سرکاری اقلیتی اداروںکی اندیکھی کا بڑھتا رجحان تشویشناک

گرچہ فی الوقت مرکزی سطح پر قومی اقلیتی کمیشن ، نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن ، سینٹرل حج کمیٹی اور سینٹرل وقف کونسل جیسے سرکاری اقلیتی اداروںکوسربراہان حاصل ہیں مگر نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی) ہنوز بغیر کسی سربراہ کے ہے۔ دسمبر 2014 سے اس اہم و ذمہ دار قومی اقلیتی ادارے کا کوئی بھی چیئرمین نہیں ہے۔ ایک برس قبل جولائی 2017 میںدہلی ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجودخود اسی کے الفاظ میں یہ ’انتہائی اہم ‘ عہدہ خالی ہے۔ لہٰذا ’’برائے کرم اس تقرری کو جلد ازجلد یقینی بنائیے۔‘‘ مذکورہ بالا ہدایت اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر پر مبنی دو رکنی بینچ نے دی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اپنی دو مدت پوری کرنے کے بعد این سی ایم ای آئی کے اولین چیئرمین جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی نریندر مودی کے برسراقتدار ہونے کے چند ماہ بعد دسمبر 2014 ریٹائر ہوگئے تھے اور بعد ازاں ان کے جانشین کا یہ سرکاری قومی اقلیتی ادارہ ہنوز منتظر ہے۔ اس لحاظ سے اس ’انتہائی اہم‘ عہدے کا خالی رہنا تشویشناک ہے کہ یہ اقلیتوںکے تعلیمی اداروں سے متعلق ہے اور جن کا سیدھا تعلق اقلیتوںسے ہے۔
یہ تو رہی صورت حال قومی سطح کی، ریاستی سطحوں پر تو سرکاری اقلیتی اداروںکی حالت اور بھی زیادہ ابتر ہے۔ کہیں کسی ادارے کا سربراہ نہیںہے تو کہیںان میںسے بعض اقلیتی ادرے ہنوز وجود میںآنے ہیں۔ ریاست بہار میںفی الوقت اقلیتی اداروں میںسے بعض کی حالت بھی کم و بیش یہی ہے۔ ریاستی اقلیتی کمیشن کا ادھر کوئی سربراہ نہیں ہے۔ یہی حال مہاراشٹر کا ہے۔

 

 

بہار سے کٹ کر 18 اضلاع کے ساتھ 15 نومبر 2000 کو وجود میںآئی ریاست جھارکھنڈ بھی اسی کیفیت کا شکار ہے بلکہ اس لحاظ سے اس کی حالت اور بھی زیادہ خراب ہے کہ ریاست کی تشکیل کے وقت پہلے سے موجود تمام سرکاری اقلیتی اداروں سے غیر منقسم ریاست کا یہ علاقہ بھی مستفیض ہورہا تھا مگر ایک الگ ریاست بننے کے بعد بعض سرکاری اقلیتی اداروںسے یہ ابھی بھی محروم ہے۔ یہاں 17 برس بعد بھی فی الوقت کوئی وقف بورڈ، اردو اکادمی اور مدر سہ بورڈ موجود نہیں ہے ۔ اقلیتوں کے زبردست مطالبے کے بعد ریاستی اقلیتی کمیشن گزشتہ برس تشکیل پایا جبکہ چند ہفتوں قبل حج کمیٹی بنائی گئی۔
گزشتہ 17 برس سے زائد عرصے میںریاست میںدس وزارائے اعلیٰ جن میںسے 4جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور 5م بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے تھے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ رگھوور داس، جن کا تعلق بھی بی جے پی سے ہے، آئندہ برس اپنی مدت کارپوری کریںگے۔ انھوںنے گزشتہ برس اردو اکادمی کی تشکیل کے تعلق سے یقینی دہانی کرائی تھی مگر ہنوز کچھ بھی نہیںہوا۔ رانچی یونیورسٹی کے سابق سربراہ اردو ڈپارٹمنٹ اور سابق ڈین ہیومنیٹیز ڈاکٹر احمد سجاد کی یہ شکایت صحیح ہے کہ جو زبان غیر منقسم ریاست بہار کی ایک سرکاری زبان تھی، وہ بھی تقسیم ریاست کے بعد اپنی اکادمی (اردو اکادمی) تک سے محروم ہے۔
جھار کھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود 17 برسوںسے یہاںاسکولوں میںاردو اساتذہ کی تقرری ہی نہیںہوئی ہے۔ ڈاکٹر سجاد جو کہ انجمن ترقی اردو کی مجلس عاملہ کے رکن بھی ہیں، کی یہ بھی شکایت ہے کہ ریاست کے اسکولوںمیںچار ہزار اردو اساتذہ کی اسامیاںخالی ہیں اور ہائی کورٹ بھی ان کی بحالی کا حکم صادر کر چکا ہے مگر اس کے باوجود حکومت کی اس جانب کوئی توجہ نہیںہے ۔ عجب بات تو یہ ہے کہ اس دوران دیگر سبجیکٹس کے اساتذہ کی بحالی ہوئی ہے مگر سوتیلا پن کا برتاؤ تو اردو ہی کے ساتھ ہے جس کے سبب اقلیتی و اردو کمیونٹی کے طلباء بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور اپنی مادری زبان میںتعلیم حاصل نہیںکر پارہے ہیں۔ یونیورسٹی کی سطح پر بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ رانچی یونیورسٹی میںگزشتہ دس برسوں سے کوئی اردو اساتذہ نہیں آیا ہے سوائے اس کے کہ ایوننگ شفٹ کے لیے اردو کے چند کنٹریکچوئل اساتذہ بحال کیے گئے۔

 

 

 

ریاست جھارکھنڈ میںابھی تک مدرسہ بورڈ بھی قائم نہیں ہوا ہے جس کے سبب مدرسہ کی تعلیم سے متعلق کسی بھی کام کے لیے سیدھا جھارکھنڈ اکادمک کونسل کا رخ کرنا پڑتا ہے اور وہاںدیگر مصروفیات کے چلتے متعلقہ مسائل لمبے عرصے تک لٹکے رہتے ہیں۔ ’ مائنارٹی ویلفیئر‘ کے نام سے یہاںکوئی ادارہ نہیںپایا جاتا ہے۔ وقف بورڈ کا بھی کوئی چیئرمین نہیںہے۔ یہ ڈیفنکٹ پڑا ہوا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے ذریعہ قائم کردہ بری حالت میںچل رہا 100 سالہ مدرسہ اسلامیہ بھی حکومت کی توجہ کا محتاج ہے۔
ریاست جھارکھنڈ میں2011 کی مردم شماری کے مطابق 14.53 مسلم آبادی ہے۔ یہ اس ریاست کی اقلیتوںمیںسب سے بڑی آبادی ہے۔ یہ مختلف سرکاری اقلیتی اداروںکے تئیں حکومت کے سوتیلے رویے کے سبب بری طرح متاثر ہے۔ یہاں دو مسلمان گورنر رہے۔ ایک سید سبط رضی تو دوسرے سید احمد مگر ان دونوںکی بھی نظر عنایت ان ایشوز کی جانب نہیںگئی۔ سر کاری اقلیتی اداروںکے تئیںمختلف حکومتوںکی مرکزی و ریاستی سطحوں پر اندیکھی مستقل بڑھتی ہی جارہی ہے جو کہ بہت ہی افسوسناک ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ کسی بھی جمہوری ملک کے لیے اقلیتیں بڑی اہم ہوتی ہیں۔ ہندوستان کے آئینی رو سے بھی انھیںبڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے تحفظ ، سلامتی ، فلاح اور ہمہ جہت امپاورمنٹ کی ہر طر ح سے یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ انھیںآئین ہند کے تحت اپنے اقلیتی ادارے قائم کرنے اور ا نھیںچلانے کا اختیار حاصل ہے۔ تبھی تو 2004 سے ہی این سی ایم ای آئی قائم ہے، جس کا کام ہی یہی ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے مفادات کی نگرانی کرے اور انھیں آگے بڑھانے میں معاون و مددگار ثابت ہو۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ تقریباً چار برسوںسے بغیر سربراہ کے یہ قومی اقلیتی ادارہ کمزور بنا ہوا ہے جس کے سبب متعدد اقلیتی تعلیمی اداروں پر ٹھیک سے توجہ نہیںدی جارہی ہے۔ توقع ہے کہ مرکزی و ریاستی سطحوں پر اس جانب توجہ دی جائے گی تاکہ ملک کی اقلیتیں دیگر کمیونٹیز کی مانند ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *