پیارو محبت کے جیتے جاگتے نمونہ تھے اٹل جی

اٹل جی پچھلے کئی برسوں سے لاشعوری کی حالت میں تھے۔ وہ نہ بولتے تھے نہ سنتے تھے، بس انہوں نے جو جیا ہے، جو پایا ہے، جو کرنا چاہا اور جو ادھورا رہ گیا شاید اس کے بارے میں اپنے اندر دماغ میں سوچتے رہتے ہوںگے۔ لاشعوری ایسی حالت ہوتی ہے ، جس میں آدمی بالکل باہر کی دنیا سے کٹ جاتا ہے، اپنے کو الگ کر لیتا ہے اور اپنے اندر کی دنیا میں ہی گردش کرتا رہتاہے۔یہ لاشعوری انہوں نے پانچ سال پہلے اختیار کی یا آٹھ سال پہلے یا دس سال پہلے، اسے لے کر اختلاف ہو سکتا ہے۔لیکن وہ پچھلے آٹھ یا دس سالوں سے یقینی طور سے لاشعوری کی حالت میں تھے۔ لوگ ان کے پاس جاتے تھے، اپنی بات کہتے تھے، انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے تھے، لیکن وہ اپنی کرسی پر بیٹھے خلاء میں دیکھتے رہتے تھے۔ کبھی سامنے ٹیلی ویژن چل رہا ہوتا تھا، تو ٹیلی ویژن کی طرف ہی دیکھتے رہتے تھے۔جب ان کے پاس وزیر اعظم یا وزیر داخلہ جیسے لوگ جاتے تھے، تب شاید ان کی کرسی کا منہ ان کی طرف موڑ دیا جاتا تھا لیکن وہ انہیں بھی ویسے ہی دیکھتے رہتے تھے، جیسے خلاء میں کوئی آدمی خلاء کا مطلب سمجھنے کی کوشش کررہا ہو۔ ان کے لئے بھیڑ کا مطلب، پارٹی کا مطلب یا پھر پریوار کا مطلب ختم ہو گیا تھا۔ وہ تھے بھی اور نہیں بھی تھے۔ وہ سچے سادھو کی طرح لاشعوری کی حالت میں تھے۔
وہ کیا سوچ رہے ہوںگے، کیا سمجھ رہے ہوں گے، کوئی نہیں جان پائے گا۔ شاید انہوں نے یہ حالت اس لئے قبول کی ہوگی کیونکہ انہوں نے جنہیں بنایا ، جنہیں تراشا، جنہیں نئے سماج کے رہنما کی شکل میں مانا، ان میں سے زیادہ تر لوگ ان کی امیدوں پر کھرے نہیں اترے۔ وہ جس طرح کی شخصیت چاہتے تھے، ویسے لوگ آج نہ ان کی پارٹی میں بچے ہیں، نہ ان کے جاننے پہچاننے والوں میں بچے ہیں اور نہ ہی ملک میں بچے ہیں۔ ایک سچے محب انسانیت کے لئے اس سے بڑا اندرونی جھٹکا اور کیا ہو سکتا ہے ۔ شاید اندرون میں وہ ان حالات سے لڑنے کا راستہ تلاش رہے ہوں گے اور جب وہ راستہ انہیں نہیں ملا ہوگا ،تو وہ خاموش ہو گئے ہوں گے۔ اس خاموشی میں بھی ان کی طاقت اتنی بڑھ گئی ہوگی کہ ان سے ملنے آنے والوں کے دل میں گھس کر وہ اس کے تمام خیالات کو جان لیتے ہوں گے۔ زیادہ تر آنے والے کی اندرونی کیفیت کو پڑھ کر انہیں اگر اچھا لگتا ہوتا ، تو شاید وہ واپس آنے کی کوشش بھی کرتے لیکن جب انہیں لگا ہوگا کہ ان سے ملنے کے لئے آنے والا ہر کوئی ایک عارضی اور نقلی احترام کا جذبہ دے کر جارہاہے،اس کے دل میں کچھ اور چل رہا ہے، کچھ اور توقعات پل رہی ہیں اور وہ ان کے سامنے جنٹل مین بننے کی اداکاری کررہا ہے ، تب شاید وہ اپنے میں اور زیادہ دُکھی ہو جاتے ہوںگے۔ اس وجہ سے شاید ان کے اندر وہ پودا ہی نمو نہیں ہوا اور وہ توقعات ہی ترسیل نہیں ہوئی، جو انہیں اس دنیا میں واپس لانے کی تحریک دیتی ۔

 

 

 

اٹل جی نے بہتوں کو بنایا، اپنے لئے پیٹرن مقرر کئے، اپنے لئے اقدار کی تعمیر کی،خود اس پر چلے اور اپنے ساتھیوں کو اس پر چلتے دیکھنا چاہتے تھے لیکن جیساکہ اکثر اس بیچ میں ہوتا ہے کہ جو آپ کا سب سے نزدیکی ساتھی ہوتا ہے یا آپ کے جو عزیز شاگرد ہوتے ہیں، و ہی آپ کی باتوں کو آگے نہیں بڑھا پاتے ہیں ۔و ہی آپ کے آدرشوں پر قائم نہیں رہ پاتے ہیں،وہی آپ کے انسانی اقدار کو نہیں سمجھ پاتے ہیں۔ ایسا کس کے ساتھ نہیں ہوا۔ ایسا بھگوان مہاویر کے ساتھ ہوا، بھگوان بودھ کے ساتھ ہوا، مہاتما گاندھی کے ساتھ ہوا، جے پرکاش نارائن کے ساتھ ہوا، تو پھر یہ اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ کیوں نہیں ہوتا؟ اٹل بہاری واجپئی زیادہ جذباتی آدمی تھے، جو لوگوں کی برائیوں کو دور کرنے میں اور لوگوں کو صحیح راستے پر لے جانے میں اپنے مکمل تجربات کو لگانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔لیکن جب انہیں ایسا لگا کہ کوئی اس راستے پر چل ہی نہیں سکتا ہے ، تو انہیں کتنا دُکھ ہوا ہوگا ،اس کا اندازہ صرف جذباتی دماغ کے آدمی ہی لگا سکتے ہیں۔ سیاست میں پڑے ہوئے سخت ، بے رحم اور ظالم سیاست داں اس درد اور تکلیف کو سمجھ ہی نہیں سکتے ۔
اٹل جی ہندوستان کی سیاست میں آئی بہت ساری برائیوں اوربرے اثرات کو اپنی زندگی میں ہی دیکھ چکے تھے۔ وہ جب لاشعوری کی حالت میں نہیں گئے تھے، اس کے پہلے بھی وہ ان کی مخالفت کرنے کی قوت ارادی ختم کر چکے تھے۔ شاید اس لئے کہ انہوں نے ہندوستان کا مستقبل دیکھ لیا تھاکہ ہندوستان کا اصلی مستقبل کچھ اور ہے اور ہندوستان کا نقلی مستقبل دوسرا ہے۔ انہیں ہندوستان کے عام لوگوں کے اندر چل رہے بدلائو کا بھی احساس ہو گیا ہوگا۔انہیں عام لوگوں میں گرتے ہوئے انسانی اقدار کا بھی یقینا احساس ہوا ہوگا۔ اٹل جی نے اپنی زندگی میں جن معیارات کو قائم کیا، جن امکانات کو دیکھا یا جن کامیاب ہوئے امکانات کی نظیر کئی بار دیکھا، وہ سب ان کی لاشعوری سے پہلے بیکار ہوتی ہوئی نظر آئی ہوںگی۔ اٹل جی کو کتنا دکھ ہوا ہوگا۔کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔یہ شاید صرف اٹل جی ہی سمجھ سکتے تھے۔ اسی لئے اٹل جی خاموش ہو گئے اور لاشعوری کی حالت میں چلے گئے۔ انہوں نے اس باہری دنیا سے ناطہ توڑ کر اپنے اندرکی دنیا کو ہی اپنے رہنے، کھانے، گھومنے، بات کرنے کا آشیانہ بنا لیا۔ اگر کہیں ایشور رہا ہوگا، تو لاشعوری کی حالت میں جانے کے بعد اٹل جی ایشور کو ہی اپنی کویتائیں سناتے ہوںگے۔ ایشور سے ہی بات کرتے ہوں گے، بحث و مباحثے کرتے ہوںگے۔شاید وہ ایشور کو بھی قائل کرتے ہوں گے کہ اس نے ایسی دنیا کس مقصد سے بنایا، جس میں بھائی بھائی کا دشمن ہے، پڑوسی پڑوسی کا دشمن ہے اور سچ، عدم تشدد، انسانیت ، بھائی چارے جیسے لفظ اپنا مطلب ختم کر کے صرف لفظی شکل میں ڈکشنری میں رہ گئے ہیں۔ میرا پورا یقین ہے کہ اٹل جی ایشور سے یقینا لڑائی لڑتے ہوں گے اور لاشعوری کی حالت میں ان مہا پرشوں سے بھی لڑتے ہوں گے جن کا ہندو دھرم کے عقیدے کے مطابق پونر جنم نہیں ہوا ہوگا اور وہ کسی ایک جگہ جسے سورگ کہتے ہیں، وہاں پر ہوںگے ۔

 

 

 

کسی بھی مذہب کے بڑے لوگ یا کسی بھی مذہب کے پیشوا یہاں پر ذات پات اور مذاہب میں بٹے ہوئے ہیں،لیکن وہاں لاشعوری کی حالت میں اٹل جی نے سبھی کو کھلکھلاتے ہوئے آپس میں اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کو لے کر بات چیت کرتے ہوئے یقینا دیکھا ہوگا۔ اٹل جی ان سب کو انسانی زندگی کے تضادات کے نقطوں کو سمجھاتے ہوئے، اپنے دل کے اس دُکھ کو بھلانے کی کوشش کرتے ہوںگے،جو دکھ انہوں نے لاشعوری سے پہلے دیکھا ہوگا۔ اٹل جی لاشعوری سے پہلے بھی صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے نہیں تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی انہیں اپنا مانتی تھی، کیونکہ انہیں ان کے نام کا فائدہ ملتا تھا۔ اٹل جی دراصل ملک کے آدمی تھے۔ اٹل جی دراصل انسانیت کے ماڈل تھے۔اٹل جی دراصل پیار اور محبت کے جیتے جاگتے نمونہ تھے۔اٹل جی اس ملک کی امید تھے، جنہوں نے ان سب میں یقین پیدا کیا، جن میں آپس میں ایک ساتھ اعتماد پیدا کرنا کبھی بہت مشکل لگتا تھا۔ اسی لئے آج اٹل جی کو کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک لوگ آنسو بہاتے ہوئے یاد کررہے ہیں۔ جسمانی طور سے وہ ہمارے بیچ بھلے نہ ہوں، لیکن مجھے ان کی لاشعوری کی حالت یاد آرہی ہے، جب وہ نہ ہنسے، نہ روئے، نہ بولے، نہ مسکرائے، نہ اپنا دُکھ ظاہر کیا، نہ اپنا درد دکھایا اور نہ اپنے آنسو دکھائے۔ سب کچھ پیتے ہوئے لاشعوری کی حالت میں، اس فانی دنیا میں رہتے ہوئے بھی وہ باقی دنیا کے باشندہ ہو گئے تھے۔ایسے اٹل بہاری واجپئی کو پورا ملک ہمیشہ یاد کرے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *