پریس کی آزادی کا مسئلہ عالمی ہے

ڈونالڈ ٹرمپ نے طویل عرصے سے جاری نیوز میڈیا پر اپنے حملوںکو تھوڑی تیزی دے دی ہے۔ گزشتہ دنوں ریپبلکن امیدوار کی حمایت میںکیے گئے اپنے خطاب کے زیادہ ترحصے میںوہ ’فیک نیوز‘ پر لعنت ملامت بھیجتے رہے۔ جولائی کے آخر میں ’دی نیویارک ٹائمز‘ کے پبلیشر کے ساتھ عوامی تنازعہ کے بعد انھوںنے ٹویٹ کیا تھا کہ ’’ ہماری سرکار کی اندرونی مشاورت ‘‘پر رپورٹ کرتے وقت صحافی ملک کے مفاد کا دھیان نہیںرکھتے ہیں۔ اس سے پہلے سابق فوجیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انھوںنے کہا تھا ، ’’ان لوگوں (صحافیوں) کی بکواس پر بھروسہ نہ کریں، یہ فیک نیوز دیتے ہیں۔ آپ جو دیکھ یا پڑھ رہے ہیں، وہ جھوٹ ہے۔ ‘‘
اس طرح کے نفرت انگیز اور دوہرے معیار والے بیان ان کے حامیوںکو تو مطمئن رکھ سکتے ہیں لیکن صحافیوںکو دھمکانے کی کوششوں یا کبھی کبھی اپنی پسندیدہ میڈیا کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی ابھی تک کارگر ثابت نہیں ہو سکی ہے، کیونکہ وہائٹ ہاؤس میں ان کے کام کاج اور ان کی انتخابی مہم میں روس کے رشتے سے متلعق نقصاندہ خلاصے روز خبروں میںدکھائی دے رہے ہیں۔
جن ملکوں میںآزاد پریس کو دبا کر رکھا گیا ہے،وہاں ایسی چیزیں دکھائی نہیں دیتیں۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان (جن کے ٹرمپ پرستار ہیں)میڈیا کو توڑنے اور اسے تحویل میںلینے کے لیے سرکاری مشینری کا استعمال کر رہے ہیں۔ پچھلے چھ سالوں میںتجارتی دنیا کے ان کے ساتھیوں نے ہنگری کے روز ناموں، ٹی وی چینلوں، نیوز ویب سائٹوں اور سیاسی ہفت روزوں پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اسی طرح ترکی میں اپوزیشن اخباروں کو تحویل میںکرنے کے لیے صدر طیب اردوغان اپنے سرکاری ساتھیوں کی مدد کر رہے ہیں۔ وہیں’کمٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلزم‘ کے مطابق 2016 میںترکی میںتختہ پلٹ کی ناکام کوشش کے بعد 120 صحافیوںکو جیل میںڈالا گیا تھا۔ ان میںسے 81 ابھی تک جیلوں میںقید ہیں۔ اس سال وینیجولا، کینیا، مصر اور فلپینس میںپریس کی آزادی پر سرکاری کارروائی ہوئی ہے۔ چین لگاتار پریس سینسر شپ پر شکنجہ بنائے ہوئے ہے۔ روس میںدو چار بچے کھچے آزاد میڈیا آؤٹ لیٹ کسی طرح اپنا وجود بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عام حالات میںکوئی بھی امریکی انتظامیہ ان حالات سے نمٹنے کے طریقے تلاش کرتا ۔ ایک طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ خارجہ محکمے کے ایسے پروگراموں کا بجٹ بڑھایا جاتا، جس کے ذریعہ وہ طویل عرصے پریس پر کنٹرول کرنے والے ملکوں میں پریس کی آزادی کو فروغ دینے اور صحیح جانکار ی دینے کا نازک کام کرتا رہا ہے۔ بنیادی طور پر اس میں دو طرح کے پروگرام ہیں۔ پہلا، براڈ کاسٹ بورڈ آف گورنرز کی سرپرستی میںکام کرنے والے سرکاری فنڈنگ والے اداروںجیسے وائس آف امریکہ اور ریڈیو فری ایشا کے ذریعہ بھاری پریس سینسر شپ والے ملکوںمیںخبروں کی براہ راست نشریات ۔ دوسرے، یو ایس ایڈ کے ذریعہ انٹر نیوز اور آئی آر آئی ایکس جیسے مختلف غیر منافع بخش اداروں کو گرانٹ دینا۔ یہ ادارے سینسر شپ والے ملکوںمیںمقامی میڈیا آؤٹ لیٹ تیار کرنے میںمدد کرتے ہیں۔
یہ تعجب کی بات نہیںتھی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2018 میں یو ایس اے آئی ڈی اور براڈ کاسٹ بورڈ آف گورنرز دونوں کی فنڈنگ میںکٹوتی کی تجویز رکھی تھی۔ حالانکہ فروری میںکانگریس نے ڈیموکریٹ اور ریپبلکن کی حمایت سے پرانے بجٹ کو بحال رکھالیکن ٹرمپ انتظامیہ نے 2019 میںبھی ان دونوںاداروں کے بجٹ میںکٹوتی کی تجویز رکھنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ اگر اس بار بھی کانگریس ان کٹوتیوں پر اپنی مہر لگانے سے انکار کردیتی ہے تب بھی یہ نہیں کہا جاسکتاہے کہ ان دونوں اداروں کے بجٹ میںکوئی اضافہ ہوگا۔
اگر امریکی سرکار بین الاقوامی سطح پر آزاد پریس کے تحفظ میںکوئی بڑا کردار نہیں ادا کرتی ہے تو امریکہ کا ایک شعبہ جو اس کمی کی بھرپائی کرسکتا ہے، وہ ہے امریکی اعلیٰ تعلیم کا۔ حالانکہ یہ ناممکن سا لگ سکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بیرونی ملکوں میںصحافیوں کی حمایت کی کچھ سب سے سرگرم کوشش امر یکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میںصحافتی اسکولوں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ یہ کام خاص طور سے کولمبیایونیورسٹی، نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سردن کیلی فورنیا، ویسٹرن کینٹکی یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف میسوری کر رہی ہیں۔ یہ ادارے انٹر نیشنل اسٹوڈنٹس کا خاص خیال رکھتے ہیں اور انھیں مالی امداد یا فیلو شپ بھی فراہم کرتے ہیں۔

 

ہندو پاک کی ذہنی کیفیت میںکوئی فرق نہیں ہے

 

اس شعبے میںسب سے مؤثر پروگراموںمیںسے ایک ہے الفریڈ فرینڈلی پریس پارٹنرز (اے ایف پی پی) ، جو میسوری اسکول آف جرنلزم کے ساتھ منسلک ہے۔ واشنگٹن پوسٹر کے پلٹزر ایوارڈ فاتح پورٹر الفریڈ فرینڈلی کے ذریعہ 1983 میںقائم ادارہ اے ایف پی پی صحافیوں کو امریکہ لاتا ہے انھیںمیسوری – کولمبیا یونیورسٹی میںتربیت دی جاتی ہے اور نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، سینٹ لوئس پوسٹ ڈسپیچ، میامی ہیرالڈ، لاس اینجلس ٹائمز، ٹائم ، ہفنگٹن پوسٹ، فوربس، سینٹر فار پبلک انٹیگریٹی اور پروبلکیا جیسے ملک بھر کے اخبارات میں پانچ مہینے کا پلیسمنٹ دیا جاتا ہے۔
اے ایف پی پی کے زیادہ تر فیلوز پر گھر واپسی کے بعد بھی صحافت کے پیشے سے جڑے رہتے ہیں۔ ان میںسے کچھ ایڈیٹر بنتے ہیں، کچھ سرکاری افسر اور کچھ نئے ادارے قائم کرتے ہیں۔ ان کا ٹریک ریکارڈ جتنا اثر دار ہے، اتنی ہی مؤثر ان کی کہانیاںبھی ہیں۔
لبنان کی صحافی عالیہ ابراہیم 2002 میںواشنگٹن پوسٹ میںالفریڈ فرینڈلی فیلو تھیں۔ اس دوران ان کا اسائمنٹ تھا 11 ستمبر کے حملوںمیںزندہ بچے لوگوں سے انٹرویو کرنا۔ ایک نوجوان عرب خاتون کے لیے یہ ایک مشکل اسائمنٹ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ان کے اندر کی جو صحافی فیلو شپ پر امریکہ گئی تھی، اس کا اعتماد وہاںسے واپس آئی صحافی سے بہت کم تھا۔ لبنان واپس لوٹنے کے بعد انھوںنے اس علاقے کی کچھ بڑی اسٹوریز کو کور کیا۔ ان اسٹوریز میںٹیونیشیا میںعرب اسپرنگ سے لے کر یمن اور شام میںخانہ جنگی تک کے واقعات شامل ہیں۔ پہلے انھوںنے بیروت میںڈیلی اسٹار اخبار میںمنیجنگ ایڈیٹر کے طور پر کام کیا اور پھر انٹر نیشنل ٹی وی نیٹ ورک العربیہ کے لیے آن ایئر نامہ نگار کا رول اداکیا۔ 2012 میںفری سیرین آرمی کے ذریعہ کنٹرول شدہ علاقے سے رپورٹ کرتے وقت باغیوںکو لگا کہ ان کی کوریج سے ان پر بحران آسکتا ہے تو باغیوں نے عالیہ ابراہیم کے خلاف ایک فتویٰ جاری کیا، جس کی وجہ سے انھیں وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ جب وہ وہاں نہیںجاسکیںتو انھوں نے شام جانے والے صحافیوںکو تربیت دینی شروع کی اور واشنگٹن پوسٹ میںصحافت کے جو ہنر سیکھے تھے، انھیںدوسروںکو سکھایا۔
پاکستانی انویسٹیگیٹو جرنلسٹ عمر چیما نے ڈینیل پرل فیلو کے طور پر 2008 میںاے ایف پی پی کے ساتھ اپنی مدت کار کے دوران نیویارک ٹائمز میںکام کیا تھا۔ پاکستان واپسی کے بعد سرکارکے خلاف ان کی رپورٹنگ کے سبب انھیں اغوا کیا گیااور ان پر ظلم و ستم کیے گئے۔ انھیںرپورٹنگ کرنے سے روکا گیا لیکن اس کے باوجود انھوںنے 2011 میںسینٹر فار انویسٹیگیٹو رپورٹنگ اِن پاکستان کا قیام کیا۔ اس سینٹر سے اپنی پہلی رپورٹ میںانھوں نے خلاصہ کیا کہ صدر آصف زرداری سمیت تقریباً 70 اراکین پارلیمنٹ نے 2011 میںاپنے انکم ٹیکس ریٹرن نہیںکیے تھے۔ اس بلاک بسٹر رپورٹ کا انجام یہ ہوا کہ سرکار کو قانون پاس کرنا پڑا ، جس کے تحت ہر ایک ریٹرن فائل کرنے والے کا نام عام کیا جائے گا ۔ سویڈن، فن لینڈ اور ناروے کے بعدایسے قانون بنانے والاپاکستان چوتھا ملک بنا۔ چیما اپنی کامیابی کا بہت سارا کریڈٹ امریکہ کو دیتے ہیں۔

 

 

ہندو پاک کی ذہنی کیفیت میںکوئی فرق نہیں ہے

 

جب شکاگو ٹریبیون میںالفریڈ فرینڈلی فیلو شپ کے لیے 1990 میں یوگینیا البیٹس روس سے امریکہ آئیںتو انھیںسب سے بڑا جھٹکا امریکی سپر مارکیٹ میں فروخت کے لیے رکھی بے شمار چیزوںکو دیکھ کر لگا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سپر مارکیٹ میںموجود متبادل کو دیکھ کر میںحقیقت میںبے ہوش سی ہو گئی تھی لیکن یہاںسے انھوںنے سب سے اہم سبق اخلاقیات کا سیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ روس میںغیر اخلاقیت سماج کے تانے بان میںشامل ہوگئی ہے۔ اس غیر اخلاقیت کا اظہار جھوٹ اور من گھڑت پرچار تنتر پر مبنی صحافت ہے۔ اپنے الفریڈ فرینڈلی اوریئنٹیشن کے دوران انھوںنے یہ سبق سیکھا کہ ان لوگوںسے تحفے، یہاںتک کہ لنچ بھی ، قبول نہیںکرنا چاہیے، جن پر رپورٹ کرنی ہو۔ وہ کہتی ہیںکہ یہ سننے میںآسان لگتا ہے لیکن حقیقت میںہے نہیں۔ ایماندار صحافت کی شرط ہے کہ کسی بھی طرح کے لالچ سے آزاد رہے، خواہ وہ دولت کا لالچ ہو یا اقتدار کا۔ آج وہ روس کے گنے چنے آزاد پبلی کیشنز میںسے ایک ویکلی دی نیو ٹائمز کی ایڈیٹر ان چیف ہیں۔ اسی طرح کی کہانیاں الفریڈ فرینڈلی پریس پارٹنر شپ جیسے پروگراموں کے زبردست اثر کو ظاہر کرتی ہیں لیکن ان کا زیادہ دارومدار نجی فنڈنگ پر ہے۔ میںنے اور میری بیوی ڈیبی ڈسمین نے گزشتہ دو سالوں سے الفریڈ فرینڈلی فیلو کی فنڈنگ کی ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکی سرکار پریس کی آزادی کی لڑائی کی اگلی قطاروں کے بہادر صحافیوں کی مدد نہیںکر رہی تو امریکی سماجی کارکنوں کو یہ کام ضرور کرنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *