اے ایم یو کے ڈرامہ کلب کی ٹیم آئندہ سال ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی فیسٹیول میں ہندوستان کی نمائندگی کرے گی

AMU-Drama-club
چار ماہ قبل ہی نیشنل ٹرافی جیت کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا نام روشن کرنے والی اے ایم یو کے ڈرامہ کلب کی ٹیم آئندہ سال ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی فیسٹیول ( ایس اے یو ایف ای ایس ٹی) میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے جا رہی ہے جس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ ممبئی کے معروف ایکشن ہدایت کار اور عالمی تائکونڈو بلیک بیلٹ چیمپیئن پرویز خاں ڈرامہ کلب کی ٹیم کو ایکشن کا فن سکھا رہے ہیں جس کے ساتھ ہی وہ ٹیم کے اراکین کو مارشل آرٹ کی بھی تربیت دے رہے ہیں۔ سیکھنے میں یہ فن جتنا دشوار ہے اتنا ہی دلچسپ بھی ہے۔ اے ایم یو کے کینیڈی ہال میں شروع ہونے والی یہ ورکشاپ ایک ہفتہ تک چلے گی۔
ڈرامہ کلب کے سکریٹری سید جعفر حسنین نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی خواہش ہے کہ اے ایم یو کا ڈرامہ کلب آئندہ سال منعقد ہونے والے ساؤتھ ایشیا فیسٹیول میں نہ صرف اے ایم یو بلکہ ملک کا نام روشن کرے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ہندوستانی فوجیوں کی سخت محنت اور صلاحیتوں پر مبنی مائم پیش کیا تھا اس بار بھی اسی کڑی میں آئندہ پیش کش دیں گے جس کے لئے ایک پیشہ ور ٹرینرپرویز خاں کے ذریعہ ٹیم کے اراکین کو ایکشن کی باریکیوں سے روشناس کرایا جا رہا ہے جو ٹائگر شراف سے لے کر شاہ رخ خاں تک کو ٹریننگ دیتے ہیں اور آج کل ان کے بیٹے آرین کو تربیت دے رہے ہیں۔
ڈرامہ کلب کے سینئر رکن طلحہٰ ٹھاکر نے بتایا کہ گزشتہ چار پانچ سال سے کلب کے معیار میں اضافہ ہورہا ہے اور کلب کے اراکین نئے حاصلات سے روشناس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اور اس سال بھی یہاں کے طلبہ نیشنل اسکول آف ڈرامہ اور فلم اینڈ ٹیلیویژن انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے لئے منتخب ہوئے ہیں اور چند طلبہ کا انتخاب آنے والی فلموں کے لئے بھی عمل میں آیا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ معیاری تربیت حاصل کریں جس کے لئے پرویز خاں سے بہتر ٹرینر ہندوستان بھر میں نہیں مل سکتا تھا ۔ ممتاز اداکار ٹائگر شراف ان کو اپنا استاد مانتے ہیں اور یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ انہوں نے ہمارے لئے وقت نکالا ہے۔
ممتاز ایکشن ہدایت کار مسٹرپرویز خاں نے کہا کہ انہوں نے اے ایم یو سے ہی تعلیم حاصل کی ہے اور اس یونیورسٹی نے انہیں بہت کچھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر میں یہاں کے طلبہ کے لئے کچھ کرسکا تو سمجھوں گا کہ میں نے اس ادارہ کا کسی حد تک قرض ادا کردیا۔انہوں نے کہا کہ ڈرامہ کلب میں کافی صلاحیتوں کے مالک طلبہ ہیں بس انہیں ایکسپوزر کی ضرورت ہے اور اچھی رہنمائی حاصل ہونے پر وہ کمال کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹی انتتظامیہ کو چاہئے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ فروغ دے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *