انتہائی پچھڑوں پر داؤں بی جے پی کا نیا ایجنڈا

لوک سبھا انتخابات میںمہا گٹھ بندھن کے چیلنجوںسے نمٹنے کے لیے مودی سرکار نے پوری طرح کمر کس لی ہے۔ اپوزیشن کے چکرویو کو بھیدنے کے لیے اب بی جے پی قیادت والی سرکار’پچھڑا داؤں‘ کھیلنے جارہی ہے۔ مودی – شاہ کی قیادت میںملک کی 52 فیصد پچھڑی ذاتوں کو پسماندہ اور انتہائی پسماندہ میں بانٹنے کا پورا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ سرکار کے اس قدم سے ملک میںایک بار پھر منڈل کمیشن والے سیاسی گھمسان چھڑنے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔
پچھڑی ذاتوں کے ووٹوںپر بی جے پی نے اپنی نظریں تو اترپردیش کے پچھلے اسمبلی انتخابات کے دوران ہی ٹکا دی تھیں لیکن سرکار اب علاقائی رہنماؤں کی اس اجارہ داری کو انجام تک پہنچانے کی تیاری کرنے میںجٹ گئی ہے۔ مودی سرکار کا ماننا ہے کہ مہا گٹھ بندھن کے اثر والی اہم ریاستوں میںاگر پچھڑی ذاتوں کا اتحاد بھید دیا جائے تو 2019 میںبی جے پی کا پرچم ایک بار پھر پکے طور پر لہرایا جاسکتا ہے۔ پچھڑوں کو بانٹنے کی اس شاطرانہ چال کی بنیاد بنائی جارہی ہے، نئے ’پچھڑے ورگ آیوگ‘ کی تازہ رپورٹ کو، جو جلد ہی پارلیمنٹ میںپیش ہونے والی ہے۔

 

 

 

نئے کمیشن کی تشکیل
آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سال پچھڑوںکے لیے نئے کمیشن کی تشکیل پر پارلیمنٹ میںمنہ کی کھاچکی مودی سرکار نے 23 اگست 2017 کو ایک نیا سیاسی داؤں چلا تھا۔ تب مرکزی کابینہ نے فیصلہ لیا تھا کہ دیگر پچھڑے طبقے کی ذاتوں کو ملنے والے ریزرویشن کے فائدے کے جائزے کے لیے ایک نیا کمیشن تشکیل کیا جائے گا۔ یہ کمیشن پچھڑے طبقے کے تحت آنے والی ذاتوں کی ذیلی درجہ بندی پر بھی غور کرے گا۔ کمیشن کی تشکیل کے پیچھے سرکار کی بے چینی اور چھدم منشا کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ کمیشن کو اپنی رپورٹ سونپنے کے لیے صرف بارہ ہفتے کا وقت دیا گیا۔ خبر ہے کہ دو بار مدت میںتوسیع کے بعد بالآخر 31 جولائی کو کمیشن نے اپنی رپورٹ صدر جمہوریہ کو سونپ دی ہے۔
کمیشن کی خدمات کی شرائط میںکہا گیا تھا کہ کمیشن دیگر پچھڑے طبقے کے وسیع زمرے سمیت ذاتوں اور گروپوں کے بیچ ریزرویشن کے فائدوں کی آسان تقسیم کے سبھی نکات پر غور کرے گا۔ اس کے علاوہ کمیشن کو او بی سی کے تحت آنے والی سبھی ذاتوں کی ذیلی درجہ بندی کے لیے عالمی طریقے والا نظام، عمل، کسوٹی اور معیار کا خاکہ تیار کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن سینٹرل لسٹ میںدرج او بی سی کے برابر متعلقہ ذاتوں، گروپوں، ذیلی ذاتوں کی پہچان کرے گا اور ذیلی زمروں میں کلاسفکیشن کرے گا۔ دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جی روہنی کو اس کمیشن کا صدر بنایا گیا ہے جبکہ اینتھروپولوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جے کے بجاج ، ہندوستان کے ر جسٹرار جنرل ، مردم شماری کمشنر اور مرکز کی سماجی انصاف اور امپاورمنٹ وزارت کے جوائنٹ سکریٹری کو ایکس- آفیسو ممبر نامزد کیا گیاہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس کمیشن کی تشکیل بھی آئین کے آرٹیکل 340 کے تحت کی گئی ہے، جس کے تحت منڈل کمیشن نے سماجی تعلیمی طور پر پچھڑی ذاتوں کو سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں27 فیصد ریزرویشن دینے کی سفارش کی تھی۔
بہرحال کمیشن نے سبھی اسٹیک ہولڈرس سے بات چیت کی تھی۔ اپنی لمبی چوڑی قواعد کے دوران تمام اعداد و شمار جٹاکر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کس طرح ریزریشن کا فائدے کا پچھڑوںکے بیچ ہی گزشتہ 25 برسوںسے آسان تقسیم کا کھیل رہا ہے۔سچائی یہ ہے کہ ریزرویشن کی اصلی بندر بانٹ پچھڑوں کے بیچ کی کچھ چنندہ اعلیٰ ذاتیں ہی کر رہی ہیں جبکہ سروس کے کاموں اور دیہی ہنر سے جڑی تمام ذاتیں ابھی بھی جہاں کی تہاں پڑی ہوئی ہیں۔ بی جے پی کا اصل مقصد ان انتہائی پسماندہ ذاتوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی کا نعرہ دے کر ان کی سیاسی نیند کو توڑنا اور انھیں بی جے پی کے حق میںگول بند کرنا ہے۔
اب آئیے، ذرا پچھڑی ذاتوں کے پیچھے چھپی حقیقت کی جانچ کرتے ہیں۔ ملک میں پچھڑی ذاتوں کی پہچان کے لیے تشکیل پہلے ’پچھڑا ورگ آیوگ‘ نے 1955 میںاپنی رپورٹ میںکہا تھا کہ ہندوستان میںکل 2399 پسماندہ ذاتیں ہیں، جن میںسے 837انتہائی پچھڑی ہیں۔ منڈل کمیشن نے مانا تھاکہ ملک میں پچھڑی ذاتوںکی تعداد 3743ہے جو آبادی کی تقریباً 52 فیصد ہے۔

 

 

منڈل کمیشن رپورٹ
1990 میںاس دور کی وی پی سنگھ سرکار نے منڈل کمیشن کی سفارشوں کو جوں کا توں لاگو کردیا تھا۔ حالانکہ دوسرے پچھڑا ورگ آیوگ کے ایک ممبر ایل آر نائک نے اس وقت بھی ریزرویشن کے فائدے کی برابر تقسیم کے لیے پچھڑوںکو دو زمروں درمیانی پچھڑے اور انتہائی پچھڑوں میںکلاسیفائڈ کرنے کا سجھاؤ دیا تھا لیکن سیاسی اسباب سے ان کے اس سجھاؤ کو نظرانداز کردیا گیا۔ بعد میں1992 میںسپریم کورٹ نے اندرا ساہنی بنام حکومت ہند معاملے میںدیے گئے اپنے فیصلے میںصاف کیا کہ اگر مرکزیا کوئی ریاستی سرکار پچھڑے طبقے کو اور انتہائی پچھڑے طبقے کے روپ میں درجہ بندی کرنا چاہے تو ایسا کرنے میںکوئی آئینی اڑچن یا قانونی روک نہیںہے۔ اسی حکم کی آڑ میںملک کی نو ریاستوں آندھرا پردیش، کرناٹک ، بنگال، بہار، مہاراشٹر، تلنگانہ، ہریانہ، جھارکھنڈ او رتمل ناڈو میں پچھڑی ذاتوں کی ذیلی درجہ بندی کی جاچکی ہے۔ اس لیے بی جے پی کا اگلا نشانہ اب اترپردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان جیسی ریاستوں میںپچھڑوںکے بیچ درار پیدا کرکے مہا گٹھ بندھن کی مہم کو کند کرنا ہے۔
سیاسی پنڈتوںکا ماننا ہے کہ پچھڑوں کی ذیلی درجہ بندی مودی سرکار کی انتہائی پچھڑوں کے ووٹ ہتھیانے کی سیاسی پینترے بازی ہے۔ اصل میںسرکار کا ہدف 2019 کا الیکشن ہے۔ بی جے پی دراصل حاشیہ پر جارہی ان انتہائی پچھڑی ذاتوں کے ووٹ بٹورنے کا تانا بانا بن رہی ہے۔ اسی مقصد سے 2015 میں سرکار نے جسٹس ایشورپّا کی قیادت میں ایک ایکسپرٹ کمیٹی تشکیل کی۔ جسٹس ایشورپا اس وقت پچھڑا ورگ آیوگ کے چیئرمین تھے۔ 2 مارچ 2015 کو سونپی اپنی رپورٹ میںایشورپا کمیٹی نے پچھڑوں کو تین زمروں میںبانٹنے کی سفارش کی۔ یہ زمرے تھے، پہلا انتہائی پچھڑا جس میں’ومکت‘ ذاتیں تھی۔ دوسرا، انتہائی پچھڑا جس میںکامگار اور ہنرمند ذاتیں تھیں اور تیسرے زمرے میں باقی پچھڑی ذاتیںجو کھیتی اور پشو پالن جیسے کاموں میںتھیں۔ یادو اور کرمی جیسی ذاتیں اسی تیسری زمرے میںکلاسیفائڈ کی گئیں۔
مانا جارہا ہے کہ اس ذیلی درجہ بندی سے ملک کی پچھڑی ذاتیںدو گروپوںمیں بٹ جائیںگی۔ ایک ایبل بیک ورڈ، جس میںیادو، کرمی جیسی کچھ چنندہ ذاتیں ہوںگی اور دوسرا انتہائی پچھڑا جس میںلوہار، بڑھئی، موریہ، کشواہا، کاچھی، کہار، ملاح، نائی جیسی تمام وہ ذاتیں شامل ہوںگی جو ابھی تک ریزرویشن کے فائدے سے تقریباً محروم رہی ہیں۔ بی جے پی کی نظر ان ہی 22 فیصد انتہائی پچھڑی ذاتوں کے ووٹوںپر ہے۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن اور اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میںبی جے پی ان انتہائی پچھڑوں کی حمایت جٹانے میںکامیاب رہی تھی۔
دراصل بی جے پی پچھڑوں کو بانٹنے کی اپنی ترپ چال سے ایک ساتھ دو نشانے سادھ رہی ہے۔ اس ترپ چال کا پہلا مقصد جہاںپچھڑوں میںپھوٹ ڈال کر مہا گٹھ بندھن کے غبارے کی ہوا نکالنا ہے، وہیں دوسرا اہم مقصد ہریانہ، گجرات اور مہاراشٹر میںریزرویشن کی مانگ کر رہے جاٹوں،پاٹیداروں اور مراٹھوں کے آندولن کی دھار کند کرنا بھی ہے۔ ابھی قیاس لگائے جارہے ہیںکہ بی جے پی 2019 کا الیکشن رام مندر کے مقدمے میںسپریم کورٹ کے فیصلے پر بکھیڑا کرکے لڑے گی لیکن سچائی یہی ہے کہ بی جے پی کا اصلی ایجنڈا انتہائی پچھڑوں پر داؤںلگا کر 2019 کی جنگ فتح کرنا ہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *