنانے والوں نے اپنے گراہکوں سے اس سافٹ ویئر کا پراناورژن ہٹا لینے کی صلاح دی تھی۔ اس سے پہلے ای وی ایم میں استعمال ہونے والے مائیکرو چپس بنانے والی کمپنی نے یہ مانا کہ اس کے پروڈکٹس کی ہیکنگ یا اس میں پھیر بدل ہو سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، مشین کوڈ شیئر کرنے کا مطلب ہے کمپیوٹر پروگرام کا سورس کوڈ شیئر کرنا ، لیکن ہندوستانی الیکشن کمیشن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سورس کوڈ محفوظ ہے۔
جہاں تک ہندوستان میں استعمال ہونے والی ای وی ایم مشینوں کی ہیکنگ اور بھروسے کا سوال ہے تو اس سلسلے میں دعوئوں کی بھرمار ہے۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ بی جے پی جب تک اقتدار سے باہر تھی، اس نے انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کی جی جان سے مخالفت کی۔ اب بازی پلٹنے کے بعد کانگریس، اس کے اتحادی اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے ای وی ایم پر شک ظاہر کیا جارہا ہے ۔

 

 

 

اپوزیشن کا الزام
مارچ 2017 میں اترپردیش سمیت 5 ریاستوں کے انتخابی نتائج میں بی جے پی کی زبردست جیت کے بعد بی ایس پی سپریمو نے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی سازش کا الزام لگایا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک ریاست کی دو اہم پارٹیاں سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کی دوریاں کم نہیں ہوئی تھیں، لیکن اس کے باوجود اکھلیش یادو نے دبے سُر میں مایاوتی کے الزامات کی حمایت کی تھی اور اس کی جانچ کی مانگ کی تھی۔مایاوتی کے علاوہ جس پارٹی نے ای وی ایم کے ایشو کو سب سے زیادہ زور و شور سے اٹھایا ،وہ تھی عام آدمی پارٹی ۔ عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں جنریشن تھری کی مشینیں ہونے کے باوجود جنریشن ون کی مشینوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج نے ایک پروٹو ٹائپ ای وی ایم پر اسمبلی سیشن کے دوران ای وی ایم ہیکنگ کا ڈیمو بھی دیا تھا۔
اترپردیش بلدیاتی انتخابات میں بھی ای وی ایم سرخیوں میں آیا۔ اس انتخاب میں بی جے پی کو زبردست کامیابی ملی تھی لیکن نتائج کو لے کر کئی طرح کے شک ظاہر کئے گئے تھے، جس میں ای وی ایم بھی شامل تھی ۔ یہ انتخاب بیلٹ اور ای وی ایم دونوں طریقوں سے کروائے گئے تھے۔ ای وی ایم کے ذریعہ ہوئی ووٹنگ میں بی جے پی کی جیت کا اوسط 48 فیصد تھا جبکہ بیلٹ پیپر کے ذریعہ ووٹنگ میں اس کی جیت کا اوسط صرف 17 فیصد تھا۔
یہ شبہ اور گہرا تب ہو گیا جب ایک آزاد امیدوار نے الزام لگایا کہ اسے ایک بھی ووٹ نہیں ملا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے دوسروں کا نہ صحیح لیکن اس کا اور اس کے خاندان کا ووٹ تو ملا ہی ہوگا۔ ای وی ایم کے نشانے پر آنے کا ایک اور سبب یہ ہے کہ ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں ،جہاں کہیں بھی بٹن دبانے پر بتی بی جے پی کے کمل نشان کے سامنے جلتی نظر آئی ۔ گجرات انتخابات کے بعد بھی ای وی ایم پر سوال اٹھے۔ سورت میں اسمبلی انتخابات کے نتائج میں ای وی ایم کی گڑبڑی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بھاری تعداد میں لوگوں نے مخالفت کی۔ اس مخالفت کے دوران لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور جم کر احتجاج کیا۔ لوگوں نے اپنے ہاتھ میں پوسٹر بھی لئے ہوئے تھے، جن پر ’’ووٹ چوری بند کرو ‘‘اور’’ ای وی ایم ہٹائو، جمہوریت بچائو ‘‘جیسی باتیں لکھی ہوئی تھیں۔
ظاہر ہے کہ ای وی ایم کو لے کر الیکشن کمیشن ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس میں کسی طرح کی ٹیمپرنگ یا ہیکنگ نہیں کی جاسکتی ہے۔ مئی 2010 میں امریکی سائنسدانوں نے ہندوستانی ای وی ایم مشین کی ہیکنگ کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وقت بائی الیکشن کمشنر الوک شکلا نے یہ دعویٰ کیا تھاکہ ٹیمپرنگ کے لئے مشین پر ہاتھ ڈالنا ناممکن ہے اور انتخاب سے پہلے مشین سیٹنگ سبھی امیدواروں اور ان کے نمائندوں کے سامنے کی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ادھر شاید ہی کوئی الیکشن ہوا ہو، جس میں ای وی ایم کی گڑبڑی کی شکایت نہیں آئی ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سال اپریل میں ایک آر ٹی آئی کے جواب میں ای وی ایم کے سپلائر اور خریدار کے آنکڑوں کا فرق دیکھا گیا۔ الیکشن کمیشن وی وی پی ٹی مشینیں لاکر انتخابات کو شفاف بنانے کا دعویٰ کررہی ہے، لیکن جن لوگوں نے ای وی ایم پر سوال اٹھائے ہیں، ان کی تشویشات الیکشن کمیشن دور نہیں کر پایا ہے۔ ایسے میں اب گیند الیکشن کمیشن کے پالے میں ہے کہ وہ ان تشویشات کو زندہ رکھتا ہے یا ان کو ختم کرنے کی سمت میں کوئی ٹھوس قدم اٹھاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *