پاکستان میں مسلم علاقے سے ہندو امیدواروں کی کامیابی خوش آئند

پاکستان کے سندھ صوبہ میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم اکثریتی علاقوں سے پیپلز پارٹی کے تین ہندو امیدوار منتخب ہوئے۔ مہیش مالوانی نے تھرپار کڑہری 222،رام کشوری لال اور گیان چند اسرانی صوبائی اسمبلی کے حلقہ 147 اور 81 سے منتخب ہوئے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے جب مسلم اکثریتی علاقہ سے ہندو امیدواروں نے اتنی بہترین کامیابی حاصل کی ہو ۔
یہ ایک اچھی خبر ہے ۔یوں تو پاکستان کے سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم آبادی کے لیے نشستیں مخصوص ہیں جن پر ہر پارلیمانی جماعت ایک تناسب کے ساتھ اقلیتی برادری کے لوگوں کو ایوان میں آنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔مگر مسلم علاقے سے کسی غیر مسلم امیدوار کا کامیاب ہونا ملک میں جڑ پکڑتی جمہوریت کو ظاہر کرتا ہے۔

 

 

 

بعض سرکردہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 70 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اقلیتوں کو پارلیمانی سیاست میں جائز نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ 1997میں جب ملک کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 90 لاکھ تھی تو قومی اسمبلی کا ایوان 217 نشستوں پر مشتمل تھا جس میں 202 عام نشستیں تھیں جن پر امیدوار انتخاب میں کامیاب ہو کر آتے تھے۔ان میں5 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص تھیں اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد 10 تھی۔ان میں سے عموما تین سیٹیں عیسائیوں کو، ایک سیٹ پارسی کو اور 6سیٹیں ہندوئوں کو ملتی ہیں۔
2002 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی کل نشستوں کو بڑھا کر 342 کر دیا گیا جس میں 272 عام نشستیں تھیں جب کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کو بڑھا کر 60 کر دیا گیا لیکن اقلیتوں کے لیے نشستوں کی تعداد 10 ہی رہنے دی گئی اور یہی صورت حال عام انتخابات2013 میں بھی ہوئی۔جبکہ اس دوران اقلیتوں کی آبادی میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہے اور ان کی بستیاں بھی بڑھی ہیں ۔مگر اسمبلی کی نشستوں میں اقلیتوں کے مخصوص کوٹے میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق 25 جولائی کے عام انتخابات کے لیے ملک کی سات بڑی غیر مسلم مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کی تعداد 36 لاکھ 30 ہزار سے زائد ہے، جو گزشتہ انتخابات کی نسبت 30 فیصد زیادہ ہے۔ خاص طور پر ہندو ایک بڑی اقلیت کے طور پر موجود ہیں جن کے ووٹرز کی تعداد 14 لاکھ 90 ہزار ہے جو پاکستان میں موجود غیر مسلموں کے مجموعہ کا تقریبا نصف ہے۔وہ زیادہ تر سندھ میں آباد ہیں۔ یہاں ان کی تعداد 13 لاکھ 90 ہزار ہے، پنجاب میں ہندو ووٹرز کی تعداد 73152، بلوچستان میں 22766، خیبرپختونخوا میں 4022، وفاق کے زیر انتظام میں قبائلی علاقے (فاٹا) میں 586 اور اسلام آباد میں 188 ہے۔
عیسائی پاکستان میں دوسری بڑی اقلیت ہیں جن کی مجموعی رجسٹر ووٹرز کی تعداد 13 لاکھ 20 ہزار ہے، دستاویز کے مطابق پنجاب میں ان کے 10 لاکھ ووٹ موجود ہیں، سندھ میں 209083، اسلام آباد میں 29173، خیبرپختونخوا میں 26814، بلوچستان میں 16279 اور فاٹا میں 1345 ووٹ موجود ہیں۔

 

 

 

پاکستان میںتیسری بڑی اقلیت احمدی یا قادیانی ہیں۔ان کی تعداد 119749 ہے جس میں سے صوبہ پنجاب میں 101156، سندھ میں 14855، اسلام آباد میں 2134، خیبرپختونخوا میں 1140، بلوچستان میں 451 اور فاٹا میں 13 ہیں۔ملک میں سکھ ووٹرز کی مجموعی تعداد 6193ہے جس میں سے خیبرپختونخوا میں 2597، سندھ میں 1477، پنجاب میں 1157، فاٹا میں 730، بلوچستان میں 225 اور اسلام آباد میں 7 ہے۔
اسی طرح پارسیوں کے ووٹرز کی مجموعی تعداد 3743 ہے جس میں سے سندھ میں 2487، خیبرپختونخوا میں 723، پنجاب میں 254، بلوچستان میں 250، فاٹا میں 16 اور اسلام آباد میں 13 ہے۔ جہاں تک بدھ مت کی بات ے تو ان کے ووٹروں کی تعداد 1643 ہے جو زیادہ تر سندھ اور پنجاب میں موجود ہیں۔اس کے علاوہ یہودیوں کے بھی 900 ووٹ پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں۔
خیال رہے کہ 2013 کے عام انتخابات سے قبل کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق، ملک میں 27 لاکھ 70 ہزار غیر مسلم ووٹرز تھے۔حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مطابق سندھ کے اضلاع عمر کورٹ اور تھرپارکر میں سب سے زیادہ 49 فیصد اور 46 فیصد غیر مسلم ووٹر موجود تھے۔عمر کورٹ میں مجموعی طور پر 386924 ووٹرز موجود تھے جن میں 189501 ووٹرز غیر مسلم تھے۔تھر پارکر میں مجموعی طور پر 473189 ووٹرز، جن میں 219342 غیر مسلم تھے۔میرپور خاص میں مجموعی ووٹروں کی تعداد 590035 تھی جبکہ ان میں سے 33 فیصد (192357) غیر مسلم تھے۔ٹنڈو الہیار میں مجموعی ووٹروں کی تعداد 288460 تھی جس میں سے 74954 غیر مسلم تھے۔ٹنڈو محمد خان میں ووٹروں کی تعداد 231522 تھی جبکہ یہاں 39847 غیر مسلم ووٹرز تھے۔مٹیاری میں غیر مسلم ووٹروں کی تعداد 81589 تھی جبکہ یہاں مجموعی ووٹرز کی تعداد 302265 تھے۔کراچی (جنوبی) میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 1070321 تھی جس میں سے غیر مسلم ووٹرز کی تعداد 81589 تھی۔گوٹھکی اور حیدرآباد میں غیر مسلم ووٹروں کی تعداد 41031 اور 62343 تھی جبکہ یہاں مجموعی ووٹرز کی تعداد بل ترتیب 571636 اور 928236 تھی۔ادھر صوبہ پنجاب کے اضلاع چنیوٹ اور لاہور میں غیر مسلم ووٹروں کی تعداد 35335 اور 247827 تھی جبکہ یہاں مجموعی ووٹرز کی تعداد بل ترتیب 604991 اور 4424314 تھی۔سندھ کے اضلاع جامشورو اور کشمور میں غیر مسلم ووٹرز کی تعداد 18912 اور 17495 تھی جبکہ یہاں مجموعی ووٹرز کی تعداد بل ترتیب 373097 اور 355904 تھی۔
واضح رہے کہ 2013 کے عام اتنخابات سے قبل غیر مسلم رجسٹر ووٹرز کی مجموعی تعداد 27 لاکھ 70 ہزار تھی جس میں سے 14 لاکھ ہندو، 12 لاکھ 30 ہزار عیسائی، 115966 احمدی، 5934 سکھ، 3650 پارسی، 1452 بدھ مت اور 809 یہودی تھے۔یہودیوں اور پارسیوں میں خواتین ووٹرز کی تعداد مرد ووٹرز سے زیادہ تھی۔1915 پارسی خواتین ووٹرز کے مقابلے میں پارسی مرد ووٹرز کی تعداد 1735 تھی۔جبکہ 427 یہودی خواتین ووٹرز کے مقابلے میں 382 یہودی مرد ووٹ کیلئے رجسٹر تھے۔
اتنی بڑی آبادی کو کسی بھی ملک میں نظر انداز کرنا مشکل ہے ۔اگر حکومت انہیں ایوان میںمناسب نمائندگی نہیں دیتی ہے تو یقینا یہ افسوس کا مقام ہے ۔جہاںتک وہاں کے عوام کی نفیسات اور ذہنیت کی بات ہے تو الیکشن 2018 میں مسلم اکثریت والے حلقے سے تین ہندو امیدواروں کا جیتنا اس بات کو دکھاتا ہے کہ عوام میں تفریق نہیں ہے ۔اگر نمائندہ مناسب اور اہل ہو تو وہ ہندو کو بھی منتخب کرکے ایوان میں بھیج سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *