ملک کی نام نہاد ترقی کا سچ

ستیم
وزیر اعظم نریندر مودی سمیت مرکزی سرکار کے تمام وزراء اور بھونپو میڈیا پورے جوش و خروش کے ساتھ ڈنکا بجا رہے ہیںکہ ملک کی ترقی کا رتھ ترقی کی شاہراہ پر قلانچیں بھر رہا ہے۔ گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی) کی اضافی شرح بڑھتی ہوئی دکھانے کے لیے فر ضی اعداد و شمار کی نمائش ہورہی ہے۔ اچھے دنوں کے انتظار میںروز نئی تکلیفیںسہتے سہتے ملک کے عام محنت کش عوام کے صبر کا پیمانہ چھلکنے لگا ہے مگر عوام کی گاڑھی کمائی سے بڑے سرمایہ داروںکو طرح طرح کے تحفے لٹائے جارہے ہیں۔ کہیںسے کوئی مخالفت نہ ہو، اس لیے عوام کو دبانے، کچلنے، ان کا منہ بند کرنے، اصل مدعوں سیبھٹکانے اور آپس میںبانٹنے کے تمام ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کارپوریٹ میڈیا کے چاپلوس بدلتے ہندوستان کی خوابی شبیہ پروسنے کے لیے دھمال مچائے ہوئے ہیں۔ ملک کی ترقی کے اس رنگارنگ جلسے میںمتوسط طبقے کا اوپری ملائی مار طبقہ بھی’ترقی‘ کی نشیلی دھن پر تھرک رہا ہے۔

 

 

ترقی کا نام نہاد جشن
لیکن ملک کی ترقی کا ڈنکا بجانے والے اس شاہی جلوس میںملک کے محنت کش عوام کہاںہیں؟ انھیں اس جلوس میںشامل دیکھنے کی حسرت شاید اکیسویں صدی کی سب سے معصوم حسرت ہوگی۔ ملک کے کروڑوں محنت کش عوام تو ترقی کی ان شاہراہوں سے الگ تھلگ مہا نگروں کی اندھیری سیلن بھری جھگیوں میں، قصبوں، گاؤں کی اوبڑ کھابڑ سڑکوں ، کھرنجوں، چک روڈوں کے کنارے لہو لہان پڑے ہوئے ہیں۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ یہی تو سرمایہ دارانہ ترقی کا فطری تضاد ہے۔ ترقی کی چمکتی تصویر کا دوسرا پہلو ہے، سرمایہ دارانہ سماج میں خوشحالی کے جگمگاتے جزیرے تباہی اور بدحالی کے سمندروں کے بیچ ہی کھڑے ہوتے ہیں۔
سرکار اور اس کے بھاڑے کے ماہر اقتصادیات کے ذریعہ پیش کیے جارہے اعداد و شمار کی ہی نظر سے اگر کوئی ملک کی ترقی کی تصویر دیکھنے پر آمادہ ہوتو اسے تصویر کا یہ دوسراسیاہ پہلو نظر نہیںآئے گا۔ اسے تو بس یہی نظر آئے گا کہ نوئیڈا میں سیمسنگ کی وسیع موبائل فیکٹری کھل گئی ہے ۔ چوڑے ایکسپریس – وے بن رہے ہیں، جن پر مہنگی کاریں فراٹے بھر رہی ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران ملک میں 17 نئے کھرب پتی اور پیدا ہوئے، جس سے ہندوستان میںکھرب پتیوں کی تعداد سیکڑا پورا کرکے 101 تک پہنچ گئی۔ ملک کی حکمراں پارٹی کے 1100 کروڑ روپے کا ہیڈ کوارٹر آناً فاناً میںبن کر تیار ہوگیا ہے اورملک کی سب سے پرانی حکمراں پارٹی کا ایسا ہی خوبصورت ہیڈ کوارٹر تیزی سے بن کر تیار ہو رہا ہے۔ لیکن ترقی کے اعداد و شمار کی اس فلڈ لائٹ سے ان اندھیرے کونوں پر روشنی نہیںپڑتی جہاں ا س ترقی سے ’خارج ہندوستان‘ رہتا ہے۔
ایک طرف ترقی کے اعداد و شمار اچھالے جارہے ہیںتو دوسری طرف ملک میں غریبوں، بے روزگاروں، بے گھر لوگوں کی تعداد بھی لگاتار بڑھتی گئی ہے۔ ملک کی تقریباً 46 کروڑمزدور آبادی میںسے 93 فیصد یا 43 کروڑ مزدور غیر منظم علاقے میںدھکیل دیے گئے ہیں، جہاں وہ بغیر کسی قانونی سیکورٹی کے غلاموں جیسے حالات میں کام کرنے کے لیے مجبور ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 45 کروڑ ہندوستانی خط افلاس کے نیچے جارہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ بھکمری کی کگار پر بس کسی طرح زندہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی انسانی ترقی کی رپورٹ میںہندوستان 188 ملکوں کی فہرست میںکھسک کر اب131 ویںمقام پر پہنچ گیا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میںیہ تیسرے مقام پر، سری لنکا اور مالدیپ جیسے ملکوں سے بھی پیچھے چلا گیا ہے۔ ہمارے ملک میںدنیا کے کسی بھی حصے سے زیادہ 46 فیصد بچے غذائی قلت کے شکار ہیں۔ ایک تہائی آبادی بھوکی رہتی ہے اور یہاں ہر دوسرے بچے کا وزن عام سے کم ہے۔ عالمی بھوک انڈیکس کی بنیاد پر بنی 119 ملکوںکی فہرست میںہندوستان 100 ویںمقام پر ہے، شمالی کوریا اور بنگلہ دیش جیسے ملکوںسے بھی نیچے۔ بے روزگاری کی شرح لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔ اگر بے روزگاری بڑھنے کی رفتاریہی رہی تو حالات کیا ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ایسے میںیہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا وعدہ کرکے اقتدار میںآئی مودی سرکار نے روزگار کے اعداد و شمار جٹانے اور جاری کرنے کے نظام کو ہی اچانک کیوں بند کردیا؟

 

 

زبردست تضاد
ایک طرف ملک کے تمام مہا نگروں میںلاکھوں عالی شان فلیٹ بن کربکنے کے انتظار میںخالی پڑے ہیں، دوسری طرف ملک میںقریب 20 کروڑ لوگ جھگیوں میںرہتے ہیں اور تقریباً اتنے ہی لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ملک کی بلڈنگ انڈسٹری میںجو تیزی آئی تھی ، اس کا فائدہ خوش حال متوسط طبقے تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔ غریبوںکو سر پر چھت میسر نہیں ہو پارہی ہے۔ کچھ سال قبل ایک بیمہ کمپنی نے اپنے ایک سروے میںیہ سچائی ظاہر کی تھی کہ ملک کی 65 فیصد آبادی صحت، علاج اور اسپتالوں کا خرچ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیںہے۔ سرکاری اسپتالوں کی بڑھتی ہوئی حالت زار اور علاج کے بڑھتے پرائیویٹائزیشن کی وجہ سے یہ صورت حال اور بھی بدتر ہوچکی ہے۔
ملک کی نام نہاد ترقی کی تصویر اور زیادہ کھل اٹھتی ہے ، اگر ہم ملک میں پیدا ہورہی کل پراپرٹی کی تقسیم کے اعداد وشمار پر ایک نظر ڈال لیں۔ آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ملک میںپیدا ہوئی کل پراپرٹی کا 73 فیصد ملک کے سب سے امیر ایک فیصد لوگوںکی مٹھی میںچلا گیا۔ اس چھوٹے سے گروپ کی پراپرٹی میں پچھلے چند سالوں کے دوران 20.9 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا جو 2017 کے مرکزی بجٹ میںخرچ کے کل تخمینے کے تقریباً برابر ہے۔ دوسری طرف ملک کے 67 کروڑ باشندوں یعنی سب سے غریب آدھی آبادی کی پراپرٹی صرف ایک فیصد بڑھی۔ ایک طرف غریبی لگاتار بڑھ رہی ہے، دوسری طرف سرمایہ داروں، سیاستدانوں، اونچے سرکاری افسروں، ٹھیکیداروں وغیرہ کی چھوٹی سی آبادی کے پاس پیسوں کا پہاڑ لگاتار اونچا ہوتا جارہا ہے۔ عام جنتا کی بڑھتی ہوئی تباہی کے بیچ اس پیراسائٹ پارٹی کی عیاشیاں بڑھتی جارہی ہیں۔
کہنے کو ہندوستان ایک جمہوریت ہے مگر 130 کروڑ وآبادی والی اس جمہوریت میں100 سب سے امیر لوگوںکی کل پراپرٹی پورے ملک کی کل سالانہ پیداوار کی ایک چوتھائی سے بھی زیادہ ہے۔ ان سے نیچے قریب سوا کروڑ لوگوںکی ایک پرت ہے جس کے قبضے میںکل پراپرٹی کا 50 فیصد اور حصہ چلا جاتا ہے۔ یعنی قریب تین چوتھائی پراپرٹی (73 فیصد) ان کی مٹھی میں ہے۔ حقیقت میں یہ نام نہاد جمہوریت ان ہی کی جیب میں ہے۔
یہ تو ہے اعداد وشمار کے آئینے میںملک کی ترقی کی تصویر ۔ لیکن اچھے سے اچھے اعداد و شمار بھی ملک کے غریب محنت کش عوام کی زندگی کی سچائی سامنے نہیںلا سکتے۔ لگاتار بڑھتی مہنگائی اور افراط زر کے سبب اصل آمدنی میںکمی اور کمانے کے مواقع کے لگاتار ہاتھ سے پھسلتے جانے کی وجہ سے آج حالت یہ ہے کہ ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی دو وقت کی روٹی بھی ٹھیک سے نہیںکھا پی رہی ہے۔ دال کھانا سپنا ہوتا جارہا ہے۔ جب زندہ رہنا ہی مشکل ہے تو پھر بچوں کی پڑھائی اور بیماری کی کون کہے۔ سر مایہ داروں اور ان کی لگّو بھگّو جماعتوں کی بات چھوڑیے، کھایا پیا اگھایا متوسط طبقہ بھی اتنا بے حس ہوتا جارہا ہے کہ اسے اس بات کا گمان تک نہیںہے کہ اس کی خوش حالی کے جزیروں کے چاروں طرف انسانوںکے کرب کا کتنا اتھاہ سمندر ہلوریںلے رہا ہے۔
باقی آئندہ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *