شیلٹر ہومزکے شرمناک واقعات :دم توڑ رہی ہے انسانیت

ہمارے ملک میںکچھ حالات ایسے بن جاتے ہیں جن کے پیچھے کوئی دلیل نہیں ہوتی لیکن حالات بن جاتے ہیں جیسے میںجب سے رپورٹنگ کر رہا ہوں، دیکھتا ہوںکہ اگر کہیںبڑی ڈکیتی کی واردات ہوجاتی ہے تو پھر اچانک ڈکیتیوں سے جڑ ے واقعات کا سیلاب آجاتا ہے۔ کہیں زنا بالجبر ہوگیا تو پھر زنا بالجبر کی خبریں سب سے زیادہ اخباروں میںچھپنے لگتی ہیں اور ٹیلی ویژن پر دکھائی دینے لگتی ہیں۔ اگر کہیںسے بدعنوانی کی خبر آتی ہے تو اچانک بدعنوانی کی کئی خبریں سامنے آجاتی ہیں۔ ان دنوں دور ہے سرکار کے ذریعہ دی گئی اجازت کی بنیاد پر رضاکار اداروںکے ذریعہ چلائے جار ہے گرل شیلٹر ہومزکا۔ وہ لڑکیاںجو یتیم ہیں، وہ لڑکیاں جو ویشیا گھروں سے چھڑائی گئی ہیںیا وہ لڑکیاں جنھیںاغوا ہونے پر پولیس کے ذریعہ چھڑانے کے بعد انھیںان کے گھر والوں نے واپس لینے سے منع کردیا، وہ سب ان شیلٹرہومز میںرہتی ہیں۔ اب اسے لے کر ایسی خبریں آرہی ہیںکہ یہ شیلٹر ہومز،ان میں رہنے والی لڑکیوںکے لیے دوزخ ہیں۔ دوزخ اس لیے کیونکہ ان شیلٹر ہومز کو چلانے والے لوگ وہاں رہنے والی لڑکیوں کا جسمانی استحصال کر تے ہیں اور صرف خود ہی نہیںکرتے، ضلع کے طاقتور لوگوںکے سامنے بھی پروستے ہیں۔ یہ اتنا خوفناک ہے کہ اس کے بارے میںہمیںتھوڑی بات چیت کرنی چاہیے۔

 

 

 

 

جب ایسے واقعات کا سیلاب آجاتا ہے تو پچھلے واقعات اچانک بھلا دیے جاتے ہیں اور فوری موضوع پر ہی لوگوںکا دھیان اٹک جاتا ہے۔ تھوڑے دنوںبعد کچھ اور ہوگا، تو یہ بھی بھلادیے جائیںگے۔ لیکن سوال دوسرا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورت حال ظاہر نہیںکرتی کہ ہمارے ملک میںنہ سرکار کام کر رہی ہے، نہ عوامی نمائندے کام کررہے ہیں، نہ نوکر شاہ کام کررہے ہیں اور نہ ہی عوام کام کر رہے ہیں۔ کسی بھی محلے میںاگر شیلٹر ہوم ہو، وہاں بچیوںکا جنسی استحصال ہو رہا ہو اور وہاں بڑی بڑی گاڑیاںآتی ہوں،تو بھیڑ بھاڑ والے علاقے کے لوگوںکو فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ یہاںکچھ غلط ہورہا ہے۔ لیکن کوئی بھی اس کی رپورٹ نہیںکرتا اور کوئی اگر گمنام رپورٹ کرتا بھی ہے تو ضلع افسر اس کی سنوائی نہیں کرتے ہیں۔ دراصل ضلع کے افسر بھی اس میںحصہ دار ہوتے ہیں۔
اب اس میںکوئی دورائے نہیںہے کہ ہمارا سارا نظام اور ہمارا سماج سڑا ند کی اس حالت میںپہنچ رہا ہے جہاںپر ہمیںانسانیت کا نام بھول جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کسی بھی مذہب کے لوگ ہوں، تقریباً سبھی اس کیچڑ میںسنے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس پاپ- پنیہ کے جرم میںمذہب کی مالا جپنے والے لوگ بھی اچھوتے نہیںہیں۔ مذہب انسان کو انسانیت سکھانے کا سب سے اچھا ذریعہ ہے لیکن مذہب ہی غیر انسانیت کی کالی چادر کو سماج میںپھیلا رہا ہے۔ اس کالی چادر کے نیچے سے بہت سارے لوگ نکلے ہیں جو اس وقت جیل میںہیں لیکن بہت سارے باہر ہیں، جو اقتدار کے نزدیک ہیں، خواہ وہ اقتدار کسی بھی پارٹی کا ہو۔ جو لوگ پیسے کے دم پر سب کا منہ بند ر کھتے ہیں، وہ آج سماج میںاس انسانی استحصال کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔
سب سے بڑا افسوس سماج کو لے کر ہوتا ہے۔ اب سماج میں کوئی واچ مین نہیں ہے، کوئی رہنما نہیںہے ، کوئی تنبیہ کرنے والا نہیںہے اور نہ ہی کوئی راستہ دکھانے والا ہے۔ سماج حصہ حصہ ہوکر افراتفری کے دور میںپہنچ چکا ہے اور یہ افراتفری بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس افراتفری سے کسی کو کسی قسم کا کوئی فرق نہیںپڑ رہا ہے۔ کوئی اس سے فکر مند نہیںہورہا ہے۔ لڑکی کی حفاظت کا جرم ہو یا پڑوسی پر ظلم ہو یا سماج کے شہ زوروں کا اقتدار میںداخلہ ہو،اب کسی کو ان سب سے کوئی فرق نہیںپڑتاہے۔ لوگوںکا سوچنا ہے کہ دوسرا بولے،ہم کیوں بولیں؟ ا س کی وجہ سے زندگی شرمسار ہو رہی ہے اور انسانیت ناپید ہونے کے راستے پر چل پڑی ہے۔ اس میںوہ سب ناپید ہوگئے ہیں، جنھوںنے سماج سدھار کا پاک کام اپنے کندھے پرلے رکھا ہے۔
حکومت رضاکار تنظیموںکو گرانٹ دیتی ہے، ان کی نگرانی کرتی ہے۔ سرکاری اجازت کے بغیر کوئی رضاکار تنظیم شیلٹر ہوم نہیںچلاسکتی۔ پھر یہ تعجب کی بات ہے کہ ان شیلٹر ہومز میںایسی سرگرمیاںکیسے ہورہی ہیں؟ بغیر سرکاری افسروںکی ملی بھگت کے تو یہ سب ہو نہیںسکتا۔ جب کوئی ایسا کیس پکڑا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری کوئی نہیںلیتا۔ ایک چھوٹی سی جانچ کمیٹی بٹھادی جاتی ہے ۔

 

 

 

 

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جب سبھی شیلٹرہومز کی جانچ کرانی شروع کی تو کئی طرح کے قصے سامنے آرہے ہیں۔ 30 لڑکیوںکی لسٹ ہے لیکن وہاںصرف پانچ ہیں۔ باقی اڑوس پڑوس کے لوگوںکے نام اس لیے لکھ دیے گئے ہیںتاکہ ان کی گرانٹ بڑھتی رہے۔ کئی جگہوںپر تو سبھی لڑکیاں غائب ہیں اور ان کا غائب ہونا کسی کے لیے تشویش کی بات نہیںہے۔ کئی جگہوںپر لڑ کیوںنے کہا کہ ہمارے یہاںسے کئی لڑکیاںبیرون ملک بھیج دی گئیں یا بیچ دی گئی ہیں۔ کیا سچائی ہے، پتہ نہیں؟ لیکن مقامی لوگ ابھی کیوںنہیںکہہ رہے ہیںکہ ہمیںاس واقعہ کے بارے میںپتہ تھا لیکن ہم نے وقت پر کسی کو نہیںبتایا۔ کہیںپر بھی ان رضاکار تنظیموں کی سرگرمیوںکے خلاف آواز نہیںاٹھ رہی ہے اور ان رضاکار تنظیموںکے لوگوںکو بھی کوئی شرم نہیںہے۔
بہار کے واقعہ نے سارے ملک کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ محکمہ جاتی وزیر کا استعفیٰ ہوا، کیونکہ ا س وزیر کا شوہر اس عمل میںشامل ہوتا پکڑ میںآیالیکن یہ ہوا صحافیوںکی وجہ سے۔ سرکار کو ملک کے سارے رضاکار اداروںکے ذریعہ چلائے جارہے ان مراکز کی فوراً جانچ کرانی چاہیے، جن مراکز کا رشتہ لڑکیوںسے ہے۔ یہ ویسے ہی بد قسمتی کی ماری ہوئی ہیں۔ انھیںکہیںسے بہلا پھسلاکر جسمانی خرید و فروخت کے دھندے میںڈال دیا گیا۔ کچھ کو لوگ پیار میںبھگا لے آئے اور پھر چھوڑ دیا، بیچ دیا۔ کچھ ایسی ہیںجو گھر کے مظالم سے گھبراکر بھاگ کھڑی ہوئیں اور غیر سماجی عناصر کے چنگل میںپھنس گئیں اور کچھ ایسی بھی ہیںجو گلیمرس نوکری کے لالچ میںگھر سے باہر بھاگیں اور غیر سماجی عناصر کے جال میںپھنس گئیں۔ اسے دیکھتے ہوئے کیا ضروری نہیں ہے کہ عوام کھڑے ہوکر آواز اٹھائیں اور سرکاری افسروںکو اس کی جانکاری دیں۔ دوسری طرف، کیا حکومت کی یہ ذمہ داری نہیںہے کہ ان افسروںکے خلاف کارروائی کرے، جن کی ناک کے نیچے یہ سب ہورہا ہے۔ اسے کون کرے گا؟
شاید یہ سب کوئی نہیںکرے گا اور سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا کیونکہ ہم اس سماج میںجی رہے ہیں جو دھیرے دھیرے مر رہا ہے،جو سماج کے نام پر اپنی پہچان کھو رہا ہے۔ کسی کا قتل ہوجائے، کوئی نہیںبولتا۔ کسی کا اغوا ہوجائے، کوئی نہیںبولتا۔ کوئی روٹی کے بغیر بھوکا مر جائے، کوئی نہیںبولتا، کوئی دوا کے بغیر مر جائے، کوئی نہیںبولتا۔ حکومت تو اپنی ذمہ داری بھول ہی رہی ہے لیکن سماج کے لوگ جو آج سے کئی دہائی پہلے مدد کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاتے تھے، وہ سب بھی اب اپنا ہاتھ نہیںبرھاتے ہیں۔ ایسا نہیںکہ ہر جگہ ایسا ہی ہے لیکن پھر بھی ان چند صحیح لوگوںکو ہمیںاستثناء ہی ماننا چاہیے کیونکہ زیادہ تر ایسے لوگ ہیںجو اپنا فرض بھولتے جارہے ہیں۔ یہ صورت حال اتنی افسوسناک ہے کہ جب تک اس کا اثر خود کے گھر پر نہیںپڑے گا، تب تک لوگ خبردار ہوں گے نہیں ، سوچیںگے نہیں اور جاگیںگے نہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *